ٹرمپ انتظامیہ جارج سوروس کی تنظیم، سدرن پاورٹی لا سینٹر اور کیئر کے خلاف بڑے ٹیکس کریک ڈاؤن کی تیاری میں
نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بائیں بازو سے وابستہ بعض نمایاں غیر منافع بخش تنظیموں کے ٹیکس سے استثنیٰ کی حیثیت کا ازسرِنو جائزہ لینے اور ممکنہ طور پر اسے ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان تنظیموں میں ارب پتی جارج سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز، سدرن پاورٹی لا سینٹر اور کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز، یعنی کیئر، شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور انٹرنل ریونیو سروس(IRS)سے وابستہ حکام ایسے غیر منافع بخش اداروں کے خلاف کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں جن پر امریکی ٹیکس قوانین کے غلط استعمال یا سیاسی سرگرمیوں کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
501(c)(3) حیثیت ختم کیے جانے کا امکان
نیویارک پوسٹ کے مطابق معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے قریبی حلقے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیموں سے ان کی 501(c)(3) ٹیکس سے استثنیٰ کی حیثیت واپس لی جا سکتی ہے۔
امریکی قانون کے تحت اس درجے کی حامل تنظیموں کو بعض شرائط کے تحت وفاقی آمدنی ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم اگر یہ حیثیت ختم کر دی جائے تو متعلقہ اداروں کو بھاری مالی واجبات، جرمانوں اور ممکنہ طور پر سابقہ ٹیکس ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کی بنیاد جزوی طور پر صدر ٹرمپ کے2025کے ایک انتظامی حکم پر رکھی جا رہی ہے، جس کا مقصد ان غیر منافع بخش اداروں کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کرنا تھا جو حکام کے مطابق کسی نمایاں غیر قانونی مقصد کے لیے کام کر رہے ہوں یا سیاسی تشدد، پرتشدد احتجاج اور انتہا پسند نظریات سے وابستہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔
سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز بھی نشانے پر
رپورٹ کے مطابق ارب پتی سرمایہ کار اور مخیر شخصیت جارج سوروس کی قائم کردہ اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز بھی ممکنہ حکومتی کارروائی کے دائرے میں شامل ہے۔
تنظیم اس وقت جارج سوروس کے40سالہ بیٹے الیگزینڈر سوروس کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے تحت تنوع سے متعلق منصوبوں، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قانونی مقدمات اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کو مالی مدد دی جاتی رہی ہے۔
اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے ترجمان نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں موقف اختیار کیا کہ کسی غیر منافع بخش تنظیم کے ٹیکس اسٹیٹس کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نشانہ بنانا غیر قانونی اور ایسے کام کو دبانے کی کوشش ہوگی جس سے انتظامیہ متفق نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسکاٹ بیسنٹ کا جارج سوروس کے مالیاتی نیٹ ورک کے ساتھ ماضی میں پیشہ ورانہ تعلق رہا ہے اور وہ2015تک سوروس فنڈ مینجمنٹ میں چیف انویسٹمنٹ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔
سدرن پاورٹی لا سینٹر اور دیگر تنظیمیں بھی زیرِ نگرانی
رپورٹ کے مطابق سدرن پاورٹی لا سینٹر (SPLC) بھی ممکنہ حکومتی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔ ادارہ حالیہ عرصے میں اپنے سابق انٹیلی جنس ڈائریکٹر سے متعلق ایک وفاقی مقدمے کے باعث بھی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے بعض دیگر کارپوریٹ مخالف اور مزدور تنظیموں سے وابستہ وکالتی گروپوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں پرائیویٹ ایکویٹی اسٹیک ہولڈر پروجیکٹ، ایتھینا کولیشن، میڈیا جسٹس اور اسٹریٹیجک آرگنائزنگ سینٹر سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہو سکتی ہیں۔
کیئر کو قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز اور سدرن پاورٹی لا سینٹر کی جانچ پڑتال بنیادی طور پر اندرونی انتظامی پالیسیوں کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کو انتظامیہ مبینہ طور پر قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے دیکھ رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی وفاقی استغاثہ نے ماضی میں2007کے ہولی لینڈ فاؤنڈیشن ٹیرر فنانسنگ کیس میں کیئر کو ایک غیر ملزم شریکِ سازش کار کے طور پر نامزد کیا تھا۔
تاہم کیئر نے ماضی میں مسلسل ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی غیر ملکی فنڈنگ یا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کی تردید کی ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق کیئر اور سدرن پاورٹی لا سینٹر نے اس رپورٹ کے سلسلے میں بھی فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ٹیکس سے استثنیٰ ختم کرنا طویل قانونی عمل
ماہرین کے مطابق کسی تنظیم سے باضابطہ طور پر501(c)(3)کی حیثیت واپس لینا ایک طویل اور پیچیدہ قانونی عمل ہو سکتا ہے۔
اس عمل میں انٹرنل ریونیو سروس کی تحقیقات، طویل آڈٹ، انتظامی اپیلیں اور وفاقی ٹیکس عدالت میں قانونی کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے غیر منافع بخش اداروں کے جائزے کے لیے ٹونی سیفیر کو بھی شامل کیا ہے، جو سابق اسپیشل آپریشنز اہلکار اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ایگزیکٹو ہیں۔
ممکنہ مالی اثرات
"`
رپورٹ میں موجودIRSدستاویزات کے تجزیے کے مطابق اگر ان تین بڑی تنظیموں پر2024میں عام21فیصد وفاقی کارپوریٹ ٹیکس نافذ ہوتا تو انہیں مجموعی طور پر تقریباً16کروڑ50لاکھ ڈالر وفاقی آمدنی ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔
رپورٹ کے مطابق اس رقم کا بڑا حصہ اوپن سوسائٹی نیٹ ورک سے متعلق ہوتا، جبکہSPLCاور کیئر کے مختلف چیپٹرز کے ممکنہ مالی واجبات نسبتاً کم ہوتے۔
"`
قانونی ماہرین نے خطرناک نظیر قرار دے دیا
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ٹیکس پالیسی سے وابستہ پروفیسر اور فرانزک اکاؤنٹنگ کے ماہر سیموئل ہینڈورگر نے کہا کہ صرف ٹیکس سے استثنیٰ ختم ہونے کے امکان پر توجہ دینا پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔
ان کے مطابق ان تنظیموں کو حقیقی دنیا میں سب سے پہلے بینکنگ خطرات، پھر عطیہ دہندگان اور گرانٹ فراہم کرنے والوں کی ممکنہ ہچکچاہٹ، اس کے بعد تحقیقات کے اخراجات اور آخر میں ٹیکس سے استثنیٰ ختم ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مخصوص سیاسی یا نظریاتی تنظیموں کو نشانہ بنانے کے لیے انتظامی اختیارات میں اضافہ ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر نئی انتظامیہ گزشتہ حکومتوں کی قائم کردہ نظیروں کو ورثے میں حاصل کرتی ہے، اس لیے اس معاملے کے اثرات مستقبل میں سیاسی اور نظریاتی حلقوں کے وسیع دائرے تک پھیل سکتے ہیں۔
قانونی مزاحمت بھی شروع
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ممکنہ کریک ڈاؤن کو پہلے ہی قانونی مزاحمت کا سامنا ہے۔
بائیں بازو سے وابستہ قانونی تنظیم پروٹیکٹ ڈیموکریسی نے رواں سال کے آغاز میں امریکی محکمہ خزانہ اورIRSکے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ انتظامیہ سیاسی مخالفین کے خلاف ٹیکس قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ انتظامیہ کے بعض حلقوں میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اس کریک ڈاؤن کے ایک بڑے حصے کو عملی شکل دینے کے لیے دباؤ موجود ہے، تاہم بعض حکام کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر قانونی مقدمات سے بچنے کے لیے رسمی کارروائی کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کیا جانا چاہیے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا مجوزہ اقدام امریکا میں غیر منافع بخش تنظیموں، سیاسی سرگرمیوں، ٹیکس سے استثنیٰ اور حکومتی اختیارات کے استعمال سے متعلق ایک نئے اور ممکنہ طور پر طویل قانونی و سیاسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔
ماخذ: نیویارک پوسٹ کی رپورٹ،27اگست 2026

