• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کمرہ نمبر ایک
ایشیا

کمرہ نمبر ایک

تحریر احمد نعیم خان
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 26, 2026Updated:اگست 26, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
یادداشتیں

کمرہ نمبر ایک

تحریر: احمد نعیم خان

"`

ایک کمرہ، ایک عہد، اور بچھڑتے ہوئے دوست
تین دہائیوں بعد بھی ایک چھوٹے سے کمرے میں گزری راتیں، بے ساختہ قہقہے، دوستی اور رخصت ہوجانے والے دوست یادداشت میں اسی طرح زندہ ہیں۔

نوّے کی دہائی کا وسط تھا، اور میں بھی اُن میں سے ایک تھا۔

مال روڈ اور پرانی انارکلی کی شمال مشرقی نکڑ پر، جہاں نیچے پاک ٹی ہاؤس میں شاعر اور دانشور دن کو اپنی چائے کی پیالیوں پر ادب کے فیصلے سناتے، اوپر وائی ایم سی اے⁦(YMCA)⁩کی عمارت میں رات میں ایک اور ہی عدالت لگتی تھی — کمرہ نمبر ایک کی عدالت، جہاں فیصلے لطیفوں پر ہوتے۔

کمرہ چھوٹا سا، سادہ سا⁦:⁩ایک چارپائی، دو کرسیاں، ایک سٹڈی ٹیبل۔ مگر جب ہم سب اس میں سما جاتے تو وہ کمرہ کسی کشادہ ہال سے کم نہ لگتا۔

رات دو بجے
جب شہر سو چکا ہوتا تھا، ہماری اصل زندگی شروع ہوتی تھی۔

رات دو بجے کا وقت، جب شہر سو چکا ہوتا اور صرف اخبار کے دفتر جاگتے، ہماری اصل زندگی شروع ہوتی۔ فرنٹیئر پوسٹ اور بعد میں دی نیوز کے کام سے فارغ ہو کر، میں، بدر، حراج، واجد، ندیم، جبار اور شبیر تھکے ہارے کمرہ نمبر ایک کی طرف کھنچے چلے آتے۔

راستے میں ایک بوتل دارو اور چند ڈبیاں سگریٹ کی۔ کمرے کا میزبان بدر تھا، اور یہی اس کی خوبی تھی کہ وہ خود نہ سگریٹ کو ہاتھ لگاتا نہ دارو کو۔ باقی سب، میں سمیت، بھلے شاہ کے ماننے والے، جنہیں لوگ کافر کافر پکارتے، اور ہم بھری محفل میں قہقہہ لگا کر جواب دیتے — تو آہو، اہو آکھ۔

جبار کے بغیر محفل ادھوری تھی

یہ محفل جبار کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی — عبدالجبار۔ وہ ادبی آدمی تھا، سراپا ذوق، جس کی زبان پر ہر وقت کوئی نہ کوئی شعر، کوئی نہ کوئی مشہور قول سجا رہتا۔ ہنس مکھ اور سنجیدہ۔

اُس دھوئیں اور دارو سے بھری محفل میں صرف دو لوگ ایسے تھے جنہوں نے کبھی سگریٹ کو ہاتھ لگایا نہ دارو کو چکھا — ایک بدر، اور دوسرا جبار۔ دونوں میزبان کی طرح، دونوں تماشائی کی طرح، ہماری رنگینیوں کے درمیان بیٹھے اپنی سادگی پر قائم رہتے۔

جبار اپنا نشہ خود اپنے الفاظ اور اپنی شاعری میں کرتا تھا، اور ہمیں بھی اسی نشے میں شریک کر لیتا۔

غربت، ایک بوتل اور بے حساب قہقہے

غربت اُس دور کی سب سے بڑی سچائی تھی۔ دارو کا دیدار ہفتے میں مشکل سے ایک آدھ بار نصیب ہوتا، اور اُس ایک بوتل پر اتنے سارے پیاسوں کا حق ہوتا کہ بانٹنا خود ایک فن بن جاتا۔

اور جیسے آگ کی بھنک شہد کی مکھیوں کو کھینچ لاتی ہے، حفیظ اور رضوان جیسے دوستوں کو بھی خبر ہو ہی جاتی کہ آج وائی ایم سی اے میں محفل سجی ہے، اور وہ عین وقت پر دروازے پر آ ٹپکتے۔

اصل خزانہ دراصل دارو نہ تھا۔

اصل خزانہ وہ دھواں تھا، وہ لطیفے تھے، اور وہ بے ساختہ قہقہے تھے۔

اصل خزانہ دراصل دارو نہ تھا۔ اصل خزانہ وہ دھواں تھا جو کمرے کی چار دیواری میں معلق رہتا، اور وہ لطیفے جو دن بھر کی خبروں سے، سیاست دانوں کی حماقتوں سے، اور خود ہماری اپنی زندگیوں کی مضحکہ خیزیوں سے کشید ہوتے۔

قہقہے ایسے بلند ہوتے کہ گویا رات کی خاموشی کو چیلنج دے رہے ہوں۔ صحافت کی سنجیدگی، ایڈیٹر کی ڈانٹ، ڈیڈ لائن کا دباؤ — یہ سب دفتر کے حصے میں رہتا۔ رات کمرہ نمبر ایک کی تھی، اور اس کمرے کا قانون صرف ایک تھا:

باہر کی دنیا کی سنجیدگی اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں رکھتی۔

وقت نے سب کو بکھیر دیا

تیس سے زیادہ برس بیت چکے، اور جیسے وقت نے ہمیں بھی اُسی طرح دنیا بھر میں بکھیر دیا جیسے ہم کبھی اُس چھوٹے سے کمرے میں سمٹے ہوئے تھے۔

بدر ہالینڈ گیا اور پھر برطانیہ جا بسا۔ واجد آج کل واشنگٹن میں ہے۔ حراج اور شبیر اب بھی لاہور میں ہیں، شاید اُسی مال روڈ کے قریب کہیں۔ رضوان اور میں کینیڈا آ گئے۔

ندیم جاپان چلا گیا، مگر برسوں سے اُس کی کوئی خبر نہیں، رابطہ کہیں راستے میں گم ہو گیا۔

حفیظ چند سال پہلے ہمیں چھوڑ گیا، ہمیشہ کے لیے۔ اور جبار بھی چند سال پہلے ہی رخصت ہوا، ابھی تک یقین پوری طرح نہیں آیا۔

وہی جبار جس کی زبان پر ہر وقت شعر رہتا، آج خود ایک نظم کی طرح ہماری یادوں میں رہ گیا ہے۔

اتنی دوریاں، اتنی خاموشیاں، اتنے خالی پن —

مگر کمرہ نمبر ایک آج بھی یادداشت میں جوں کا توں کھڑا ہے۔

اتنی دوریاں، اتنی خاموشیاں، اتنے خالی پن، مگر وہ کمرہ، اپنی اکلوتی چارپائی، اپنی دو کرسیوں، اپنے دھوئیں بھرے فضا کے ساتھ، آج بھی جوں کا توں یادداشت میں کھڑا ہے۔

شاید ایسا ایک کمرہ ہر انسان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں ضرور آتا ہے — عمر کے اُس حصے کی نشانی جہاں دوستی بےغرض ہوتی ہے، ہنسی بےساختہ، اور مستقبل کی فکریں ابھی اتنی بھاری نہیں ہوئی ہوتیں۔

حال ہی میں واجد نے جاوید اختر کی آواز میں ایک نظم بھیجی، جس میں وہ اپنی زندگی کے ایسے ہی ایک کمرے کو یاد کرتے ہیں — ایک ایسا کمرہ جو محض اینٹوں اور لکڑی کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ماں کی گود کی طرح مہربان، ایک ایسا ساتھی جو خاموشی سے سب کچھ سنتا اور سمجھتا تھا۔

نظم میں وہ کرسی، وہ آئینہ، وہ الماری، وہ تکیہ، سب اپنی اپنی شخصیت رکھتے ہیں، اور آخر میں وہ اعتراف کہ آج کا گھر خوبصورت سہی، مگر وہ پرانا کمرہ بولتا تھا۔

یہی بات کمرہ نمبر ایک کو بھی سچ کر دکھاتی ہے۔ ہم جہاں بھی گئے، جتنے بھی آسودہ ہوئے، وہ پہلا کمرہ، وہ پہلی دوستیاں، وہ سگریٹ کا دھواں اور وہ چند لطیفے، دل کے کسی گوشے میں چراغ کی طرح جلتے رہتے ہیں۔

زندگی آگے بڑھتی جاتی ہے، دوست دنیا کے کونے کونے میں بکھر جاتے ہیں، کچھ خاموشی سے چلے بھی جاتے ہیں — مگر یادداشت کبھی کبھار پیچھے مڑ کر اُسی کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا لیتی ہے، اور کمرہ، جیسے ہمیشہ سے منتظر تھا، آج بھی دروازہ کھول دیتا ہے۔

وہ کمرہ یاد آتا ہے

میں جب بھی
زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کر
میں جب بھی
دوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کر
میں سب سے لڑ کے خود سے ہار کے
جب بھی اس اک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہ
وہ بے حد مہرباں کمرہ
جو اپنی نرم مُٹّھی میں مجھے ایسے چھُپا لیتا تھا
جیسے کوئی ماں
بچّے کو آنچل میں چھپا لے
پیارے سے ڈانٹے
یہ کیا عادت ہے
جلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تم

وہ کمرہ یاد آتا ہے

دبیز اور خاصا بھاری
کچھ ذرا مشکل سے کھُلنے والا وہ شیشم کا دروازہ
کہ جیسے کوئی اکّھڑ باپ
اپنے کھُردرے سینے میں
شفقت کے سمندر کو چھُپائے ہو

وہ کرسی
اور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کی
وہ دونوں
دوست تھیں میری

وہ اک گستاخ منہ پَھٹ آئینہ
جو دل کا اچھا تھا

وہ بے ہنگَم سی الماری
جو کونے میں کھڑی
اک بوڑھی انّا کی طرح
آئینے کو تنبیہ کرتی تھی

وہ اک گلدان
ننّھا سا
بہت شیطان
ان دونوں پہ ہنستا تھا

دریچے
یا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹ
اور دریچے پر جھکی وہ بیل
کوئی سبز سرگوشی

کتابیں
طاق میں اور شیلف پر
سنجیدہ استانی بنی بیٹھیں
مگر سب منتظر اس بات کی
میں ان سے کچھ پوچھوں

سرہانے
نیند کا ساتھی
تھکن کا چارہ گر
وہ نرم دل تکیہ
میں جس کی گود میں سر رکھ کے
چھت کو دیکھتا تھا

چھت کی کَڑیوں میں
نجانے کتنے افسانوں کی کَڑیاں تھیں

وہ چھوٹی میز پر
اور سامنے دیوار پر
آویزاں تصویریں
مجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیں
مسکراتی تھیں

انھیں شک بھی نہیں تھا
ایک دن
میں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گا
میں اک دن یوں بھی جاؤں گا
کہ پھر واپس نہ آؤں گا

میں اب جس گھر میں رہتا ہوں
بہت ہی خوبصورت ہے
مگر اکثر یہاں خاموش بیٹھا یاد کرتا ہوں

وہ کمرہ بات کرتا تھا

جاوید اختر
یادداشت
احمد نعیم خان جاوید اختر
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleعبدال السید کا فاکس نیوز پرقانونِ شریعت کا دفاع؛ مشی گن سینیٹ دوڑ میں شدید ردعمل
Next Article پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان اہم اسٹریٹجک پل ہے⁦:⁩سیما سنگپتا
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

آمریت کا جبر اور تنہا مزاحمت

نومبر 1, 2026
فیچرڈ

جب بینائی جرم ٹھہری

اکتوبر 30, 2026
ایشیا

گلگت بلتستان⁦:⁩روزانہ⁦15⁩ارب کا سونا چوری ہونے کا انکشاف 

اکتوبر 28, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.