امریکا نے فلسطین ایکشن کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
امریکا نے برطانیہ میں قائم اسرائیل مخالف سرگرم کارکنوں کی تنظیم فلسطین ایکشن کو ’’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا سے منسلک تنظیم کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں کو اس گروپ کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے سے روک دیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز بتایا کہ فلسطین ایکشن کے خلاف یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت عائد کی گئی ہیں۔ محکمہ خزانہ کے مطابق تنظیم پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کا الزام ہے، جس میں دفاعی تنصیبات میں غیر قانونی داخلہ، فوجی نوعیت کے مقامات پر حملے اور آلات و سازوسامان کو نقصان پہنچانے کی کارروائیاں شامل ہیں۔
یہ اقدام برطانیہ کی جانب سے جولائی2025میں دہشت گردی کے قانون کے تحت فلسطین ایکشن کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ برطانوی حکام کا یہ فیصلہ اس واقعے کے بعد کیا گیا تھا جس میں کارکنوں نے RAF Brize Norton میں داخل ہو کر فوجی طیاروں پر سرخ رنگ چھڑک دیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ انتظامیہ پرتشدد سیاسی نیٹ ورکس کے خلاف امریکی معاشی وسائل کی ’’مکمل طاقت‘‘ استعمال کرے گی اور سیاسی دہشت گردی کے لیے امریکی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
اسی کارروائی کے تحت امریکی محکمہ خزانہ نے اٹلی میں قائم ڈیجیٹل سروسز سے وابستہ ادارے Autistici Inventati اور Masar Badil کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مسار بدیل ایک ایسے فرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جس کے روابط فلسطین کی آزادی کے لیے عوامی محاذ (PFLP) سے ہیں۔
فلسطین ایکشن کی بنیاد برطانیہ میں2020میں رکھی گئی تھی۔ تنظیم کی زیادہ تر سرگرمیوں کا مرکز ان کمپنیوں کی کارروائیوں میں خلل ڈالنا رہا ہے جن پر گروپ اسرائیل کی معاونت کا الزام عائد کرتا ہے۔ ان میں بالخصوص Elbit Systems اور دیگر دفاعی شعبے سے منسلک کمپنیاں شامل ہیں۔
فلسطین ایکشن نے دہشت گرد تنظیم کا لیبل مسترد کر دیا ہے، جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی پابندیاں احتجاج اور سیاسی اظہار کے حقوق کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
تاہم امریکی حکام نے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر سرگرم ایسے انتہا پسند نیٹ ورکس کے خلاف وسیع تر کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دھمکی، املاک کو نقصان پہنچانے اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں جیسے طریقے استعمال کرتے ہیں۔
واشنگٹن کا یہ فیصلہ اسرائیل مخالف سرگرم کارکنوں کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف امریکی پالیسی میں نمایاں سختی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ان گروہوں کے حوالے سے جن پر احتجاج کی حدود عبور کرکے تخریب کاری، دباؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
امریکی اقدام کے بعد فلسطین ایکشن کے لیے امریکا سے منسلک مالی وسائل اور کاروباری روابط پر پابندیاں عائد ہو گئی ہیں، جبکہ تنظیم اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

