• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امریکہ⁦:⁩پناہ کے دعویداروں کے⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزے خطرے میں
امریکہ

امریکہ⁦:⁩پناہ کے دعویداروں کے⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزے خطرے میں

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 25, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
امریکہ⁦|⁩امیگریشن

ٹرمپ انتظامیہ پناہ کے لیے درخواست دینے والے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کی تیاری میں

واشنگٹن — خصوصی رپورٹ
امریکی حکومت ایسے غیر ملکی شہریوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی ہے
جنہوں نے امریکہ پہنچنے کے بعد پناہ کی درخواست دی یا اس وقت سیاسی پناہ کے دعوے کی پیروی کر رہے ہیں۔
اس اقدام سے تقریباً دو لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہوا تو
یہ امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی بن سکتی ہے۔

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ امریکہ میں پناہ کی درخواست دینے والے یا
پناہ کے دعوے کی پیروی کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے
کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی نشاندہی کر رہا ہے
جنہیں⁦2016⁩سے⁦2026⁩کے دوران⁦B-1⁩کاروباری یا⁦B-2⁩سیاحتی ویزے جاری کیے گئے اور جنہوں نے
بعد میں امریکہ میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دائر کی یا اس وقت اپنے پناہ کے دعوے کی
پیروی کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی دستاویزات اور امریکی حکام کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا
ہے کہ اس کارروائی کا دائرہ کار تقریباً دو لاکھ افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم محکمہ خارجہ نے
متاثر ہونے والے افراد کی ممکنہ تعداد کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

ویزا منسوخی کا عمل مرحلہ وار ہوگا

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حکام ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر ایسے
غیر تارک وطن ویزوں کی نشاندہی اور منسوخی کر رہے ہیں جن کے حامل افراد امریکہ میں
مختصر مدت کے لیے آنے والے سیاح یا کاروباری مسافر کی حیثیت سے داخل ہوئے، لیکن بعد میں
مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دائر کردی۔

ٹومی پیگوٹ کے مطابق ویزوں کی منسوخی کا عمل مسلسل جاری رہے گا اور متاثر ہونے والے افراد
کی مجموعی تعداد حتمی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔

اہم نکتہ:
ویزا منسوخ ہونے کا مطلب لازماً فوری ملک بدری نہیں ہوگا۔ جن افراد کے پناہ کے مقدمات زیرِ
سماعت ہوں گے وہ اپنے دعووں کی پیروی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم وہ⁦B-1⁩یا⁦B-2⁩ویزے کے تحت
کاروباری یا سیاحتی مسافر کی حیثیت سے حاصل کردہ امیگریشن اسٹیٹس سے محروم ہو جائیں گے۔

پناہ کے نظام کے مبینہ غلط استعمال پر تنقید

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے امیگریشن نظام کے
مبینہ غلط استعمال پر تنقید کی ہے۔

لینڈاؤ کے مطابق امریکی امیگریشن نظام ایک عرصے سے ایسے پناہ کے دعووں کی بڑی تعداد سے
متاثر رہا ہے جنہیں حکومت غیر سنجیدہ یا غیر ضروری سمجھتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی
پناہ کا نظام امیگریشن قوانین سے بچنے کے لیے متبادل راستے کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ

یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں امیگریشن کے نفاذ کو مزید سخت کرنے کی
وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ نے ویزا درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال سخت کرنے، بعض درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا
اکاؤنٹس کا جائزہ لینے، مالی ضمانتوں یا بانڈ کی شرائط نافذ کرنے اور بعض ممالک کے شہریوں
پر اضافی پابندیاں عائد کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی ایسے معاملات میں ایک لاکھ پچھتر ہزار سے
زیادہ ویزے منسوخ کر چکی ہے جن میں مبینہ مجرمانہ سرگرمی، ویزا قوانین کی خلاف ورزی یا
سیکیورٹی سے متعلق خدشات شامل تھے۔ انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ سمیت امیگریشن کے دیگر
راستوں کی بھی سخت نگرانی شروع کی ہے۔

2016 سے⁦2026⁩تک جاری کیے گئے⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزے زیرِ جائزہ

مجوزہ کارروائی میں⁦2016⁩سے⁦2026⁩کے دوران جاری کیے گئے⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزے شامل ہوں گے۔⁦B-1⁩ویزا عموماً کاروباری سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ⁦B-2⁩ویزا سیاحت، رشتہ داروں
سے ملاقات اور طبی علاج جیسے مختصر مدتی مقاصد کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔

موجودہ ویزا درخواست گزاروں کو عام طور پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کا امریکہ میں قیام
عارضی ہے اور وہ اپنے قیام کے اختتام پر ملک چھوڑ دیں گے۔ انہیں یہ بھی ظاہر کرنا ہوتا ہے
کہ وہ ویزا کی شرائط کے برخلاف مستقل قیام اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی شخص عارضی سیاحتی یا کاروباری ویزے پر امریکہ میں داخل
ہونے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست دے کر مستقل قیام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے
ویزا اور پناہ، دونوں نظاموں کی سالمیت متاثر ہوتی ہے۔

محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی میں رابطہ

محکمہ خارجہ کی دستاویزات کے مطابق حکومت نے موجودہ⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزا رکھنے والے افراد کی
جانچ اس وقت شروع کی جب اسے امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کی جانب سے پناہ کی درخواستوں
سے متعلق معلومات موصول ہوئیں۔

اس معلومات کی بنیاد پر متعلقہ حکام ایسے افراد کی شناخت کر رہے ہیں جنہوں نے عارضی
کاروباری یا سیاحتی حیثیت سے امریکہ میں داخل ہونے کے بعد پناہ کی درخواست دائر کی۔

قانونی چیلنجز کا امکان

مجوزہ پالیسی کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کا وسیع امکان ہے۔ امیگریشن اور شہری حقوق
سے وابستہ تنظیمیں اس نوعیت کی سخت کارروائیوں کے حوالے سے پہلے بھی مناسب قانونی طریقۂ
کار اور آزادیٔ اظہار سے متعلق خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ویزوں کی منسوخی ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر کرنے کے بجائے
مرحلہ وار کی جانے کی توقع ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ آئندہ ہفتوں میں اس پالیسی کے باضابطہ خدوخال کا اعلان کر سکتا ہے،
تاہم اس سے قبل منصوبے میں تبدیلی بھی ممکن ہے یا عدالت اسے روک سکتی ہے۔

پالیسی کا بنیادی مؤقف

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ⁦B-1⁩اور⁦B-2⁩ویزے عارضی قیام کے لیے جاری کیے جاتے ہیں اور
انہیں امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے سیاسی پناہ کے راستے کے طور پر استعمال
نہیں کیا جانا چاہیے۔

انتظامیہ کے مطابق عارضی ویزے پر امریکہ آنے کے بعد پناہ کی درخواستوں کے ذریعے مستقل قیام
اختیار کرنے کی کوشش ویزا نظام اور سیاسی پناہ کے نظام دونوں کی قانونی ساخت اور مقصد کو
متاثر کرتی ہے۔

دوسری جانب، قانونی ماہرین اور امیگریشن حقوق کے حامیوں کی جانب سے اس اقدام کے قانونی
جواز، مناسب قانونی کارروائی اور متاثرہ افراد کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے جانے کا
امکان ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleمین میں یہودی سمر کیمپ کے قریب فائرنگ؛ نیویارک پولیس کا یہودی اداروں کے تحفظ کا عزم
Next Article پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا خواہاں، وزیراعظم
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.