امریکا کا وعدہ انتخابی امتیاز کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا
امریکی ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں سامنے آنے والے ایک تنازع نے امتیازی سلوک، آزادیِ اظہار اور ایک متنوع معاشرے میں رہنے کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کے بارے میں ایک ناخوشگوار مگر ضروری بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک افغان نژاد امریکی سیلون مالکن نے ایک یہودی، اسرائیلی نژاد امریکی خاتون کو اس وقت سروس فراہم کرنے سے انکار کر دیا جب اسے اس خاتون کے مذہبی اور نسلی پس منظر کے بارے میں معلوم ہوا۔
خاتون کا الزام ہے کہ ادب، ثقافت، افغانستان اور باہمی دلچسپیوں پر ہونے والی ایک خوشگوار گفتگو اس وقت کشیدہ ہو گئی جب اس نے بتایا کہ وہ یہودی ہے اور اس کا تعلق جزوی طور پر اسرائیل سے بھی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سیلون کی مالک نے خاتون کو وہاں سے جانے کا حکم دیا، کہا کہ وہ کسی اسرائیلی کو سروس فراہم نہیں کر سکتی، اسرائیل کے وجود کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور بعد میں سوشل میڈیا پر اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے غزہ کی جنگ سے متعلق ایک سیاسی موقف قرار دیا۔
حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی
اس واقعے کی ستم ظریفی کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیلون کی مالک ایک افغان تارکِ وطن ہیں جنہوں نے امریکا میں پناہ، تحفظ اور زندگی کے نئے مواقع حاصل کیے۔
بہت سے افغان شہریوں کی طرح جو عدم استحکام، ظلم و ستم یا انتہا پسند نظریات کے خوف سے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے، انہوں نے بھی امریکا کی آزادی، تنوع اور قانون کے تحت مساوی سلوک کے اصولوں سے فائدہ اٹھایا۔
امریکا نے اپنے دروازے کھولے، تحفظ فراہم کیا اور ایک نیا کاروبار اور نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا۔
لیکن مواقع کے ساتھ صرف حقوق نہیں بلکہ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔
امریکا سیاسی اتفاق رائے پر قائم نہیں
امریکا اس اصول پر قائم نہیں کہ شہریوں اور رہائشیوں کو ایک دوسرے سے سیاسی طور پر متفق ہونا ضروری ہے۔
اس کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی ہے کہ مختلف مذہبی، نسلی، ثقافتی اور سیاسی پس منظر رکھنے والے لوگ مساوی حقوق کے قانونی تحفظ کے تحت ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
امریکی تصور کی بنیاد تکثیریت پر ہے، یعنی یہ خیال کہ تنوع خطرہ نہیں بلکہ طاقت ہے۔
کوئی بھی شخص اسرائیل سمیت کسی بھی حکومت کی پالیسیوں سے سخت اختلاف کر سکتا ہے۔ امریکی شہری روزانہ دنیا بھر کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں اور سیاسی اختلاف آزادیِ اظہار کے دائرے میں آتا ہے۔
لیکن کسی فرد کے مذہب، نسل، قومیت یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا بالکل مختلف معاملہ ہے۔
اگر ایک گروہ کے خلاف امتیاز جائز ہو تو دوسروں کا کیا ہوگا؟
اگر مشرقِ وسطیٰ کے واقعات کی بنیاد پر کوئی کاروباری مالک ایک یہودی اسرائیلی نژاد امریکی کو سروس دینے سے انکار کر سکتا ہے تو پھر کون سا اصول دوسروں کو اس بات سے روکے گا کہ وہ مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتوں کے اقدامات کی بنیاد پر مسلمانوں کو خدمات دینے سے انکار کریں؟
طالبان کے اقدامات کی بنیاد پر افغانوں کے خلاف امتیاز کو کون روکے گا؟ کریملن کی پالیسیوں کی وجہ سے روسیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں نہ کیا جائے؟ بیجنگ کی پالیسیوں کی بنیاد پر چینی نژاد امریکیوں کو کیوں نشانہ نہ بنایا جائے؟ یا حماس کے اقدامات کی بنیاد پر فلسطینیوں کے خلاف امتیاز کی اجازت کیوں نہ ہو؟
جواب سادہ اور یکساں ہونا چاہیے:کوئی فرد صرف اس لیے کسی حکومت کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ہو جاتا کہ اس کا تعلق کسی مخصوص قومیت، مذہب یا نسلی گروہ سے ہے۔
افغان تناظر میں یہ معاملہ اور بھی اہم
یہ مسئلہ افغان تناظر میں خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ لاکھوں افغان شہری خود طالبان کی حکمرانی اور مختلف اقسام کے جبر کا شکار رہے ہیں۔
بہت سے افغان شہریوں نے اپنا ملک اس لیے چھوڑا کیونکہ وہ عدم برداشت، انتہا پسندی اور دوسروں کو شناخت کی بنیاد پر پرکھنے والے نظریات کو مسترد کرتے تھے۔
ایسے میں یہ ایک واضح تضاد ہوگا کہ کوئی شخص ایسی سوچ سے بچنے کے لیے اپنا ملک چھوڑے جو لوگوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر پرکھتی ہے، اور پھر دوسروں کے ساتھ خود بھی اسی نوعیت کا رویہ اختیار کرے۔
انتخابی امتیاز کا معیار جلد متضاد ہو جاتا ہے
یہاں ایک پریشان کن سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی حکومت سے سیاسی اختلاف کسی فرد کو سروس دینے سے انکار کا جواز بن سکتا ہے تو پھر اس اصول کی حد کہاں ختم ہوگی؟
کیا یہی سیلون مالک ایسی افغان خواتین کو بھی خدمات دینے سے انکار کر دیں گی جن کے سیاسی خیالات ان سے مختلف ہوں؟ کیا وہ غزہ کے معاملے پر ان سے اختلاف رکھنے والے امریکیوں کو بھی سروس فراہم نہیں کریں گی؟ کیا وہ ایسے فلسطینیوں کو بھی مسترد کریں گی جو اسرائیل کے ساتھ بقائے باہمی کے حامی ہوں؟
اس قسم کا معیار بہت جلد ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے صرف انتخابی یا مخصوص امتیازی سلوک کہا جا سکتا ہے۔
عوامی سہولیات کے قوانین کیوں موجود ہیں؟
امریکا میں عوامی خدمات اور کاروباری اداروں سے متعلق مساوی رسائی کے قوانین اسی لیے وجود میں آئے کہ تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ کاروباروں کو نسل، مذہب، قومیت یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر گاہکوں کے انتخاب کی کھلی اجازت دینا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔
امریکی سول رائٹس تحریک نے اس نظام کے خلاف جدوجہد کی جس میں لوگوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر ریستورانوں، ہوٹلوں، اسکولوں اور کاروباری اداروں سے محروم رکھا جا سکتا تھا۔
اس جدوجہد کا بنیادی سبق واضح تھا: مساوی سلوک کسی سیاسی منظوری یا نظریاتی اتفاق کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
امریکا کی اصل طاقت اختلاف کے باوجود برابری ہے
امریکا کی انفرادیت یکساں سوچ رکھنے میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ انتہائی مختلف عقائد رکھنے والے لوگ ایک ہی عوامی دائرے میں باہمی احترام کے ساتھ رہ سکیں۔
ایک یہودی گاہک، ایک مسلمان کاروباری شخصیت، ایک عیسائی صحافی، ایک ملحد پروفیسر اور ایک مہاجر پناہ گزین، قانون کی نظر میں مساوی انسانی وقار کے حامل ہیں۔
امریکی اقدار انتخابی امتیاز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ تنوع کا مطلب مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کی موجودگی کو قبول کرنا ہے۔ تکثیریت کا مطلب ان افراد کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے جن سے ہم اختلاف رکھتے ہوں۔
آزادی کا مطلب یہ ہے کہ افراد کو ان کے اپنے اعمال کی بنیاد پر پرکھا جائے، نہ کہ ان کے مذہب، نسل یا برادری سے وابستہ عمومی تصورات اور دقیانوسی خیالات کی بنیاد پر۔
الیگزینڈریا میں سامنے آنے والے الزامات کو اسرائیل فلسطین تنازع پر کسی بھی سیاسی موقف سے قطع نظر ہر امریکی کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ آج نشانہ ایک یہودی اسرائیلی نژاد امریکی ہو سکتا ہے، کل کوئی اور گروہ ہو سکتا ہے۔ جب ایک گروہ کے خلاف امتیاز قابلِ قبول بنا دیا جائے تو پھر حقیقت میں کوئی گروہ مکمل طور پر محفوظ نہیں رہتا۔
امریکا کی میراث کا تحفظ
امریکا طویل عرصے سے ان لوگوں کے لیے امید کی علامت رہا ہے جو ظلم و ستم، فرقہ واریت اور نظریاتی عدم برداشت سے فرار اختیار کرتے رہے ہیں۔
اس میراث کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سادہ مگر بنیادی اصول پر قائم رہنا ضروری ہے:جو کاروبار عوام کو خدمات فراہم کرتے ہیں، انہیں عوام کے ساتھ مساوی سلوک کرنا چاہیے۔
سیاسی جذبات شدید ہو سکتے ہیں، جنگوں اور عالمی تنازعات پر اختلافات گہرے ہو سکتے ہیں، لیکن یہ جذبات کسی فرد کو دوسروں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر خارج کرنے کا اختیار نہیں دے سکتے۔
امریکا کی طاقت کبھی لوگوں کو ایک جیسا سوچنے پر مجبور کرنے سے حاصل نہیں ہوئی۔ اس کی اصل طاقت اس یقین میں ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود بھی لوگ قانون کے تحت برابر کے شہری رہتے ہیں۔ یہی اصول بھرپور دفاع کا مستحق ہے، خاص طور پر اس وقت جب اسے اسی ملک میں چیلنج کیا جا رہا ہو جس نے بے شمار لوگوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا۔

