پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان اہم اسٹریٹجک پل قرار دیا گیا
بین الاقوامی تجزیہ کار ماہرہ سیما سنگپتا کے مطابق پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن، سفارتی نیٹ ورک اور دفاعی صلاحیت کے باعث مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک پل بن چکا ہے۔
اسلام آباد : — بین الاقوامی تجزیہ کار اور ماہرہ سیما سنگپتا نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک پل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ان دونوں حساس خطوں کی مسابقتی جیو پالیٹکس کا مرکزی محور بن چکا ہے۔
سیما سنگپتا نے اپنی حالیہ تحریر میں لکھا کہ پاکستان، جو ایک ذمہ دار جوہری طاقت ہے، دو متزلزل خطوں — مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا — کی مسابقتی جغرافیائی سیاست کا وہ نقطہ ہے جہاں یہ دونوں خطے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی سفارتی مہارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے سے لے کر علاقائی دفاعی تعاون کو فروغ دینے تک متعدد محاذوں پر کامیاب کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی کردار
تجزیہ کار کے مطابق پاکستان نے طویل عرصے تک عدم استحکام کی عینک سے دیکھے جانے کے بعد خود کو ایک ایسے آلے میں تبدیل کر لیا ہے جس کے بغیر دنیا کا بکھرا ہوا بین الاقوامی نظام مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور سفارتی اہمیت اسے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک منفرد رابطے کی حیثیت دیتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک نے اقتصادی شاہراہوں کی حفاظت اور اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کے لیے مشکل حالات میں بھی مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔
علاقائی دفاعی تعاون میں پاکستان کا کردار
سیما سنگپتا نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان تعاون، اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو بھی اہمیت دی۔
"`
"`
ان کے مطابق بنگلہ دیش سمیت کچھ ممالک بھی اس طرح کے تعاون میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں، جس سے علاقائی اتحاد کی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے۔
جغرافیہ، سفارت کاری اور دفاعی صلاحیت
ماہرہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن، سفارتی نیٹ ورک اور فوجی صلاحیت اسے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی پل بناتی ہے، جو علاقائی استحکام اور باہمی مفادات کے لیے ناگزیر ثابت ہو رہا ہے۔

