
اسرائیل پر جب بھی راکٹ حملے کی خبر آتی ہے تو دنیا بھر میں ایک نام فوراً سامنے آتا ہے، آئرن ڈوم۔
لیکن عسکری اعتبار سے اسرائیل کے فضائی دفاع کو صرف آئرن ڈوم سمجھنا درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے مختلف نوعیت کے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایسا کثیر سطحی دفاعی نظام قائم کیا ہے جس کی ہر تہہ ایک مختلف خطرے کے لیے مخصوص ہے۔
مختصر فاصلے کے راکٹ ہوں، بغیر پائلٹ حملہ آور طیارے ہوں، کروز میزائل ہوں یا فضا کی انتہائی بلندی سے آنے والے بیلسٹک میزائل، اسرائیل کی کوشش یہ ہے کہ ہر خطرے کو مناسب فاصلے اور بلندی پر روکنے کے لیے الگ دفاعی صلاحیت موجود ہو۔
اس دفاعی نظام کے اہم ستون آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ، ایرو-2اور ایرو-3ہیں۔ اب اس دفاعی ڈھانچے میں آئرن بیم بھی شامل ہورہا ہے، جس میں میزائل کے بجائے طاقتور لیزر شعاع سے راکٹ، مارٹر اور ڈرون تباہ کیے جاتے ہیں۔
یہ صرف چند میزائل بیٹریوں کی کہانی نہیں۔ یہ کئی دہائیوں کی تحقیق، جنگی تجربے، اسرائیلی دفاعی صنعت اور امریکہ کے ساتھ گہرے عسکری تعاون کا نتیجہ ہے۔
اس کے پیچھے ایک بنیادی اصول ہے:دشمن کے ہتھیار کو اسرائیلی آبادی تک پہنچنے سے پہلے تباہ کردیا جائے۔
پہلی دفاعی تہہ:آئرن ڈوم
آئرن ڈوم اسرائیل کے فضائی دفاع کا سب سے مشہور حصہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مختصر فاصلے سے داغے جانے والے راکٹوں اور اسی نوعیت کے خطرات کو روکنا ہے۔
جیسے ہی کوئی راکٹ داغا جاتا ہے، ریڈار اس کا سراغ لگاتا ہے۔ مرکزی نظام اس کی رفتار، سمت اور ممکنہ مقامِ سقوط کا حساب لگاتا ہے۔ اگر اندازہ ہو کہ راکٹ کسی غیر آباد علاقے میں گرے گا تو ضروری نہیں کہ اس کے خلاف قیمتی دفاعی میزائل استعمال کیا جائے۔ لیکن اگر راکٹ کسی شہر، فوجی تنصیب یا اہم عمارت کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے فضا میں تباہ کرنے کے لیے دفاعی میزائل داغا جاتا ہے۔
یہی آئرن ڈوم کی ذہانت ہے۔ اس کا مقصد ہر راکٹ کو گرانا نہیں بلکہ خطرناک راکٹ کو پہچان کر اسے تباہ کرنا ہے۔ اس طرح دفاعی میزائلوں کو غیر ضروری طور پر ضائع ہونے سے بھی بچایا جاتا ہے۔
جون2026میں اسرائیل نے آئرن ڈوم میں مزید بہتری کے بعد کامیاب تجربات کیے۔ ان تجربات میں راکٹوں کے ساتھ کروز میزائل اور ڈرون جیسے پیچیدہ خطرات، حتیٰ کہ بیک وقت بڑی تعداد میں آنے والے حملوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دوسری دفاعی تہہ:ڈیوڈز سلنگ
آئرن ڈوم سے اوپر ڈیوڈز سلنگ دفاعی نظام موجود ہے۔ اسے آئرن ڈوم اور ایرو کے درمیان درمیانی دفاعی تہہ سمجھا جاسکتا ہے۔
اس کا مقصد ان خطرات کو روکنا ہے جو آئرن ڈوم کے بنیادی دائرۂ کار سے زیادہ دور، زیادہ تیز یا زیادہ طاقتور ہوں۔ یہ نظام بڑے راکٹوں، مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں اور دوسرے درمیانی فاصلے کے فضائی خطرات کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔
فروری2026میں اسرائیل اور امریکی میزائل دفاعی ادارے نے ڈیوڈز سلنگ کے نئے تجربات کیے۔ ان میں راکٹ، میزائل، کروز میزائل، طیارے اور بغیر پائلٹ فضائی نظام جیسے مختلف خطرات شامل تھے۔
یہاں اسرائیلی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اسرائیل اپنے دفاعی نظام کو کبھی مکمل شدہ منصوبہ نہیں سمجھتا۔ ہر حقیقی حملہ نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔ دشمن اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتا ہے، اسرائیلی فوج اور انجینئر اس کا مطالعہ کرتے ہیں، کمزوریاں تلاش کرتے ہیں اور پھر دفاعی نظام میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔
تیسری دفاعی تہہ:ایرو-2
اب ہم مختصر فاصلے کے راکٹوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہتھیار کی طرف آتے ہیں:بیلسٹک میزائل۔
بیلسٹک میزائل انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرسکتے ہیں اور بہت زیادہ بلندی سے اپنے ہدف کی طرف آتے ہیں۔ ایسے خطرات کے مقابلے کے لیے اسرائیل نے ایرو خاندان تیار کیا۔
ایرو-2درمیانے اور طویل فاصلے کے میزائل خطرات کے خلاف بالائی دفاعی تہہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ طاقتور ریڈار اور مرکزی نگرانی و فیصلہ سازی کا نظام کام کرتا ہے۔
یہاں اصل جنگ چند لمحوں کی ہوتی ہے۔ میزائل کہاں سے داغا گیا؟ اس کی رفتار کیا ہے؟ اس کا ممکنہ ہدف کیا ہے؟ کس دفاعی میزائل کو استعمال کرنا ہے؟ اسے کس لمحے داغنا ہے؟ اگر پہلی کوشش ناکام ہوجائے تو دوسری کوشش کے لیے کتنا وقت باقی ہے؟
ان سوالات کے جواب چند لمحوں میں دینا پڑتے ہیں۔ اسی لیے جدید فضائی دفاع صرف میزائلوں کی جنگ نہیں، یہ معلومات، رفتار اور درست فیصلے کی جنگ بھی ہے۔
چوتھی دفاعی تہہ:ایرو-3
اسرائیلی دفاع کی بلند ترین تہوں میں ایرو-3شامل ہے۔ یہاں جنگ زمین سے بہت اوپر پہنچ جاتی ہے۔
ایرو-3طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو انتہائی بلندی پر، حتیٰ کہ زمین کے فضائی ماحول سے باہر روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اگر دشمن کے بیلسٹک میزائل کو اسرائیل تک پہنچنے سے بہت پہلے اور انتہائی بلندی پر تباہ کردیا جائے تو دفاع کرنے والے ملک کو ایک اضافی حفاظتی فاصلہ حاصل ہوجاتا ہے۔
ایرو پروگرام امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی تعاون کی نمایاں مثال ہے۔ ایرو-2اور ایرو-3کی تیاری میں امریکی میزائل دفاعی ادارہ اسرائیل کے ساتھ شریک رہا ہے۔ یہ تعلق صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، تجربات اور مشترکہ سلامتی کے مفادات پر قائم شراکت داری ہے۔
امریکہ کا کردار
اسرائیلی میزائل دفاع کی کہانی امریکہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔
ایرو پروگرام میں امریکہ شریک ہے۔ ڈیوڈز سلنگ کی تیاری میں بھی امریکی تعاون شامل ہے۔ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں مختلف منصوبوں میں مل کر کام کرتی ہیں۔
یہ تعاون یک طرفہ نہیں۔ اسرائیل کو امریکی وسائل، صنعت اور ٹیکنالوجی سے فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ امریکہ کو ایک ایسے اتحادی کے حقیقی جنگی تجربے سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے جو مسلسل راکٹ، ڈرون اور میزائل خطرات کا سامنا کرتا ہے۔
اس لیے امریکہ اور اسرائیل کا تعاون صرف اسرائیلی سرزمین کے دفاع تک محدود نہیں۔ یہ مستقبل کے مغربی فضائی دفاع کی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔
آئرن بیم:میزائل کے مقابل لیزر
فضائی دفاع کا ایک بڑا مسئلہ ہمیشہ قیمت رہا ہے۔ اگر دشمن نسبتاً سستا ڈرون یا راکٹ داغتا ہے اور اسے روکنے کے لیے کئی گنا مہنگا دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑے تو دفاع کامیاب ہونے کے باوجود دشمن معاشی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آئرن بیم انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ آئرن بیم روایتی دفاعی میزائل کے بجائے طاقتور لیزر شعاع استعمال کرتا ہے۔ دسمبر2025میں پہلا عملی آئرن بیم نظام اسرائیلی فضائیہ کے حوالے کیا گیا۔
اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ثابت ہوتی ہے تو فضائی دفاع کی پوری معاشی مساوات بدل سکتی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں رہے گا کہ دشمن کا ڈرون گرایا جاسکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ اسے گرانے پر کتنی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
کوئی دفاع ناقابلِ شکست نہیں
اسرائیلی فضائی دفاع کی کامیابی کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بنیادی عسکری حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے:دنیا کا کوئی فضائی دفاع سو فیصد ناقابلِ شکست نہیں۔
دشمن بیک وقت بڑی تعداد میں راکٹ، ڈرون اور میزائل داغ کر دفاعی نظام کو اس کی عملی حد تک پہنچانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ ہر دفاعی بیٹری کی ایک حد ہوتی ہے۔ دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ بھی لامحدود نہیں ہوتا۔ ریڈار اور فیصلہ سازی کے نظام کی بھی عملی حدود ہوتی ہیں۔
اسی لیے صرف دفاع کافی نہیں۔ اگر دشمن مسلسل میزائل داغنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے تو دفاع کرنے والے ملک کو بالآخر اس خطرے کے منبع کو بھی کمزور کرنا پڑتا ہے۔ میزائل دفاع شہریوں کو تحفظ اور فوج کو وقت فراہم کرتا ہے، لیکن طویل جنگ میں دفاع اور جوابی کارروائی ایک دوسرے سے جدا نہیں رہ سکتے۔
ایران نے خطرے کی نوعیت بدل دی
حماس کے مختصر فاصلے کے راکٹ اور ایران سے داغا جانے والا طویل فاصلے کا بیلسٹک میزائل ایک جیسے خطرات نہیں۔
ایران کے براہِ راست حملوں نے اسرائیل کے سامنے ایک زیادہ پیچیدہ جنگی مسئلہ پیدا کیا ہے، جس میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون ایک ہی وقت میں دفاعی نظام کے مختلف حصوں کو آزما سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایرو جیسے نظاموں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ اپریل2026میں اسرائیلی وزارتِ دفاع نے ایرو دفاعی میزائلوں کی پیداوار مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ جدید جنگ کا ایک اور اہم سبق ہے۔ صرف بہترین ہتھیار بنانا کافی نہیں۔ انہیں بڑی تعداد میں اور مسلسل بنانے کی صنعتی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ طویل جنگ میں فوج کے ساتھ کارخانے بھی جنگ لڑتے ہیں۔
دنیا اسرائیل سے کیا سیکھ سکتی ہے؟
میرے نزدیک اسرائیلی فضائی دفاع سے تین بنیادی عسکری اسباق حاصل ہوتے ہیں۔
پہلا سبق:ایک ہی دفاعی نظام ہر خطرے کا جواب نہیں ہوسکتا۔ مختصر فاصلے کے راکٹ اور طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل کے خلاف ایک ہی ہتھیار استعمال کرنا نہ عملی طور پر مناسب ہے اور نہ معاشی طور پر۔
دوسرا سبق:ریڈار، انٹیلی جنس اور فوری فیصلہ سازی دفاعی میزائل جتنے ہی اہم ہیں۔ اگر آپ دشمن کے ہتھیار کو بروقت دیکھ ہی نہیں سکتے تو بہترین میزائل بھی آپ کو نہیں بچا سکتا۔
تیسرا سبق:دفاعی ٹیکنالوجی کو مسلسل بدلنا پڑتا ہے۔ دشمن آپ کی کمزوری تلاش کرتا ہے، آپ دشمن کی نئی حکمتِ عملی کا جواب تلاش کرتے ہیں، پھر دشمن دوبارہ اپنی حکمتِ عملی بدلتا ہے۔ یہ عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہی جدید جنگ ہے۔
آخری بات
اسرائیل جغرافیائی طور پر ایک چھوٹا ملک ہے۔ اسی لیے میزائل دفاع میں غلطی کی گنجائش بھی بہت کم ہے۔
اس مجبوری نے اسرائیل کو فضائی اور میزائل دفاع میں غیر معمولی سرمایہ کاری، تحقیق اور اختراع پر مجبور کیا۔ آئرن ڈوم مختصر فاصلے کے خطرات کا مقابلہ کرتا ہے۔ ڈیوڈز سلنگ درمیانی دفاعی تہہ فراہم کرتا ہے۔ ایرو-2اور ایرو-3زیادہ دور اور زیادہ بلند بیلسٹک خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور آئرن بیم لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں نسبتاً سستے راکٹوں اور ڈرونز کے خلاف دفاع کی قیمت کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیکن ان تمام ہتھیاروں کے پیچھے اصل طاقت صرف میزائل نہیں۔ اصل طاقت انٹیلی جنس، ریڈار، فوری فیصلہ سازی، دفاعی صنعت، مسلسل تحقیق، جنگی تجربہ اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان گہرا دفاعی تعاون ہے۔
آئرن ڈوم کوئی جادوئی چھتری نہیں۔ یہ ایک بہت بڑے اور مسلسل ترقی کرتے ہوئے دفاعی نظام کی صرف ایک تہہ ہے۔
اسرائیلی تجربے کا شاید سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جدید جنگ میں زندہ رہنے کے لیے صرف طاقتور فوج کافی نہیں۔ آپ کو دشمن سے زیادہ تیزی سے سیکھنا، زیادہ تیزی سے نئی ٹیکنالوجی تیار کرنا اور اگلا حملہ آنے سے پہلے اپنا دفاع بہتر کرنا پڑتا ہے۔
مصنف کا تعارف
منصور لغاری امریکی فوج کے سابق اسپیشلسٹ، دفاعی و عسکری تجزیہ کار، انسانی حقوق کے کارکن اور گلوبل یوتھ یونٹی پروجیکٹ کے بانی ہیں۔ وہ بین الاقوامی سلامتی، دہشت گردی و انتہا پسندی، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جدید جنگی حکمتِ عملی پر لکھتے ہیں۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

