کمرہ نمبر ایک
"`
تین دہائیوں بعد بھی ایک چھوٹے سے کمرے میں گزری راتیں، بے ساختہ قہقہے، دوستی اور رخصت ہوجانے والے دوست یادداشت میں اسی طرح زندہ ہیں۔
نوّے کی دہائی کا وسط تھا، اور میں بھی اُن میں سے ایک تھا۔
مال روڈ اور پرانی انارکلی کی شمال مشرقی نکڑ پر، جہاں نیچے پاک ٹی ہاؤس میں شاعر اور دانشور دن کو اپنی چائے کی پیالیوں پر ادب کے فیصلے سناتے، اوپر وائی ایم سی اے(YMCA)کی عمارت میں رات میں ایک اور ہی عدالت لگتی تھی — کمرہ نمبر ایک کی عدالت، جہاں فیصلے لطیفوں پر ہوتے۔
کمرہ چھوٹا سا، سادہ سا:ایک چارپائی، دو کرسیاں، ایک سٹڈی ٹیبل۔ مگر جب ہم سب اس میں سما جاتے تو وہ کمرہ کسی کشادہ ہال سے کم نہ لگتا۔
رات دو بجے کا وقت، جب شہر سو چکا ہوتا اور صرف اخبار کے دفتر جاگتے، ہماری اصل زندگی شروع ہوتی۔ فرنٹیئر پوسٹ اور بعد میں دی نیوز کے کام سے فارغ ہو کر، میں، بدر، حراج، واجد، ندیم، جبار اور شبیر تھکے ہارے کمرہ نمبر ایک کی طرف کھنچے چلے آتے۔
راستے میں ایک بوتل دارو اور چند ڈبیاں سگریٹ کی۔ کمرے کا میزبان بدر تھا، اور یہی اس کی خوبی تھی کہ وہ خود نہ سگریٹ کو ہاتھ لگاتا نہ دارو کو۔ باقی سب، میں سمیت، بھلے شاہ کے ماننے والے، جنہیں لوگ کافر کافر پکارتے، اور ہم بھری محفل میں قہقہہ لگا کر جواب دیتے — تو آہو، اہو آکھ۔
جبار کے بغیر محفل ادھوری تھی
یہ محفل جبار کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی — عبدالجبار۔ وہ ادبی آدمی تھا، سراپا ذوق، جس کی زبان پر ہر وقت کوئی نہ کوئی شعر، کوئی نہ کوئی مشہور قول سجا رہتا۔ ہنس مکھ اور سنجیدہ۔
اُس دھوئیں اور دارو سے بھری محفل میں صرف دو لوگ ایسے تھے جنہوں نے کبھی سگریٹ کو ہاتھ لگایا نہ دارو کو چکھا — ایک بدر، اور دوسرا جبار۔ دونوں میزبان کی طرح، دونوں تماشائی کی طرح، ہماری رنگینیوں کے درمیان بیٹھے اپنی سادگی پر قائم رہتے۔
جبار اپنا نشہ خود اپنے الفاظ اور اپنی شاعری میں کرتا تھا، اور ہمیں بھی اسی نشے میں شریک کر لیتا۔
غربت، ایک بوتل اور بے حساب قہقہے
غربت اُس دور کی سب سے بڑی سچائی تھی۔ دارو کا دیدار ہفتے میں مشکل سے ایک آدھ بار نصیب ہوتا، اور اُس ایک بوتل پر اتنے سارے پیاسوں کا حق ہوتا کہ بانٹنا خود ایک فن بن جاتا۔
اور جیسے آگ کی بھنک شہد کی مکھیوں کو کھینچ لاتی ہے، حفیظ اور رضوان جیسے دوستوں کو بھی خبر ہو ہی جاتی کہ آج وائی ایم سی اے میں محفل سجی ہے، اور وہ عین وقت پر دروازے پر آ ٹپکتے۔
اصل خزانہ دراصل دارو نہ تھا۔
اصل خزانہ وہ دھواں تھا، وہ لطیفے تھے، اور وہ بے ساختہ قہقہے تھے۔
اصل خزانہ دراصل دارو نہ تھا۔ اصل خزانہ وہ دھواں تھا جو کمرے کی چار دیواری میں معلق رہتا، اور وہ لطیفے جو دن بھر کی خبروں سے، سیاست دانوں کی حماقتوں سے، اور خود ہماری اپنی زندگیوں کی مضحکہ خیزیوں سے کشید ہوتے۔
قہقہے ایسے بلند ہوتے کہ گویا رات کی خاموشی کو چیلنج دے رہے ہوں۔ صحافت کی سنجیدگی، ایڈیٹر کی ڈانٹ، ڈیڈ لائن کا دباؤ — یہ سب دفتر کے حصے میں رہتا۔ رات کمرہ نمبر ایک کی تھی، اور اس کمرے کا قانون صرف ایک تھا:
باہر کی دنیا کی سنجیدگی اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں رکھتی۔
وقت نے سب کو بکھیر دیا
تیس سے زیادہ برس بیت چکے، اور جیسے وقت نے ہمیں بھی اُسی طرح دنیا بھر میں بکھیر دیا جیسے ہم کبھی اُس چھوٹے سے کمرے میں سمٹے ہوئے تھے۔
بدر ہالینڈ گیا اور پھر برطانیہ جا بسا۔ واجد آج کل واشنگٹن میں ہے۔ حراج اور شبیر اب بھی لاہور میں ہیں، شاید اُسی مال روڈ کے قریب کہیں۔ رضوان اور میں کینیڈا آ گئے۔
ندیم جاپان چلا گیا، مگر برسوں سے اُس کی کوئی خبر نہیں، رابطہ کہیں راستے میں گم ہو گیا۔
حفیظ چند سال پہلے ہمیں چھوڑ گیا، ہمیشہ کے لیے۔ اور جبار بھی چند سال پہلے ہی رخصت ہوا، ابھی تک یقین پوری طرح نہیں آیا۔
وہی جبار جس کی زبان پر ہر وقت شعر رہتا، آج خود ایک نظم کی طرح ہماری یادوں میں رہ گیا ہے۔
اتنی دوریاں، اتنی خاموشیاں، اتنے خالی پن —
مگر کمرہ نمبر ایک آج بھی یادداشت میں جوں کا توں کھڑا ہے۔
اتنی دوریاں، اتنی خاموشیاں، اتنے خالی پن، مگر وہ کمرہ، اپنی اکلوتی چارپائی، اپنی دو کرسیوں، اپنے دھوئیں بھرے فضا کے ساتھ، آج بھی جوں کا توں یادداشت میں کھڑا ہے۔
شاید ایسا ایک کمرہ ہر انسان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں ضرور آتا ہے — عمر کے اُس حصے کی نشانی جہاں دوستی بےغرض ہوتی ہے، ہنسی بےساختہ، اور مستقبل کی فکریں ابھی اتنی بھاری نہیں ہوئی ہوتیں۔
حال ہی میں واجد نے جاوید اختر کی آواز میں ایک نظم بھیجی، جس میں وہ اپنی زندگی کے ایسے ہی ایک کمرے کو یاد کرتے ہیں — ایک ایسا کمرہ جو محض اینٹوں اور لکڑی کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ماں کی گود کی طرح مہربان، ایک ایسا ساتھی جو خاموشی سے سب کچھ سنتا اور سمجھتا تھا۔
نظم میں وہ کرسی، وہ آئینہ، وہ الماری، وہ تکیہ، سب اپنی اپنی شخصیت رکھتے ہیں، اور آخر میں وہ اعتراف کہ آج کا گھر خوبصورت سہی، مگر وہ پرانا کمرہ بولتا تھا۔
یہی بات کمرہ نمبر ایک کو بھی سچ کر دکھاتی ہے۔ ہم جہاں بھی گئے، جتنے بھی آسودہ ہوئے، وہ پہلا کمرہ، وہ پہلی دوستیاں، وہ سگریٹ کا دھواں اور وہ چند لطیفے، دل کے کسی گوشے میں چراغ کی طرح جلتے رہتے ہیں۔
زندگی آگے بڑھتی جاتی ہے، دوست دنیا کے کونے کونے میں بکھر جاتے ہیں، کچھ خاموشی سے چلے بھی جاتے ہیں — مگر یادداشت کبھی کبھار پیچھے مڑ کر اُسی کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا لیتی ہے، اور کمرہ، جیسے ہمیشہ سے منتظر تھا، آج بھی دروازہ کھول دیتا ہے۔
وہ کمرہ یاد آتا ہے
زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کر
میں جب بھی
دوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کر
میں سب سے لڑ کے خود سے ہار کے
جب بھی اس اک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہ
وہ بے حد مہرباں کمرہ
جو اپنی نرم مُٹّھی میں مجھے ایسے چھُپا لیتا تھا
جیسے کوئی ماں
بچّے کو آنچل میں چھپا لے
پیارے سے ڈانٹے
یہ کیا عادت ہے
جلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تم
وہ کمرہ یاد آتا ہے
دبیز اور خاصا بھاری
کچھ ذرا مشکل سے کھُلنے والا وہ شیشم کا دروازہ
کہ جیسے کوئی اکّھڑ باپ
اپنے کھُردرے سینے میں
شفقت کے سمندر کو چھُپائے ہو
وہ کرسی
اور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کی
وہ دونوں
دوست تھیں میری
وہ اک گستاخ منہ پَھٹ آئینہ
جو دل کا اچھا تھا
وہ بے ہنگَم سی الماری
جو کونے میں کھڑی
اک بوڑھی انّا کی طرح
آئینے کو تنبیہ کرتی تھی
وہ اک گلدان
ننّھا سا
بہت شیطان
ان دونوں پہ ہنستا تھا
دریچے
یا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹ
اور دریچے پر جھکی وہ بیل
کوئی سبز سرگوشی
کتابیں
طاق میں اور شیلف پر
سنجیدہ استانی بنی بیٹھیں
مگر سب منتظر اس بات کی
میں ان سے کچھ پوچھوں
سرہانے
نیند کا ساتھی
تھکن کا چارہ گر
وہ نرم دل تکیہ
میں جس کی گود میں سر رکھ کے
چھت کو دیکھتا تھا
چھت کی کَڑیوں میں
نجانے کتنے افسانوں کی کَڑیاں تھیں
وہ چھوٹی میز پر
اور سامنے دیوار پر
آویزاں تصویریں
مجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیں
مسکراتی تھیں
انھیں شک بھی نہیں تھا
ایک دن
میں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گا
میں اک دن یوں بھی جاؤں گا
کہ پھر واپس نہ آؤں گا
میں اب جس گھر میں رہتا ہوں
بہت ہی خوبصورت ہے
مگر اکثر یہاں خاموش بیٹھا یاد کرتا ہوں
وہ کمرہ بات کرتا تھا

