حماس نے ہتھیار چھوڑنے کا وعدہ پورا نہیں کیا، غزہ میں امن منصوبہ خطرے میں ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملادینوف نے خبردار کیا ہے کہ حماس نے اب تک اپنے ہتھیار ختم کرنے کے وعدے پر عمل درآمد نہیں کیا، جبکہ غزہ میں اس کی مبینہ مسلح سرگرمیاں، سرنگوں سے متعلق کارروائیاں اور رکاوٹیں امریکی حمایت یافتہ امن فریم ورک کو پٹڑی سے اتارنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔
غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امن عمل انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور اگر حماس سیاسی وعدوں سے آگے بڑھ کر قابلِ تصدیق عملی اقدامات کرنے سے انکار کرتی ہے تو یہ پورا عمل ناکام ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف طویل عرصے سے یہی رہا ہے کہ جب تک حماس کے پاس ہتھیار موجود ہیں یا وہ اپنی عسکری اور دہشت گردی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس وقت تک کوئی پائیدار امن معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ملادینوف کے مطابق حماس کی جانب سے ہتھیاروں سے دستبرداری کے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں امن کا موجودہ فریم ورک دوبارہ جنگ کی جانب جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ملادینوف نے اسرائیل پر بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ان اسرائیلی حملوں پر تنقید کی جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی فوری خطرے کے جواب میں نہیں کیے گئے اور ان کے نتیجے میں ہتھیاروں سے دستبرداری کے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے، اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ بحال کر رہی ہے اور نئے حملوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق ایسی صورت حال میں فعال خطرات کے خلاف کارروائی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس وقت تنازع کا مرکزی نکتہ امن عمل کے ترتیبی مراحل پر آ گیا ہے۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ مزید فوجی انخلا سے پہلے حماس کے غیر مسلح ہونے کی قابلِ تصدیق ضمانت ضروری ہے، جبکہ ثالث دونوں فریقوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امن عمل کو جاری رکھیں تاکہ غزہ دوبارہ وسیع پیمانے کی جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے۔
اسرائیل کے لیے بنیادی تشویش7اکتوبر کے ہلاکت خیز حملے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی:حماس کو ایسی عسکری طاقت برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس کے ذریعے وہ دوبارہ اسی نوعیت کا حملہ کرنے کے قابل ہو۔
دوسری طرف ثالثوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا حماس عملی طور پر اپنی عسکری طاقت سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوگی یا یہ وعدہ صرف کاغذی سطح تک محدود رہے گا۔ یہی فیصلہ غزہ کے مستقبل کے امن عمل اور خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ کے امکانات کا تعین کر سکتا ہے۔

