• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » تقسیمِ ہند کے اثرات
ایشیا

تقسیمِ ہند کے اثرات

ترجمہ و تلخیص: شعیب عادل
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 31, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
تاریخ و سیاست

تقسیمِ ہند کے اثرات

ترجمہ و تلخیص: شعیب عادل
بھارتی صحافی اور دانشور کلدیپ نائر اپنی کتاب “سکوپ” میں تقسیمِ ہند کے المناک اثرات، انسانی المیے، وسیع پیمانے پر نقل مکانی، قتل و غارت، پاک بھارت تعلقات اور قائداعظم محمد علی جناح سمیت برصغیر کے اہم سیاسی رہنماؤں کے رویوں کا ایک اہم تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں۔

بھارتی صحافی و دانشور کلدیپ نائر اپنی کتاب “سکوپ” میں تقسیمِ ہند کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ایک نوجوان نیول اتاشی تقسیمِ ہند کے بعد سیلاب کی مانند ہونے والی نقل مکانی سے شدید پریشان تھے۔

پاکستان اور بھارت، دونوں اطراف انسانوں کے قافلے رواں دواں تھے۔ اس بات کی نہ کسی کو توقع تھی اور نہ ہی کوئی ایسا چاہتا تھا، لیکن کسی کے بس میں کچھ نہ تھا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔

اس سب کے باوجود مسلمانوں کا پاکستان آنا اور ہندوؤں کا بھارت جانا نہ رک سکا۔ وہ نوجوان نیول اتاشی ذاتی طور پر بھی شدید فکر مند تھے کیونکہ ان کے اپنے رشتہ دار کہیں راستوں میں پھنسے ہوئے تھے۔

آخر یہ نقل مکانی کیوں ہو رہی تھی؟ کیا یہ ناگزیر تھی؟ اور اس قتل و غارت کے بارے میں کیا کہا جائے؟ لاکھوں لوگ مصائب کا شکار تھے۔ اس کا ذمہ دار کون تھا؟

انہی پریشان کن سوچوں کے ساتھ وہ نوجوان نیول اتاشی معمول کے مطابق کراچی کے گورنمنٹ ہاؤس میں دوپہر کے کھانے کے لیے گیا، جہاں ان کے سربراہ قائدِ اعظم اپنے عملے کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔

قائداعظم سے ایک مشکل سوال

کھانے کے دوران اس نے قائدِ اعظم سے دریافت کیا:

“سر⁦!⁩کیا پاکستان بننا ضروری تھا؟ لوگوں کی تکلیفیں تصور سے باہر ہیں۔ مستقبل کیا شکل اختیار کرے گا؟”

میز کے گرد موجود تمام لوگ، بشمول فاطمہ جناح، یہ سن کر ششدر رہ گئے۔ وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔ ویسے بھی دنگے، فسادات اور نقل مکانی کے غم نے ہر ایک کے دل کو بوجھل کر رکھا تھا۔

سب قائداعظم کی طرف دیکھنے لگے، جنہوں نے جواب دینے میں کچھ وقت لیا۔

آخر کار جناح نے کہا کہ ان سوالات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ صرف آنے والی نسلیں ہی اس کا فیصلہ کریں گی۔

“ہم ان واقعات کے بہت قریب ہیں، اس لیے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔”

اس کے بعد وہ خاموشی میں ڈوب گئے اور کچھ دیر بعد اٹھ کر کھانے کی میز سے چلے گئے۔

بعد ازاں، جب فسادات نہ رکے تو جناح نے سکھوں پر تنقید کی، جنہیں انہوں نے پاکستان اور بھارت کی سرحد پر ایک خودمختار، سکم طرز کی ریاست یعنی آزاد پنجاب کا وعدہ کر کے بھارت سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔

جناح کے پاکستان کا تصور

قائداعظم کے سیکرٹری خورشید احمد نے کئی سالوں بعد لاہور میں کلدیپ نائر کو بتایا کہ جناح نے کبھی اتنے بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور نقل مکانی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

خورشید کے مطابق جناح کے پاکستان کا تصور ایک ایسی پارلیمانی جمہوریت کا تھا جہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا۔

یہ ایک ایسے شخص کے لیے بظاہر عجیب سوچ تھی جس نے دو قومی نظریے کی تبلیغ کی تھی اور جو مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ وطن سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھا۔

دوسری طرف بھارت میں سردار پٹیل اس بات کے لیے بے چین تھے کہ تمام ہندو اور سکھ مغربی پاکستان چھوڑ دیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ان مسلمانوں کی کوئی خاص پروا نہ تھی جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے کیونکہ انہوں نے اپنا مقصد، یعنی پاکستان، حاصل کر لیا ہے۔

نہرو اور کثیرالقومی ہم آہنگی

جواہر لعل نہرو کے لیے کثیرالقومی ہم آہنگی ایمانداری اور عقیدے کا معاملہ تھی۔ وہ مسلم دکانیں لوٹنے والے ہندوؤں کو خود نئی دہلی کی سڑکوں پر جا کر بھگاتے تھے۔

لیکن دونوں اطراف کے مہاجرین اپنے ساتھ اس ملک میں، جہاں وہ گئے، نہ صرف تلخی اور انتقام کے جذبات لے کر آئے بلکہ ان مظالم کی کہانیاں بھی ساتھ لائے جو ان پر انہی علاقوں میں ڈھائے گئے تھے جہاں وہ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے رہتے آئے تھے۔

کاغذات کی حد تک بھارت اور پاکستان دونوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ:

“ان لوگوں کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا جو⁦15⁩اگست سے پہلے سیاسی مخالفین رہے ہوں گے۔”

لیکن عملی طور پر نہ کوئی لچک تھی اور نہ ہی درگزر کا جذبہ۔ دونوں ممالک نے ویسا ہی رویہ اپنایا جیسا تقسیم سے پہلے کانگریس پارٹی اور مسلم لیگ نے اختیار کیا تھا۔

وہی پرانی کوشش تھی کہ دوسری طرف والے کو زیر کیا جائے۔ لیکن اب صورتحال کہیں زیادہ خوفناک تھی — قتل و غارت، تباہی اور لوٹ مار۔

نفرت کی وہ دیوار جو نسلوں تک قائم رہی

سرحد کے دونوں اطراف چند ہفتوں کی اس دیوانگی نے دونوں ممالک کے تعلقات میں آنے والی نسلوں کے لیے تلخی گھول دی۔

یہ دونوں ممالک ہر معاملے پر اور ہر قدم پر اختلاف کرتے۔ ایک دوسرے کے خوف اور بے اعتمادی نے معمولی مسائل کو بھی بڑے تنازعات میں تبدیل کر دیا۔

اس وقت ان کے درمیان خلیج اتنی وسیع تھی کہ محمد علی جناح نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔

انہوں نے ستمبر⁦1947⁩میں کراچی میں ان سے ملنے والے ایک برطانوی اعلیٰ شخصیت لارڈ ازمے سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ:

“اب لڑ کر فیصلہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔”

جناح کو واقعی یقین تھا کہ بھارت ان کے ملک کو تباہ کرنا چاہتا ہے — ایک ایسا خوف جو آج بھی پاکستان کو پریشان کرتا ہے۔

نئی ریاست اور باہمی الزامات

درحقیقت جس دن سے دونوں ممالک وجود میں آئے، الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان نے بھارت پر یہ الزام لگایا کہ وہ اسے قدم جمانے نہیں دے رہا۔

جب فسادات کے باعث ٹرین سروس معطل ہونے کی وجہ سے دہلی سے کراچی سرکاری ریکارڈ بھیجنے میں رکاوٹ آئی تو پاکستان نے اسے نئی ریاست کے انتظام و انصرام کو نقصان پہنچانے کی بھارتی سازش قرار دیا۔

اور جب جوائنٹ ڈیفنس کونسل کو مقررہ وقت سے چار ماہ پہلے، یعنی⁦30⁩نومبر⁦1947⁩کو تحلیل کر دیا گیا، تو حکومتِ پاکستان نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اسے فوجی سامان کے حصے سے محروم کرنے کا ایک طریقہ تھا۔

لیکن یہ بات بھی درست تھی کہ نئی دہلی نے وہ تمام سامان اور ذخائر نہیں بھیجے جن کا کبھی سخاوت سے وعدہ کیا گیا تھا۔

یہاں تک کہ پاکستان آرمی کے کمانڈر ان چیف فیلڈ مارشل کلاڈ اوچنلیک نے بھی بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے منصوبے بنا رہا ہے تاکہ:

“پاکستان کو بھارت کے اسلحہ خانوں اور ڈپوؤں سے اس کا جائز حصہ، یا درحقیقت کچھ بھی، حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔”

انہوں نے پاکستان کے رویے کو “معقول اور تعاون کرنے والا” قرار دیا۔

کشمیر، جنگ اور مالی تنازع

اس وقت تک کشمیر کی جنگ شروع ہو چکی تھی اور بھارت سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ ایسے وقت میں اسلحہ فراہم کرے جب پاکستان کی باقاعدہ اور غیر باقاعدہ فوجیں سری نگر کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں، جو الحاق کی دستاویز پر دستخط کے بعد نئی دہلی کے زیر اثر آ چکا تھا۔

ایک بار پھر غیر تقسیم شدہ ہندوستان کے نقد اثاثوں میں سے کراچی کو اس کا حصہ منتقل کرنے کی راہ میں کشمیر حائل ہو گیا۔

ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان کا حصہ⁦75⁩کروڑ روپے مقرر کیا تھا۔

نئی دہلی نے صرف⁦20⁩کروڑ روپے ادا کیے اور باقی رقم یہ کہہ کر روک لی کہ، پٹیل کے بقول:

“بھارت سے معقول طور پر نقد اثاثوں کی ادائیگی کی توقع نہیں کی جا سکتی جبکہ اس کی افواج کے ساتھ مسلح تصادم جاری ہو۔”

پاکستان کا جواب یہ تھا کہ مذاکرات کے کسی بھی مرحلے پر کشمیر کے مسئلے کا “کبھی ذکر یا غور” نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا ان دونوں معاملات کو جوڑنا ایک “غیر دوستانہ اقدام” تھا۔

ہندوستانی حکومت کا ایک اہم طبقہ پاکستان میں ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے بدلے پاکستان کے حصے کی ایڈجسٹمنٹ کا بھی حامی تھا۔

متروکہ جائیدادوں کا مسئلہ

ایک سرسری اندازے کے مطابق پاکستان میں چھوڑے گئے متروکہ مکانات اور جائیدادوں کی کل مالیت⁦500⁩کروڑ روپے، یعنی تقریباً⁦375⁩ملین ڈالر تھی، جبکہ بھارت میں یہ مالیت⁦100⁩کروڑ روپے، یعنی تقریباً⁦75⁩ملین ڈالر تھی۔

یوں دونوں اطراف کی جائیدادوں میں پانچ اور ایک کا تناسب تھا۔

بھارت میں چھوڑی گئی زرعی زمین⁦48⁩لاکھ ایکڑ اور پاکستان میں⁦38⁩لاکھ⁦39⁩ہزار ایکڑ تھی۔

کراچی کے واجبات کی عدم ادائیگی سے پاک بھارت تعلقات کو شدید نقصان پہنچا۔

آخرکار صرف مہاتما گاندھی کی احتجاجی بھوک ہڑتال کے بعد نئی دہلی نے پاکستان کو اس کا حصہ ادا کیا۔

سردار پٹیل نے اس بات کے لیے مہاتما گاندھی کو کبھی معاف نہیں کیا۔ اور نہ ہی انتہا پسند ہندوؤں نے، جن میں سے ایک نے⁦30⁩جنوری⁦1948⁩کو انہیں شہید کر دیا۔

تجارت بھی تنازع بن گئی

دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے معاملے پر بھی اختلافات پیدا ہو گئے۔

بھارت سے پاکستان اور پاکستان سے بھارت بھیجے جانے والے سامان کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے کے پہلے معاہدے پر تکرار اور جمود پیدا ہو گیا۔

یہ ایک طرح کی کسٹم یونین تھی، لیکن یہ نہ چل سکی۔

اس کے بجائے دونوں ممالک نے کسٹم اور ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کے مقاصد کے لیے ایک دوسرے کو “غیر ملکی” سمجھنا شروع کر دیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت نے کپاس کے لیے مصر کی طرف دیکھا، جو سرحد پار سے آسانی سے دستیاب ہو سکتی تھی، جبکہ پاکستان نے بہار کی قریبی کانوں سے حاصل کرنے کے بجائے برطانیہ اور امریکہ سے کوئلہ منگوانا شروع کر دیا۔

نفرت، انتقام اور ایک نامکمل باب

اگر پاک بھارت تعلقات میں کوئی مثبت پہلو یا امید کی کرن موجود ہوتی، یا دونوں اطراف کے لوگ تقسیم کی حقیقت کو تسلیم کر کے پرسکون ہو گئے ہوتے، تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔

لیکن برصغیر کا ماحول صرف نفرت، خوف، عدم اعتماد اور انتقام سے بھرا ہوا تھا۔

تقسیمِ ہند محض جغرافیے کی تقسیم نہیں تھی بلکہ یہ تاریخ، تہذیب، خاندانوں، یادوں اور نسلوں کے درمیان ایک ایسی لکیر تھی جس کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کی سیاست، معاشرت اور باہمی تعلقات میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

یہ مضمون شعیب عادل کی فیس بک سے کراس پوسٹ کیا گیا ہے
بھارت پاک بھارت تعلقات پاکستان تاریخ برصغیر تقسیم پاکستان و بھارت تقسیم ہند جواہر لعل نہرو سردار پٹیل سکوپ شعیب عادل قائداعظم محمد علی جناح کشمیر کلدیپ نائر مہاتما گاندھی ہجرت
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleآوازوں کا خلا
Next Article اسلامی ریاست کا خواب
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.