امریکہ میں یہودی مخالف جذبات میں اضافے کو اکثریت امریکی ووٹرز محسوس کرتی ہے:سروے
نئے سروے کے مطابق56فیصد امریکی ووٹرز کا کہنا ہے کہ چند برس قبل کے مقابلے میں یہود مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک نئے سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کی اکثریت کا خیال ہے کہ چند برس پہلے کے مقابلے میں امریکہ میں یہود مخالف جذبات(Antisemitism)میں اضافہ ہوا ہے۔
دی سینٹر اسکوائر ووٹرز وائس پول کے مطابق56فیصد امریکی ووٹرز نے کہا کہ یہود مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صرف6فیصد کا خیال ہے کہ ان میں کمی آئی ہے۔23فیصد ووٹرز کے مطابق صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
جن ووٹرز نے یہود مخالف جذبات میں اضافے کی نشاندہی کی، ان میں29فیصد کا کہنا تھا کہ ان میں ’’بہت زیادہ‘‘ اضافہ ہوا ہے، جبکہ27فیصد نے اسے ’’کچھ حد تک‘‘ بڑھا ہوا قرار دیا۔
56٪ — یہود مخالف جذبات میں اضافہ محسوس کرنے والے
29٪ — ’’بہت زیادہ‘‘ اضافے کی رائے
27٪ — ’’کچھ حد تک‘‘ اضافے کی رائے
23٪ — صورتحال کو جوں کا توں سمجھنے والے
6٪ — کمی محسوس کرنے والے
سروے کے نتائج کو اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (ADL) کے حالیہ اعداد و شمار سے بھی تقویت ملتی ہے۔ADLنے ایف بی آئی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ2025میں یہودیوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز جرائم کی شرح بلند رہی اور یہ سال ایسے جرائم کے حوالے سے ریکارڈ کا تیسرا بلند ترین سال تھا۔
ایف بی آئی کے مطابق2025میں یہودیوں کے خلاف 1,528 نفرت انگیز جرائم رپورٹ ہوئے، جو2024کے1,938واقعات کے مقابلے میں کم ہیں۔ تاہم2025میں مذہبی بنیادوں پر رپورٹ ہونے والے مجموعی2,408نفرت انگیز جرائم میں سے تقریباً دو تہائی واقعات یہود مخالف نوعیت کے تھے۔
اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے مطابق حالیہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے حوالے سے2025ریکارڈ کا تیسرا بلند ترین سال تھا، جبکہ ایسے جرائم میں 2 اکتوبر 2023 کے بعد نمایاں اضافہ ہوا، جب حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔
یہودی فیڈریشنز آف نارتھ امریکہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سابق رکن کانگریس ایرک فنگرہٹ نے دی سینٹر اسکوائر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سروے کے نتائج ان کی تنظیم کی جانب سے دیکھے اور سنے جانے والے رجحانات سے ’’ہم آہنگ‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ لوگوں کو ’’ہر روز‘‘ محسوس ہوتا ہے۔
فنگرہٹ نے اس اضافے کی کئی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ7اکتوبر2023کے بعد صورتحال میں ’’تیزی‘‘ آئی۔ ان کے مطابق اس روز حماس کے حملے میں تقریباً1,200اسرائیلی اور یہودی شہری ہلاک ہوئے جبکہ251افراد کو یرغمال بنایا گیا۔
فنگرہٹ نے کہا کہ اسرائیل کی ریاست اور اس کی حمایت کرنے والوں کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم عالمی کوشش جاری ہے۔ ان کے مطابق اس میں امریکی یہودی برادری کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم میں اسرائیل پر نسل کشی، جان بوجھ کر بچوں کو قتل کرنے اور لوگوں کو بھوکا رکھنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں وہ غلط الزامات قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، ان بیانیوں کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بیانیے تیزی سے پھیلتے ہیں اور سیاسی میدان کے دونوں انتہائی دھڑوں کی جانب سے بھی انہیں اپنایا جا رہا ہے۔
سابق ڈیموکریٹک رکن کانگریس فنگرہٹ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک تشویشناک رجحان کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کے مطابق پارٹی بائیں بازو کے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی جانب سے آنے والی اس لہر کا مؤثر مقابلہ کرنے میں بظاہر مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام عوامل کو یکجا کیا جائے تو سروے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار حیران کن نہیں رہتے۔
انہوں نے تعلیمی اداروں میں جاری ایک مہم کا بھی ذکر کیا، بالخصوص2024کے موسم بہار میں ملک بھر کی جامعات میں ہونے والے اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں اور کیمپس میں قائم کیے گئے احتجاجی خیموں کا۔ ان کے مطابق یہ مہمات باقاعدہ طور پر مربوط دکھائی دیتی تھیں۔
اسی تناظر میں اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں تعلیمی شعبے میں یہود مخالف رجحانات کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق یہودی اساتذہ کی یونینوں کے ارکان کی اکثریت کا خیال ہے کہ اساتذہ کی یونینوں میں یہود مخالف رویے وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متعدد اساتذہ اور فیکلٹی ارکان ممکنہ ردعمل یا مخالفت کے خوف میں مبتلا ہیں، جس کے باعث وہ بعض معاملات پر خود سنسرشپ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
سروے کیسے کیا گیا؟
دی سینٹر اسکوائر ووٹرز وائس پول Noble Predictive Insights نے12سے16اگست کے دوران کیا۔ اس میں ملک بھر کے رجسٹرڈ ووٹرز سے آن لائن پینل اور موبائل فون کے ٹیکسٹ ٹو ویب پیغامات کے ذریعے رائے حاصل کی گئی۔
سروے میں مجموعی طور پر 2,533 افراد نے حصہ لیا، جن میں930ریپبلکن،930ڈیموکریٹس اور673آزاد ووٹرز شامل تھے۔ آزاد ووٹرز میں سے330افراد کو حقیقی معنوں میں آزاد قرار دیا گیا، یعنی ایسے افراد جو دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کی طرف بھی جھکاؤ نہیں رکھتے۔
سروے کے نتائج میں ±2.0 فیصد کی غلطی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

