رائے/تجزیہ
کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟
تقسیمِ ہند، قائداعظم کی آئینی سیاست، کابینہ مشن پلان، علی گڑھ کے طلبہ اور سندھ پر پڑنے والے تاریخی اثرات کا ایک تنقیدی جائزہ
ایک سوال ہوا،”کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟”اس سوال کو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب کیا جاتا ہے تو کبھی جون ایلیا سے۔ درحقیقت یہ فقرہ کوئی علمی فیصلہ نہیں، ایک طعنہ ہے؛ اور طعنے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سوچنے کی زحمت بچا دیتا ہے۔
ایک جملے میں نصف صدی کی سیاست، تین بڑی جماعتوں کی حکمتِ عملی، ایک سلطنت کے انخلا کی مجرمانہ عجلت اور کروڑوں انسانوں کا خوف لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔ سہولت بہت ہے، سچائی بہت کم۔
اس طعنہ یا دعوے کی حقیقت سمجھنے کے لیے محمد علی جناح اور ان کے مزاج کو سمجھنا پڑتا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جسے سروجنی نائیڈو نے”ہندو مسلم اتحاد کا سفیر”کہا تھا؛ جس نے1916ء میں میثاقِ لکھنؤ کی صورت میں کانگریس اور مسلم لیگ کو ایک میز پر بٹھایا؛ جس نے1929ء میں چودہ نکات پیش کیے تو ان کا مرکزی مطالبہ علیحدگی نہیں، وفاق میں تحفظ تھا۔
ایسے آدمی کے بارے میں یہ فرض کر لینا کہ اس نے میز پر بیٹھ کر لاکھوں انسانوں کے قتلِ عام اور تاریخ کی سب سے بڑی پُرتشدد ہجرت کا نقشہ بنایا تھا، تاریخ کے ساتھ نہیں، عقلِ سلیم کے ساتھ زیادتی ہے۔
کابینہ مشن پلان:وہ راستہ جو کھل کر بند ہوگیا
اس دعوے کا سب سے مضبوط جواب مئی1946ء میں موجود ہے۔ کابینہ مشن پلان نے ہندوستان کے لیے تین درجاتی ڈھانچہ تجویز کیا تھا:ایک نہایت محدود مرکز جس کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات ہوں؛ صوبوں کے تین گروپ، جن میں گروپ”بی” (پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان)اور گروپ”سی” (بنگال و آسام)عملاً مسلم اکثریت کے زیرِ انتظام ہوتے؛ اور خود صوبے، جن کے پاس باقی تمام اختیارات رہتے۔
مسلم لیگ نے6جون1946ء کو یہ منصوبہ قبول کر لیا۔ اس قبولیت کا مطلب یہ تھا کہ لیگ نے ایک خودمختار، آزاد پاکستان کا مطالبہ فی الوقت طاق میں رکھ دیا۔
سچ یہ ہے کہ جناح ملک توڑنے نہیں، ملک کے اندر مسلمانوں کے لیے آئینی ضمانت حاصل کرنے نکلے تھے اور1946ء کے وسط تک وہ اس میں کامیاب ہو چکے تھے۔
ایک جملہ اور ایک ٹوٹتا ہوا سیاسی سمجھوتا
پھر یہ عمارت گری کیسے؟10جولائی1946ء کو بمبئی میں جواہر لعل نہرو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دستور ساز اسمبلی میں کسی معاہدے کی پابند نہیں ہو گی اور منصوبے میں ردوبدل کر سکتی ہے۔
ایک جملے نے وہ اعتماد ختم کر دیا جو مہینوں کی مشقت سے بنا تھا۔29جولائی کو لیگ نے اپنی منظوری واپس لے لی، اور16اگست کو”یومِ راست اقدام”کا اعلان ہوا۔
کلکتہ میں جو ہوا، وہ برصغیر کی سیاست کا رخ موڑ گیا؛ اندازوں کے مطابق چند دنوں میں ہزاروں انسان مارے گئے۔ اس کے بعد اکتوبر میں نواکھالی، نومبر میں بہار اور گڑھ مکتیشور، اور مارچ1947ء میں راولپنڈی۔
برطانوی انخلا کی عجلت
انگریز نے آخری وقت میں جو کیا، اس کا کوئی جواز نہیں۔ فروری1947ء میں ایٹلی نے جون1948ء تک اقتدار کی منتقلی کا اعلان کیا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے مارچ میں آ کر یہ مدت گھٹا کر15اگست1947ء کر دی۔
دس ماہ کی کٹوتی، ایک ایسے برصغیر میں جہاں پہلے ہی فسادات جاری تھے۔ سرحد کھینچنے کا کام سرل ریڈکلف کو سونپا گیا، جو8جولائی کو ہندوستان پہنچے، اس سے پہلے کبھی ہندوستان نہیں آئے تھے، اور جنہیں پانچ ہفتے دیے گئے۔
ان کا فیصلہ17اگست کو، یعنی آزادی کے دو دن بعد شائع ہوا۔14اور15اگست کی رات پنجاب اور بنگال کے لاکھوں لوگ نہیں جانتے تھے کہ ان کا گاؤں کس ملک میں ہے۔
پنجاب باؤنڈری فورس اس آگ کے سامنے ایک مذاق تھی۔ انتظامی نااہلی کو”سازش”کہنا سازش کرنے والوں پر مہربانی ہے۔
علی گڑھ کے طلبہ:سازش یا سیاسی متحرک کاری؟
اب اصل زخم کی طرف آئیے، جسے ہماری درسی کتابیں چھوتی تک نہیں۔ یو پی اور سی پی کے مسلمان اپنے صوبوں میں اقلیت تھے۔ یو پی کی آبادی کا لگ بھگ ساتواں حصہ۔
1937ء کے انتخابات کے بعد کانگریس نے آٹھ صوبوں میں حکومتیں بنائیں، اور یہی خوف اُس طبقے میں سب سے شدید تھا جسے پاکستان سے سب سے کم فائدہ پہنچنا تھا، کیونکہ ان کے صوبے کبھی پاکستان کا حصہ بن ہی نہیں سکتے تھے۔
علی گڑھ کے طلبہ کے بارے میں طعنے میں سچائی کا ایک ذرہ ضرور ہے، مگر وہ ذرہ وہ نہیں جو طعنہ زن سمجھتا ہے۔
1945-46ء کے انتخابات میں یہ نوجوان یو پی، بہار، اور بنگال کے قصبوں میں پھیل گئے، اور مسلم لیگ نے صوبائی اسمبلیوں کی مسلم نشستوں میں سے تقریباً425جیت لیں۔ یہ ایک غیر معمولی تنظیمی کارنامہ تھا۔
1946ء کے موسمِ گرما میں جو دروازہ کھلا تھا، وہ کانگریس کی انا اور اس جذباتی مطلق العنانی نے مل کر بند کیا۔ نوجوانوں نے ملک نہیں بنایا؛ انہوں نے درمیانی راستے کی گنجائش ختم کی۔
سندھ:پاکستان کے مطالبے سے سماجی زلزلے تک
اور اس بندش کی سب سے بھاری قیمت اُس صوبے نے ادا کی جس نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مارچ1943ء میں سندھ اسمبلی برصغیر کی پہلی مقننہ تھی جس نے قراردادِ پاکستان کی تائید میں قرارداد منظور کی۔
1941ء کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہندو تھا، اور کراچی، حیدرآباد، سکھر اور شکارپور جیسے شہروں میں یہ تناسب کہیں زیادہ۔ کراچی میں تو تقریباً نصف کے قریب۔
تجارت، تعلیم، طب اور بینکاری کا بڑا حصہ انہی کے ہاتھ میں تھا۔ اور یہ وہ سرزمین تھی جس کی روح شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست نے گوندھی تھی؛ جہاں مذہب دیوار کم اور دہلیز زیادہ تھا۔
اگست ستمبر1947ء میں سندھی ہندوؤں کی اکثریت جانے کو تیار نہیں تھی۔ ان کا کوئی ارادہ گھر چھوڑنے کا نہیں تھا۔ پھر ٹرینیں آنے لگیں۔ پنجاب سے، اور بعد میں یو پی اور سی پی سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ صرف سامان نہیں لائے تھے۔
وہ کٹے ہوئے خاندان، جلائی ہوئی بستیاں اور لاشوں سے بھری گاڑیوں کی یادیں لائے تھے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ کہا جائے:یہ لوگ سب سے پہلے مظلوم تھے۔
مگر تاریخ کا ایک ظالم اصول یہ بھی ہے کہ صدمہ سفر کرتا ہے، اور اکثر اپنی منزل پر پہنچ کر کسی تیسرے فریق سے حساب چکاتا ہے۔
کراچی کی آبادی اور مزاج، دونوں چند برسوں میں بدل گئے۔6جنوری1948ء کو کراچی کے رتن تالاب میں گوردوارے پر ہونے والا حملہ اس بدلاؤ کا سب سے سیاہ لمحہ تھا؛ ہلاکتوں کے سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں میں فرق ہے، مگر یہ اتفاق ہے کہ وہ سینکڑوں میں تھیں۔
اسی دن کے بعد سندھی ہندوؤں کا وہ اجتماعی انخلا شروع ہوا جو چند ماہ پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔
تو جواب کیا ہے؟
یہ کہ”علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش”والا فقرہ اس لیے غلط نہیں کہ اس میں طلبہ کو اہمیت دی گئی ہے، بلکہ اس لیے غلط ہے کہ یہ کہانی کو بہت چھوٹا کر دیتا ہے۔
اس میں کانگریس کی وہ انا نہیں جس نے ایک قابلِ عمل وفاق ٹھکرایا، انگریز کی وہ عجلت نہیں جس نے دس ماہ کاٹ دیے، ریڈکلف کے وہ پانچ ہفتے نہیں، اور ایک خوفزدہ اقلیت کی وہ جذباتی سیاست نہیں جس نے سمجھوتے کو گالی بنا دیا۔
سب سے بڑھ کر، اس میں ہماری اپنی وہ ذمہ داری نہیں جو15اگست1947ء کی صبح سے شروع ہوتی ہے۔

