امریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے اثرات پر63فیصد شہری تشویش میں مبتلا، سروے
ایک نئے عوامی سروے کے مطابق ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے امریکی ووٹرز کی اکثریت میں سوشلزم اور کمیونزم کے امریکی سیاست میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
دی سینٹر اسکوائر کے ’’ووٹرز وائس پول‘‘ کے مطابق63فیصد امریکی شہری امریکی سیاست میں سوشلزم یا کمیونزم کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش رکھتے ہیں، جبکہ29فیصد نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔
سروے میں تشویش ظاہر کرنے والے63فیصد افراد میں سے36فیصد نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بہت زیادہ تشویش رکھتے ہیں، جبکہ27فیصد نے اسے کسی حد تک تشویش کا باعث قرار دیا۔
دوسری جانب صرف13فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں امریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے رجحان پر بالکل تشویش نہیں، جبکہ16فیصد نے کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ فکرمند نہیں ہیں۔
سروے کیسے کیا گیا؟
دی سینٹر اسکوائر کا ووٹرز وائس پول Noble Predictive Insights نے12سے16اگست کے دوران کیا۔ اس میں ملک بھر کے رجسٹرڈ ووٹرز کو آن لائن آپٹ اِن پینل اور موبائل فون کے ٹیکسٹ ٹو ویب پیغامات کے ذریعے شامل کیا گیا۔
سروے میں مجموعی طور پر 2,533 افراد نے حصہ لیا، جن میں930ری پبلکن،930ڈیموکریٹس اور673آزاد ووٹرز شامل تھے۔ آزاد ووٹرز میں سے330افراد ایسے تھے جنہیں حقیقی معنوں میں آزاد ووٹر قرار دیا گیا، یعنی وہ کسی بھی بڑے سیاسی جماعتی امیدوار کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتے۔
وسط مدتی انتخابات سے قبل سوشلزم پر بحث تیز
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکنز اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض رہنما بھی ملک بھر میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔ ان امیدواروں کو امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور نیویارک سے رکنِ ایوانِ نمائندگان الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کمیونزم کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کی انتظامیہ انتخابی موسم کے مکمل طور پر گرم ہونے کے ساتھ امریکی عوام کے سامنے کمیونزم کے خطرے کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے ایک ریلی میں کہا کہ کمیونزم امریکی تاریخ میں ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
جولائی میں ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے دورے کے دوران بھی ٹرمپ نے کمیونزم کو ’’تباہی‘‘ قرار دیا تھا۔
صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیونزم مختلف ناموں سے ہزاروں سال تک موجود رہا ہے لیکن اس کی بنیادی نوعیت ایک جیسی رہی ہے۔ ان کے مطابق ریڈیکل سوشلسٹ اور کمیونسٹ کہنے میں زیادہ فرق نہیں، اگرچہ دونوں اصطلاحات میں کچھ معمولی فرق موجود ہے۔
ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ کمیونزم سے نکل کر دوبارہ معمول کی صورتحال کی طرف واپس آنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اس نظام کے نتیجے میں معاشرہ بدحالی اور سخت حالات کا شکار ہو سکتا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت
سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف آواز صرف ری پبلکن پارٹی تک محدود نہیں۔ پنسلوانیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمن بھی ڈیموکریٹک پارٹی میں خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دینے والے بعض امیدواروں کی بڑھتی مقبولیت پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں فیٹرمن نے CBS News کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تقریباً60فیصد ڈیموکریٹس سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔
فیٹرمن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سوشلزم کی جماعت بنتی جا رہی ہے،58فیصد افراد سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ50فیصد سرمایہ داری کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے خود کو آزاد منڈی پر مبنی سرمایہ داری کا فخریہ حامی قرار دیتے ہوئے اس رجحان کو انتہائی غیر معقول قرار دیا۔
فیٹرمن واحد ڈیموکریٹ نہیں جو پارٹی میں بڑھتے ہوئے سوشلسٹ رجحان پر تنقید کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے تجربہ کار سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر جیمز کارویل نے بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے نام سے لفظ ’’ڈیموکریٹک‘‘ ہٹا دیں تاکہ خود کو بائیں بازو کی پالیسیوں سے الگ ظاہر کیا جا سکے۔
ڈیموکریٹک ووٹرز میں بھی واضح تقسیم
تاہمCBSکے سروے کے برعکس دی سینٹر اسکوائر کے ووٹرز وائس پول میں سامنے آیا کہ 49 فیصد ڈیموکریٹک ووٹرز امریکی سیاست میں سوشلزم یا کمیونزم کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش رکھتے ہیں، جبکہ40فیصد نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک، کولوراڈو، مشی گن، کیلیفورنیا اور حتیٰ کہ فلوریڈا سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں متعدد ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں نے ڈیموکریٹک ووٹرز کی حمایت حاصل کرکے نومبر کے انتخابات میں شرکت کے لیے پیش قدمی کی ہے۔
سروے کی غلطی کی حد: پلس یا مائنس2.0فیصد۔

