چار گرہ داڑھی کی قسمت
ستمبر کی وہ صبح جب نیویارک کا آسمان دھوئیں سے سیاہ ہوا، اُس دن صرف عمارتیں نہیں گریں — بہت سے چہروں کی معصومیت بھی ملبے تلے دب گئی۔ جو لوگ اُس دن گھروں سے دفتر کے لیے نکلے تھے، اُن میں کچھ ایسے بھی تھے جن کا اُس سانحے سے دور کا بھی تعلق نہ تھا، مگر اگلی صبح جب وہ آئینے میں اپنی داڑھی اور اپنی پگڑی دیکھتے، تو اُنہیں لگتا جیسے اُن کا اپنا چہرہ ہی اُن کے خلاف ایک الزام بن گیا ہو۔
امریکہ میں بسنے والے سکھ، جن کی مذہبی روایت انہیں لمبی داڑھی رکھنے اور سر پر پگڑی باندھنے کا حکم دیتی ہے، اُس صبح کے بعد ایک ایسی دنیا میں جاگے جہاں اُن کا لباسِ عقیدت، دہشت کی علامت میں بدل دیا گیا تھا۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بار بار دکھائی جانے والی اسامہ بن لادن کی تصویر نے عام امریکی ذہن میں ایک ایسا خاکہ بٹھا دیا کہ داڑھی، پگڑی اور گہرا رنگ اب گناہ کی علامت سمجھے جانے لگے — چاہے اُس کے پیچھے کسی سکھ کسان کا بیٹا ہو یا کوئی بے گناہ تاجر۔
بلبیر سنگھ سوڈھی — پہلا نشانہ
نائن الیون کے صرف چار دن بعد، ایریزونا کے شہر میسا میں ایک پیٹرول پمپ کا مالک، بلبیر سنگھ سوڈھی، اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھا۔ وہ ایک سکھ تھا — لمبی داڑھی، سر پر پگڑی۔ اُسی دن ایک شخص نے اُسے صرف اِس بنا پر گولی مار دی کہ اُس کا حلیہ اُس تصویر سے ملتا تھا جو ٹی وی پر بار بار دکھائی جا رہی تھی۔ قاتل نے بعد میں کہا کہ وہ”کچھ پگڑی والوں کو سبق سکھانا”چاہتا تھا۔
بلبیر سنگھ کا اپنے قاتل کے مذہب، اُس کی سوچ، اُس کے جرم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اُس کی واحد”غلطی”یہ تھی کہ اُس کا چہرہ ایک ایسی تصویر سے ملتا تھا جسے پوری قوم نے اپنے دشمن کا نام دے دیا تھا۔
آج، پچیس برس بعد بھی، اُس کا بھائی رانا سنگھ سوڈھی اپنے بھائی کی یاد میں لوگوں کو یہی سبق دیتا پھرتا ہے کہ نفرت کا واحد علاج، ایک دوسرے کو سمجھنا اور عزت دینا ہے۔
وشوجیت سنگھ — ایک شہر میں اجنبی
نیویارک کے رہائشی وشوجیت سنگھ نے نائن الیون کے بعد اپنے ہی دفتر میں، اپنے ہی ساتھیوں کی آنکھوں میں ایک انجانی سرد نگاہ محسوس کی۔ جو لوگ کل تک اُس کے دوست تھے، وہ اچانک اُس کی داڑھی اور پگڑی کو کسی خطرے کی علامت سمجھنے لگے۔
ایک اور واقعے میں، سڑک پر چلتے ہوئے ایک سکھ نوجوان کو کچھ لڑکوں نے گھیر لیا،”دہشت گرد، اوسامہ، پکڑو اِسے”کے نعرے لگائے، اُس کی داڑھی کھینچی، اور اُسے اتنا مارا کہ اُس کا جبڑا ٹوٹ گیا۔ وہ زمین پر پڑا، مار کھاتا رہا، یہاں تک کہ راہگیروں نے بیچ بچاؤ کیا۔
یہ کہانیاں الگ الگ چہروں کی ہیں، مگر دکھ ایک ہی ہے — ایک ایسا دکھ جو نسلوں کے بعد بھی چہروں پر لکھا رہ جاتا ہے۔
بروکلین کا”چھوٹا پاکستان” — خاموشی سے ہجرت
نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک بستی تھی جسے لوگ پیار سے”لِٹل پاکستان”کہتے تھے۔ نائن الیون کے بعد کے مہینوں میں، وہاں سے ہزاروں خاندان خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے، سرحد پار کینیڈا کی طرف نکل گئے۔ کچھ واپس پاکستان چلے گئے، کچھ کہیں اور بس گئے۔ دکانیں بند ہو گئیں، خاندان بکھر گئے۔
یہ ہجرت اتنی خاموش تھی کہ آج تک کوئی سرکاری ادارہ اِس کی صحیح تعداد نہیں بتا سکا — نہ کتنے گئے، نہ کتنے واپس آئے۔ یہ اُن لوگوں کی کہانی ہے جو دستاویزات کے بغیر جیتے تھے، اور جن کا خوف اتنا حقیقی تھا کہ وہ اپنے گھر، اپنا کاروبار، اپنی مٹی چھوڑ کر نامعلوم مستقبل کی طرف نکل پڑے۔
ایک کارکن، مونامی موُلک، نے اُن حراست میں لیے گئے مردوں سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ شیشے کے پیچھے بیٹھے درجنوں مرد — مسلمان بھی، سکھ بھی — سب اپنی کہانی سنانے کو بے تاب تھے۔ یہ سب عام مزدور تھے:پیٹرول پمپ پر کام کرنے والے، ٹیکسی چلانے والے، ریستوران میں برتن دھونے والے۔ اُن کا واحد”جرم”یہ تھا کہ وہ اُس وقت، اُس ملک میں، اُس شکل و صورت کے ساتھ موجود تھے۔
ادریس البکری کی نئی صبح
ہر کہانی اندھیرے پر ختم نہیں ہوتی۔ ادریس البکری، ایک عرب مسلمان طالب علم، امریکہ میں امیگریشن حکام کے بار بار سوالات اور اپنی حجاب پوش بیوی کی بڑھتی ہوئی بے چینی سے تنگ آ کر کینیڈا کے شہر ونی پیگ منتقل ہو گیا۔
آج، برسوں بعد، وہ وہاں کی مسلم کمیونٹی کی قیادت کرتا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ کینیڈا جا کر اُسے وہ سکون ملا جو امریکہ میں کھو گیا تھا۔ یہ سکون، دراصل، اُس بنیادی حق کی واپسی تھی جو ہر انسان کو حاصل ہونا چاہیے — اپنے عقیدے کے ساتھ، بغیر خوف کے جینے کا حق۔
ایک سوال جو آج بھی زندہ ہے
پچیس برس گزر گئے۔ ٹاورز کی جگہ نئی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہیں، مگر داڑھی اور پگڑی کے خلاف وہ شکوک آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ سکھ کولیشن جیسی تنظیمیں آج بھی اسکولوں میں بچوں کے خلاف تعصب، دفاتر میں امتیازی سلوک، اور سڑکوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔
یہ تحریر کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ یہ اُن گمنام چہروں کے لیے ہے جنہوں نے اپنے عقیدے کی قیمت اپنے خون سے، اپنی عزت سے، اپنے وطن کی محبت سے چکائی۔
نائن الیون کا سانحہ ایک قومی زخم تھا، مگر اُس زخم کے پیچھے چھپے وہ دوسرے زخم بھی یاد رکھنے کے لائق ہیں — وہ زخم جو کبھی سرخیوں میں جگہ نہ پا سکے۔
بلبیر سنگھ سوڈھی کی مسکراہٹ، وشوجیت سنگھ کا ٹوٹا ہوا جبڑا، لِٹل پاکستان کی خالی گلیاں، اور ادریس البکری کی نئی صبح — یہ سب اُس ایک صبح کی کہانی کے مختلف باب ہیں جسے دنیا صرف”نائن الیون”کے نام سے یاد رکھتی ہے۔
مگر تاریخ کو مکمل انصاف تب ملے گا جب ہم اُن کہانیوں کو بھی سنیں گے جو ملبے تلے نہیں، بلکہ خوف کے سائے تلے دبی رہ گئیں۔
