• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » عبد الحی السید کو اوشا وینس پر سوشل میڈیا پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا
امریکہ

عبد الحی السید کو اوشا وینس پر سوشل میڈیا پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 24, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

عبد الحی السید کو اوشا وینس اور نٹالی ہارپ پر سوشل میڈیا پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا

مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار پر نسل پرستی اور جنس پرستی کے الزامات، جے ڈی وینس کے ساتھ جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ کے امیدوار ڈاکٹر عبد الحی السید کو ہفتے کے اختتام پر سوشل میڈیا پر کی جانے والی دو پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پوسٹس میں نسل پرستی اور جنس پرستی کا رنگ نمایاں تھا، جس کے باعث نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ان کا جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب جے ڈی وینس نے اوہائیو میں ایک ریلی کے دوران السید کے ماضی میں شریعت سے متعلق دیے گئے بیانات پر تنقید کی۔ وینس نے کہا کہ وہ اپنے دادا، جنہیں وہ محبت سے ’’پاپا‘‘ کہتے ہیں، کو یہ بتانا چاہیں گے کہ محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرنے والا ایک شخص نہ صرف شریعت کی حمایت کرتا ہے بلکہ اس کے ناقدین کو سفید فام بالادستی کے حامی بھی قرار دیتا ہے۔

عبد السید کا ایکس پر جواب:
’’تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ جے ڈی اوشا کو اپنے ساتھ ماضی میں لے جا کر پاپا سے ملوانے جا رہا ہے، یا نہیں۔۔۔‘‘

ناقدین نے فوری طور پر السید پر الزام عائد کیا کہ ان کا یہ تبصرہ نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ اوشا وینس کی بھارتی نسلی شناخت کو نشانہ بنانے کی کوشش تھا۔ ناقدین کے مطابق اس جملے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وینس کے سفید فام وسط مغربی امریکی دادا نے اوشا وینس کو قبول نہ کیا ہوتا۔

ریپبلکن رکنِ کانگریس برینڈن گِل نے سوال اٹھایا: ’’عبدالرحمن محمد السید یہ فرض کیوں کر رہے ہیں کہ تمام سفید فام وسط مغربی دادا نسل پرست ہوتے ہیں؟‘‘

صحافی ایملی شریڈر نے السید کو ’’نسل پرست اور قابلِ نفرت شخص‘‘ قرار دیا، جبکہ فلوریڈا کے سابق ریاستی رکنِ اسمبلی بین گریبر نے لکھا: ’’اب السید امریکی رہنماؤں کی بیویوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں؟ کیا آدمی ہے۔‘‘

نٹالی ہارپ بھی السید کی تنقید کی زد میں آگئیں

بعد ازاں عبد السید نے اپنی توجہ وائٹ ہاؤس کی معاون نٹالی ہارپ کی جانب مبذول کر دی۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے السید کو سوشلسٹ اسٹریمر حسن پیکر کے ساتھ انتخابی مہم چلانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ حسن پیکر ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ’’9/11 کا مستحق تھا‘‘۔

السید نے نٹالی ہارپ سے متعلق لکھا:
’’نٹالی، میرا خیال ہے کہ اس نے اس ہفتے آئی پیڈ کچھ زیادہ ہی استعمال کر لیا ہے۔ اسے آرام کی ضرورت ہے۔‘‘

اس تبصرے کو بھی بڑے پیمانے پر جنس پرستانہ طنز قرار دیا گیا، کیونکہ ناقدین کے مطابق اس میں ہارپ کو ایک پیشہ ور وائٹ ہاؤس معاون کے بجائے کسی نگہداشت کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔

ریپبلکن سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر میٹ وٹلاک نے ان پوسٹس کو ’’خراب انتخابی مہم، خراب امیدوار اور خراب سیاسی جبلت‘‘ کی علامت قرار دیا۔

مشی گن کی سابق گورنری امیدوار ٹیوڈر ڈکسن نے کہا: ’’وہ اوشا کو نشانہ بناتا ہے۔ وہ نٹالی ہارپ کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ بزدل ان خواتین کو نشانہ بناتا ہے جو اس کی سیاسی لڑائی کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر وہ کانگریس کے ایوانوں میں خواتین عملے کے ساتھ کام کرے گا تو ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا۔‘‘

عبد السید کی یہ پوسٹس ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب وہ پہلے ہی اپنی انتخابی مہم کے دوران شریعت، اسرائیل، خارجہ پالیسی اور بعض متنازع سیاسی شخصیات کے ساتھ روابط کے باعث قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اوشا وینس اور نٹالی ہارپ سے متعلق حالیہ تبصروں نے ان کے ناقدین کو ان کے سیاسی انداز، زبان اور انتخابی حکمتِ عملی پر مزید سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

نیویارک اردو — بین الاقوامی و امریکی سیاسی امور

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟ آخری قسط
Next Article امریکہ نے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا مالیاتی محاذ کھول دیا
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.