زندہ ہے ضیاء، زندہ ہے
"`
بہاولپور کی فضا میں پاک وَن کے حادثے کو تقریباً چار دہائیاں گزرنے کو ہیں، لیکن جنرل محمد ضیاء الحق کا تیار کردہ آئینی ڈھانچہ آج بھی پاکستان کے نظامِ حکومت میں گہری چھاپ رکھتا ہے۔
جنرل محمد ضیاء الحق1988میں طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے، مگر ان کی سیاسی اور آئینی میراث محض ایک دھندلی تاریخی یاد نہیں۔ اس میراث کے کئی حصے آج بھی آئینی اور قانونی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ ان میں نمایاں ترین آرٹیکل 270-A ہے، جس نے ضیاء دور کے متعدد صدارتی احکامات، مارشل لا ریگولیشنز، مارشل لا آرڈرز اور دیگر قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔1985کی آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل270-Aکو موجودہ شکل دی گئی۔ اس کے تحت5جولائی1977سے آرٹیکل کے نافذ ہونے تک جاری کیے گئے متعدد احکامات اور قوانین کو آئینی تحفظ دیا گیا، یوں ضیاء دور کے کئی قانونی اقدامات کو بعد کی عدالتی جانچ سے ایک خاص حد تک تحفظ حاصل ہوا۔
بعد کی جمہوری پارلیمانوں نے آئینی نظام میں اہم تبدیلیاں ضرور کیں۔ خصوصاً اٹھارہویں ترمیم نے صدارتی اختیارات کے توازن سمیت کئی معاملات میں نمایاں اصلاحات کیں، لیکن ضیاء دور کی آئینی میراث کے ہر پہلو کو ختم یا ازسرِنو جانچنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یوں اس دور کے کئی قانونی اثرات پاکستان کے ریاستی اور سیاسی نظام میں برقرار رہے۔
ضیاء دور اور توہینِ مذہب کے قوانین
اس آئینی میراث کا ایک اہم اور متنازع پہلو پاکستان کے توہینِ مذہب سے متعلق قوانین کی بعد کی تاریخ ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں پاکستان پینل کوڈ میں مذہبی جرائم سے متعلق متعدد سخت دفعات متعارف یا مزید سخت کی گئیں۔
بالخصوص دفعہ 295-B کے تحت قرآنِ مجید کی بے حرمتی کے لیے عمر قید کی سزا مقرر کی گئی، جبکہ دفعہ 295-C کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات سے متعلق انتہائی سخت سزا متعارف کرائی گئی۔
آرٹیکل270-Aنے ضیاء دور کے متعدد اقدامات کو آئینی توثیق دی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ قوانین ہمیشہ کے لیے ناقابلِ ترمیم ہو گئے۔ پارلیمان اپنے آئینی اختیار کے تحت قوانین میں ترمیم یا انہیں منسوخ کر سکتی ہے۔
قانون سے باہر بنتا ہوا خوف
آج توہینِ مذہب کے الزامات کا اثر صرف عدالتی کمروں تک محدود نہیں۔ کئی معاملات میں الزام، مقدمے اور عدالتی عمل سے پہلے ہی معاشرتی دباؤ، دھمکیوں اور ہجومی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس صورتحال میں بے بنیاد یا غیر ثابت شدہ الزامات بھی خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل، اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس عارف اقبال بھٹی کے قتل جیسے واقعات پاکستان میں مذہبی الزامات کے گرد پیدا ہونے والی شدت پسندی اور قانون سے ماورا تشدد کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے واقعات میں الزام اور ثبوت کے درمیان فرق، قانونی عمل کی اہمیت اور ریاست کی ذمہ داری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
جب کسی الزام کے نتیجے میں عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی ہجوم اپنا فیصلہ صادر کرنے لگے، ٹرائل جج دباؤ کا شکار ہوں اور پولیس افسران خوف کے ماحول میں کام کریں تو قانون کی حکمرانی شدید متاثر ہوتی ہے۔ انصاف کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی الزام کا فیصلہ شفاف قانونی عمل، ثبوت اور عدالت کے ذریعے ہو، نہ کہ ہجومی طاقت کے ذریعے۔
ضیاء کے سائے سے نکلنے کا سوال
تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان آج بھی اس سوال سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکا کہ ضیاء الحق کے دور میں بننے والے آئینی اور قانونی ڈھانچے کے کون سے حصے موجودہ جمہوری ریاست کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں اور کن میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
محض حکومتوں کی تبدیلی یا معمول کے انتخابی عمل سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان ضیاء دور سے ورثے میں ملنے والے قوانین اور آئینی تحفظات کا سنجیدہ، شفاف اور آئینی جائزہ لے، تاکہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اگر پاکستان واقعی ایک مضبوط جمہوری اور آئینی ریاست بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی تاریخ کے مشکل ابواب سے نظریں نہیں چرانا ہوں گی۔ ضیاء الحق کا جسمانی وجود چار دہائیاں پہلے ختم ہو گیا، مگر اس دور کے کئی سیاسی و قانونی اثرات آج بھی موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی قیادت ان اثرات کا سامنا کرنے اور ضرورت پڑنے پر اصلاح کرنے کی آئینی جرات دکھا سکے گی؟
"`
ضیاء الحق گزر گئے، مگر ان کے دور کی کئی آئینی و قانونی نشانیاں آج بھی موجود ہیں۔ اصل سوال ان نشانیوں کو سمجھنے، پرکھنے اور جہاں ضروری ہو اصلاح کرنے کا ہے۔
”
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

