• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟
ایشیا

کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 2, 2026Updated:ستمبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

رائے⁦/⁩تجزیہ

کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟

تقسیمِ ہند، قائداعظم کی آئینی سیاست، کابینہ مشن پلان، علی گڑھ کے طلبہ اور سندھ پر پڑنے والے تاریخی اثرات کا ایک تنقیدی جائزہ


تحریر⁦:⁩ڈاکٹر عبدالروف، سویڈن

ایک سوال ہوا،⁦”⁩کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟⁦”⁩اس سوال کو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب کیا جاتا ہے تو کبھی جون ایلیا سے۔ درحقیقت یہ فقرہ کوئی علمی فیصلہ نہیں، ایک طعنہ ہے؛ اور طعنے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سوچنے کی زحمت بچا دیتا ہے۔

ایک جملے میں نصف صدی کی سیاست، تین بڑی جماعتوں کی حکمتِ عملی، ایک سلطنت کے انخلا کی مجرمانہ عجلت اور کروڑوں انسانوں کا خوف لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔ سہولت بہت ہے، سچائی بہت کم۔

اس طعنہ یا دعوے کی حقیقت سمجھنے کے لیے محمد علی جناح اور ان کے مزاج کو سمجھنا پڑتا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جسے سروجنی نائیڈو نے⁦”⁩ہندو مسلم اتحاد کا سفیر⁦”⁩کہا تھا؛ جس نے⁦1916⁩ء میں میثاقِ لکھنؤ کی صورت میں کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک میز پر بٹھایا؛ جس نے⁦1929⁩ء میں چودہ نکات پیش کیے تو ان کا مرکزی مطالبہ علیحدگی نہیں، وفاق میں تحفظ تھا۔

جناح عدالتوں اور کمیٹی روموں کے آدمی تھے۔ ان کا ہتھیار دلیل تھا، ہجوم نہیں۔

ایسے آدمی کے بارے میں یہ فرض کر لینا کہ اس نے میز پر بیٹھ کر لاکھوں انسانوں کے قتلِ عام اور تاریخ کی سب سے بڑی پُرتشدد ہجرت کا نقشہ بنایا تھا، تاریخ کے ساتھ نہیں، عقلِ سلیم کے ساتھ زیادتی ہے۔

کابینہ مشن پلان⁦:⁩وہ راستہ جو کھل کر بند ہوگیا

اس دعوے کا سب سے مضبوط جواب مئی⁦1946⁩ء میں موجود ہے۔ کابینہ مشن پلان نے ہندوستان کے لیے تین درجاتی ڈھانچہ تجویز کیا تھا⁦:⁩ایک نہایت محدود مرکز جس کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات ہوں؛ صوبوں کے تین گروپ، جن میں گروپ⁦”⁩بی” (پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان⁦)⁩اور گروپ⁦”⁩سی” (بنگال و آسام⁦)⁩عملاً مسلم اکثریت کے زیرِ انتظام ہوتے؛ اور خود صوبے، جن کے پاس باقی تمام اختیارات رہتے۔

مسلم لیگ نے⁦6⁩جون⁦1946⁩ء کو یہ منصوبہ قبول کر لیا۔ اس قبولیت کا مطلب یہ تھا کہ لیگ نے ایک خودمختار، آزاد پاکستان کا مطالبہ فی الوقت طاق میں رکھ دیا۔

سوال سیدھا ہے: کوئی سازشی اپنی سازش کا مقصد اپنے ہاتھ سے کیوں چھوڑے گا؟

سچ یہ ہے کہ جناح ملک توڑنے نہیں، ملک کے اندر مسلمانوں کے لیے آئینی ضمانت حاصل کرنے نکلے تھے اور⁦1946⁩ء کے وسط تک وہ اس میں کامیاب ہو چکے تھے۔

ایک جملہ اور ایک ٹوٹتا ہوا سیاسی سمجھوتا

پھر یہ عمارت گری کیسے؟⁦10⁩جولائی⁦1946⁩ء کو بمبئی میں جواہر لعل نہرو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دستور ساز اسمبلی میں کسی معاہدے کی پابند نہیں ہو گی اور منصوبے میں ردوبدل کر سکتی ہے۔

ایک جملے نے وہ اعتماد ختم کر دیا جو مہینوں کی مشقت سے بنا تھا۔⁦29⁩جولائی کو لیگ نے اپنی منظوری واپس لے لی، اور⁦16⁩اگست کو⁦”⁩یومِ راست اقدام⁦”⁩کا اعلان ہوا۔

کلکتہ میں جو ہوا، وہ برصغیر کی سیاست کا رخ موڑ گیا؛ اندازوں کے مطابق چند دنوں میں ہزاروں انسان مارے گئے۔ اس کے بعد اکتوبر میں نواکھالی، نومبر میں بہار اور گڑھ مکتیشور، اور مارچ⁦1947⁩ء میں راولپنڈی۔

تقسیم سے پورا ایک سال پہلے خون بہنا شروع ہو چکا تھا۔ یعنی قتلِ عام تقسیم کا نتیجہ نہیں تھا؛ وہ آئینی راستے کے بند ہونے کا نتیجہ تھا، اور تقسیم بھی اسی بندش کا نتیجہ تھی۔

برطانوی انخلا کی عجلت

انگریز نے آخری وقت میں جو کیا، اس کا کوئی جواز نہیں۔ فروری⁦1947⁩ء میں ایٹلی نے جون⁦1948⁩ء تک اقتدار کی منتقلی کا اعلان کیا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے مارچ میں آ کر یہ مدت گھٹا کر⁦15⁩اگست⁦1947⁩ء کر دی۔

دس ماہ کی کٹوتی، ایک ایسے برصغیر میں جہاں پہلے ہی فسادات جاری تھے۔ سرحد کھینچنے کا کام سرل ریڈکلف کو سونپا گیا، جو⁦8⁩جولائی کو ہندوستان پہنچے، اس سے پہلے کبھی ہندوستان نہیں آئے تھے، اور جنہیں پانچ ہفتے دیے گئے۔

ان کا فیصلہ⁦17⁩اگست کو، یعنی آزادی کے دو دن بعد شائع ہوا۔⁦14⁩اور⁦15⁩اگست کی رات پنجاب اور بنگال کے لاکھوں لوگ نہیں جانتے تھے کہ ان کا گاؤں کس ملک میں ہے۔

پنجاب باؤنڈری فورس اس آگ کے سامنے ایک مذاق تھی۔ انتظامی نااہلی کو⁦”⁩سازش⁦”⁩کہنا سازش کرنے والوں پر مہربانی ہے۔

علی گڑھ کے طلبہ⁦:⁩سازش یا سیاسی متحرک کاری؟

اب اصل زخم کی طرف آئیے، جسے ہماری درسی کتابیں چھوتی تک نہیں۔ یو پی اور سی پی کے مسلمان اپنے صوبوں میں اقلیت تھے۔ یو پی کی آبادی کا لگ بھگ ساتواں حصہ۔

1937ء کے انتخابات کے بعد کانگریس نے آٹھ صوبوں میں حکومتیں بنائیں، اور یہی خوف اُس طبقے میں سب سے شدید تھا جسے پاکستان سے سب سے کم فائدہ پہنچنا تھا، کیونکہ ان کے صوبے کبھی پاکستان کا حصہ بن ہی نہیں سکتے تھے۔

علی گڑھ کے طلبہ کے بارے میں طعنے میں سچائی کا ایک ذرہ ضرور ہے، مگر وہ ذرہ وہ نہیں جو طعنہ زن سمجھتا ہے۔

1945-46ء کے انتخابات میں یہ نوجوان یو پی، بہار، اور بنگال کے قصبوں میں پھیل گئے، اور مسلم لیگ نے صوبائی اسمبلیوں کی مسلم نشستوں میں سے تقریباً⁦425⁩جیت لیں۔ یہ ایک غیر معمولی تنظیمی کارنامہ تھا۔

لیکن اس کارنامے کی قیمت یہ تھی کہ⁦”⁩پاکستان⁦”⁩جو جناح کے ہاتھ میں ایک سودے کا پتّہ اور ایک آئینی مطالبہ تھا، گلی کوچوں میں ایک عقیدہ بن گیا۔

1946ء کے موسمِ گرما میں جو دروازہ کھلا تھا، وہ کانگریس کی انا اور اس جذباتی مطلق العنانی نے مل کر بند کیا۔ نوجوانوں نے ملک نہیں بنایا؛ انہوں نے درمیانی راستے کی گنجائش ختم کی۔

سندھ⁦:⁩پاکستان کے مطالبے سے سماجی زلزلے تک

اور اس بندش کی سب سے بھاری قیمت اُس صوبے نے ادا کی جس نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مارچ⁦1943⁩ء میں سندھ اسمبلی برصغیر کی پہلی مقننہ تھی جس نے قراردادِ پاکستان کی تائید میں قرارداد منظور کی۔

سندھ نے پاکستان مانگا تھا۔ جو سندھ نے نہیں مانگا تھا، وہ اس کے بعد آنے والا سماجی زلزلہ تھا۔

1941ء کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہندو تھا، اور کراچی، حیدرآباد، سکھر اور شکارپور جیسے شہروں میں یہ تناسب کہیں زیادہ۔ کراچی میں تو تقریباً نصف کے قریب۔

تجارت، تعلیم، طب اور بینکاری کا بڑا حصہ انہی کے ہاتھ میں تھا۔ اور یہ وہ سرزمین تھی جس کی روح شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست نے گوندھی تھی؛ جہاں مذہب دیوار کم اور دہلیز زیادہ تھا۔

اگست ستمبر⁦1947⁩ء میں سندھی ہندوؤں کی اکثریت جانے کو تیار نہیں تھی۔ ان کا کوئی ارادہ گھر چھوڑنے کا نہیں تھا۔ پھر ٹرینیں آنے لگیں۔ پنجاب سے، اور بعد میں یو پی اور سی پی سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ صرف سامان نہیں لائے تھے۔

وہ کٹے ہوئے خاندان، جلائی ہوئی بستیاں اور لاشوں سے بھری گاڑیوں کی یادیں لائے تھے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ کہا جائے⁦:⁩یہ لوگ سب سے پہلے مظلوم تھے۔

مگر تاریخ کا ایک ظالم اصول یہ بھی ہے کہ صدمہ سفر کرتا ہے، اور اکثر اپنی منزل پر پہنچ کر کسی تیسرے فریق سے حساب چکاتا ہے۔

کراچی کی آبادی اور مزاج، دونوں چند برسوں میں بدل گئے۔⁦6⁩جنوری⁦1948⁩ء کو کراچی کے رتن تالاب میں گوردوارے پر ہونے والا حملہ اس بدلاؤ کا سب سے سیاہ لمحہ تھا؛ ہلاکتوں کے سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں میں فرق ہے، مگر یہ اتفاق ہے کہ وہ سینکڑوں میں تھیں۔

اسی دن کے بعد سندھی ہندوؤں کا وہ اجتماعی انخلا شروع ہوا جو چند ماہ پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔

تو جواب کیا ہے؟

یہ کہ⁦”⁩علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش⁦”⁩والا فقرہ اس لیے غلط نہیں کہ اس میں طلبہ کو اہمیت دی گئی ہے، بلکہ اس لیے غلط ہے کہ یہ کہانی کو بہت چھوٹا کر دیتا ہے۔

اس میں کانگریس کی وہ انا نہیں جس نے ایک قابلِ عمل وفاق ٹھکرایا، انگریز کی وہ عجلت نہیں جس نے دس ماہ کاٹ دیے، ریڈکلف کے وہ پانچ ہفتے نہیں، اور ایک خوفزدہ اقلیت کی وہ جذباتی سیاست نہیں جس نے سمجھوتے کو گالی بنا دیا۔

سب سے بڑھ کر، اس میں ہماری اپنی وہ ذمہ داری نہیں جو⁦15⁩اگست⁦1947⁩ء کی صبح سے شروع ہوتی ہے۔

برطانوی راج پاکستان تاریخ پاکستان تحریک پاکستان تقسیم ہند ڈاکٹر عبدالروف سندھ سندھ اسمبلی علی گڑھ علی گڑھ کے طلبہ قائداعظم قیام پاکستان کابینہ مشن پلان کانگریس کراچی محمد علی جناح مسلم لیگ ہجرت
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleجھرک، آغا خان محل سے جناح کی جائے پیدائش تک — ایک بھولی ہوئی تاریخ
Next Article امریکہ میں یہود مخالف جذبات میں اضافہ، نئے سروے میں اہم انکشاف
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.