حوثیوں اور الشباب کے بڑھتے اتحاد نے امریکا اور خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی
ایران نواز یمنی حوثی باغیوں اور صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے درمیان مبینہ بڑھتا تعاون خطے میں سلامتی اور بحری تجارت کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
- حوثیوں اور الشباب کے درمیان مبینہ فوجی تعاون میں اسلحے اور تربیت کی فراہمی شامل ہے۔
- الشباب کے جنگجوؤں کو ڈرونز اور جدید دھماکا خیز مواد کے استعمال کی تربیت دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
- دونوں تنظیمیں خلیج عدن کے قریب سرگرم ہیں، جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
- امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعاون خطے میں دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
امریکی اور علاقائی حکام کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں اور صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے درمیان ابھرتا ہوا اتحاد تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہ انکشاف
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک خصوصی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ شراکت داری دو ایسی تنظیموں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے جنہیں امریکا نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے اور جو دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل
خلیج عدن کے اطراف سرگرم ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق الشباب کے جنگجوؤں کو حوثیوں کی جانب سے اسلحے کی مدد اور فوجی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ اس تربیت میں ڈرونز اور جدید دھماکا خیز مواد کے استعمال سے متعلق
ہدایات بھی شامل ہیں۔ اس کے بدلے حوثیوں کو اضافی مالی وسائل اور خطے میں اپنی رسائی بڑھانے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔
خلیج عدن میں دونوں تنظیموں کی موجودگی اور ان کے درمیان مبینہ تعاون سے امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ خطرہ اب صرف یمن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحری تجارت اور خطے کے دونوں اطراف تک پھیل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تعاون کو جبریل ’’ون آرمڈ‘‘ یحییٰ علی نامی الشباب کے ایک کارکن نے آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ وہ دونوں گروہوں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کرتا رہا،
تاہم رواں سال کے آغاز میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کی ہلاکت کے باوجود دونوں تنظیموں کے درمیان تعاون جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کے بحری تجارتی راستے پہلے ہی ایران نواز خطرات، بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں اور تہران کے اتحادی مسلح گروہوں سے جڑی وسیع تر
علاقائی بے چینی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں۔
واشنگٹن کے لیے تشویش اب صرف یمن تک محدود نہیں رہی۔ حوثی اور الشباب کے درمیان ممکنہ مضبوط شراکت داری خلیج عدن کے دونوں اطراف خطرے کو پھیلا سکتی ہے، جس سے تجارتی جہاز رانی،
توانائی کی ترسیل اور دنیا کی اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ میں فوجی کارروائیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکا نے رواں سال صومالیہ میں الشباب کے خلاف اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں سے حاصل ہونے والی تکنیکی اور عسکری مہارت الشباب کو
مزید مہلک بنا سکتی ہے اور اسے قابو کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
حوثیوں اور الشباب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے علاقائی پراکسی نیٹ ورک اور مختلف جہادی تحریکوں کے درمیان روابط کس طرح اسرائیل کی سرحدوں سے کہیں
آگے تک پھیل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا تعاون خطے میں پہلے سے موجود سلامتی کے خطرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

