آوازوں کا خلا
ہم آوازوں میں رہتے ہیں، اور آوازیں ہی ہمیں ہمارے ہونے کا پتا دیتی ہیں۔ اگر آپ کے کان مکمل طور پر بند کر دیے جائیں تو شاید آپ ٹھیک سے بول بھی نہ سکیں، کیونکہ اپنی آواز سنائی نہ دینے پر الفاظ گڑبڑا جائیں گے۔
نیل ڈیگراس ٹائیسن نے ایک پروگرام میں پوچھا تھا: ’’فرض کرو کہ کرۂ ارض پر کوئی کان کا پردہ موجود نہیں جو آواز کی لہروں کو وصول کر سکے، اور ایسے میں جنگل کا ایک درخت گرتا ہے۔ کیا اُس کی آواز کا کوئی وجود ہو گا؟ کیونکہ اُسے وصول کرنے والا کوئی پردہ موجود نہیں!‘‘
البتہ آوازوں کے خلا والا ایک کمرہ چند سال پہلے بنایا گیا۔ انسان کی قوتِ سماعت کو dBA میں ناپا جاتا ہے۔ انسان کو سنائی دے سکنے والی سب سے ہلکی آواز کو 0 dBA کہا جاتا ہے۔ ہلکی سی سرگوشی یا خاموش دیہاتی علاقے کی رات 30 dBA ہوتی ہے اور نارمل گفتگو یا بیک گراؤنڈ موسیقی 60 dBA۔
لیکن اِس کمرے کی چاروں دیواریں اور فرش بھی ہر آواز کو جذب کر لیتے ہیں۔ آواز کی لہریں کان کے پردے تک نہیں پہنچ پاتیں۔ نومبر2021ء میں یہاں dBA کو منفی25تک ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ ناسا نے بھی اپنے خلابازوں کو وہاں بھیجا تاکہ سپیس کی خاموشی میں رہنے کی عادت اپنا سکیں۔
انسان کے لیے یہاں کھڑے رہنا یا قدم اُٹھانا بھی مشکل ہے، کیونکہ ہم آواز کے بغیر سمت کا تعین اور توازن نہیں کر سکتے۔ اگر آدھا گھنٹہ اس کمرے میں گزاریں تو کرسی میں بیٹھ کر ہی ایسا ہو سکتا ہے۔ چار افراد75ڈالر دے کر گروپ کی شکل میں آدھے گھنٹے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔
قطعی خاموشی میں یقیناً آپ موسیقی بجا اور سن سکتے ہیں، لیکن یہ معمول سے بہت مختلف لگے گی۔ مثلاً بازگشت اور bass کو دیواریں جذب کر لیں گی۔ نیز آپ اپنے دل کی دھڑکن، پیٹ کی گڑگڑ، پھیپھڑوں کا پھیلنا اور سکڑنا اور خون کا دماغ کی طرف پمپ ہونا بھی سن سکیں گے۔ ایک شخص نے بتایا کہ اُس نے آنکھ جھپکنے پر اپنی آنکھوں کے پپوٹوں کی آواز بھی سنی۔
آج تک یہاں کوئی بھی شخص ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں گزار پایا۔ اگر آپ اکیلے وہاں جا کر ’’سیلف‘‘ کو کھوجنا چاہتے ہیں تو ایک گھنٹے کے لیے400ڈالر دے کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ ارد گرد کا شور، بازگشت اور آوازیں نہ رہنے پر صرف آپ ہوں گے اور آپ کی ’’ہستی‘‘، جس کو محسوس کرنے کے لیے درویش لٹو بنتے ہیں اور قاتل خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔
آپ کو ’’سیلف‘‘ سے تعارف یقیناً خوف زدہ کر دے گا۔ اندرونی خاموشی اور طمانیت پیدا کرنے کا ڈراما دم توڑ جائے گا۔ ہستی کے دروں خانوں اور مخفی کمروں میں ایسی ہی نحوست ہوتی ہے۔
اس لیے اپنی اندرونی سچائی کی فکر نہ کریں۔ وہاں بس دوپہر کو کھائے ہوئے نان چنے کی گڑگڑ ہے۔
یہ مضمون معروف لکھاری یاسر جواد کی ویب سائٹ پر شائع شدہ تحریر سے ماخوذ ہے۔
یاسر جواد کی ویب سائٹ پر اصل مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
"`

