سفارتی تنازع
امریکی سفیر کے کشمیر سے متعلق ریمارکس پر سفارتی ہلچل؛ پاکستان کا امریکہ سے شدید احتجاج
بھارت میں امریکی سفیر کے کشمیر سے متعلق بیان پر پاکستان کا امریکہ کو ڈیمارش
سری نگر/اسلام آباد، 19–20 اگست 2026
"`
بھارت میں امریکی سفیر کے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران دیے گئے ایک بیان نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان شدید سفارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی سفیر نے جموں و کشمیر کو ’’بھارت کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا، جس کے بعد پاکستان نے اسلام آباد میں اعلیٰ ترین امریکی سفارتی نمائندے کو دفترِ خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
امریکی سفیر سرجیو گور، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے بدھ کے روز سری نگر کے اپنے پہلے دورے کے دوران یہ ریمارکس دیے۔ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے گور نے کہا:
’’جیسا کہ سب جانتے ہیں، میں بھارت میں امریکی سفیر ہوں اور یہ بھارت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی لیے میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ یہ ایک ناقابلِ یقین حد تک خوبصورت جگہ ہے اور یہاں آ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔‘‘
گور نے خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال میں بہتری کو بھی سراہا اور کہا کہ نئی دہلی اور مقامی حکومت نے علاقے کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ’’ناقابلِ یقین اقدامات‘‘ کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی طویل عرصے سے نافذ لیول 4 ’’سفر نہ کریں‘‘ کی سفری ہدایت کا دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے، تاہم انہوں نے فوری طور پر اس پالیسی میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔
یہ دورہ کئی برسوں میں کسی موجودہ امریکی سفیر کا خطے کا پہلا علیحدہ دورہ تھا، جبکہ کسی امریکی ایلچی اور موجودہ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ کے درمیان ملاقات بھی15سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار ہوئی۔
پاکستان کا سخت ردِعمل
چند گھنٹے بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور انہیں ’’سخت ڈیمارش‘‘ دیا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان میں پاکستان نے امریکی سفیر گور کی جانب سے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کی ’’سخت مذمت اور دوٹوک الفاظ میں مسترد‘‘ کیا۔ دفترِ خارجہ نے ان ریمارکس کو ’’حقائق کے منافی‘‘ اور ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بیان کشمیر کے تنازع پر امریکہ کے طویل عرصے سے جاری مؤقف سے متصادم ہے۔
اسلام آباد نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر ایک ’’بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ‘‘ ہے، جس کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے کی جانی چاہیے۔
پاکستانی حکام نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کے سرکاری اور عوامی بیانات اس علاقے کی متنازع حیثیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔
پس منظر اور سفارتی اثرات
امریکی سفیر کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ پورا خطہ، بشمول وہ علاقے جو پاکستان کے زیرِ انتظام ہیں، بھارت کا اٹوٹ انگ ہیں۔ پاکستان اسے بدستور ایک متنازع مسئلہ قرار دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گور کے دورے اور ان کے بیانات کو نئی دہلی میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے لیے ایک مثبت اشارے کے طور پر سراہا گیا ہے، تاہم ان ریمارکس سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ عرصے میں بہتر ہوتے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
کشمیر کا مسئلہ آج بھی اس قدر حساس ہے کہ امریکہ کے ساتھ بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں ایک مختصر سفارتی بیان بھی بڑے ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
تازہ سفارتی تبادلہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب بھی انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے، جبکہ بھارت اور پاکستان دونوں امریکہ کے ساتھ اپنے پیچیدہ اور اہم تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
"`
"`

