• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » یہود دشمنی کی نئی لہر، ایک عالمی خطرہ
خصوصی رپورٹ

یہود دشمنی کی نئی لہر، ایک عالمی خطرہ

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 19, 2026Updated:اگست 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

یہود دشمنی کی نئی لہر، ایک عالمی خطرہ

گزشتہ جولائی کے اختتام تک اینٹی ڈیفیمیشن لیگ⁦(ADL)⁩نے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ ’’2025 بیرونِ اسرائیل یہودیوں کے خلاف یہود مخالف تشدد کے اعتبار سے تین دہائیوں سے زائد عرصے کا سب سے مہلک سال تھا، یعنی⁦1994⁩میں ارجنٹائن میں ہونے والے اے ایم آئی اے بم دھماکے کے بعد سب سے خطرناک سال۔‘‘

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صرف یہودی ہونے کی وجہ سے⁦20⁩افراد کو قتل کر دیا گیا۔ یہ حملے آسٹریلیا، انگلینڈ اور امریکا میں کیے گئے، جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں اسرائیل سے باہر دنیا کی سب سے بڑی یہودی آبادی رکھنے والے سات ممالک میں یہود دشمنی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، ارجنٹائن، آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔

91 ہزار کے قریب واقعات

مطالعے میں تقریباً⁦91⁩ہزار یہود مخالف واقعات ریکارڈ کیے گئے، یعنی روزانہ تقریباً⁦250⁩واقعات۔ یہ تعداد اکتوبر⁦2023⁩میں دہشت گرد تنظیم حماس کے حملے سے پہلے ریکارڈ کیے گئے واقعات کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔

یہود دشمنی اب محض معاشرے کے حاشیے پر موجود افراد تک محدود ذہنی یا سماجی بیماری نہیں رہی بلکہ سیاست، سوشل میڈیا اور جامعات میں بھی اس کی موجودگی دکھائی دے رہی ہے۔ یہود کو شیطانی کردار میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ہولوکاسٹ کی اہمیت کو کم کرنے اور ریاستِ اسرائیل کے وجود کے حق کو مسترد کرنے جیسے رجحانات بھی اس میں شامل ہیں۔

اس صورتحال کی شدت کے ساتھ ایک نیا پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف سیاسی تحریکیں، جن کے درمیان عام طور پر بہت کم یا کوئی نظریاتی مماثلت نہیں، یہود مخالف جارحیت کے معاملے میں ایک دوسرے کے قریب آ گئی ہیں۔ ان میں روایتی دائیں بازو کے فاشسٹ، انتہائی بائیں بازو کے گروہ اور اسلامی بنیاد پرست شامل ہیں، جبکہ بعض خود کو ترقی پسند کہنے والے ماہرینِ تعلیم بھی ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

دنیا کی مجموعی آبادی میں یہودیوں کا حصہ صرف تقریباً⁦0.2⁩فیصد ہے، لیکن انہیں یہود دشمنی کا شکار افراد کے بجائے ’’سفید فام بالادستی‘‘ کے حامیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گویا وہ خود یہود دشمنی کا نشانہ نہیں بلکہ اس کے مرتکب ہیں۔

ایک مختصر تاریخی پس منظر

فلسفی وکٹر کلیمبرر نے⁦1947⁩میں یہ تصور پیش کیا کہ نازی پروپیگنڈا صرف تقاریر کے ذریعے نہیں پھیلایا گیا بلکہ اس کے لیے ایک ’’نازی زبان‘‘ بھی تشکیل دی گئی۔ یعنی ایسے الفاظ اور اصطلاحات جو لاکھوں مرتبہ دہرائے گئے، یہاں تک کہ لوگ انہیں سوچے سمجھے بغیر اور غیر شعوری طور پر قبول کرنے لگے۔

آج بھی یہود مخالف اصطلاحات کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ’’عالمی یہودی سازش‘‘، ’’یہودی دولت‘‘ یا ’’صہیونیت‘‘ کو نسل پرستی کا مترادف قرار دینے جیسے الفاظ اور تصورات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں۔

مفکر فرانسس فوکویاما نے حال ہی میں It’s the Internet, Stupid کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے، جس میں وہ عوام پسند سیاست کے عروج کو انٹرنیٹ کے اثرات سے جوڑتے ہیں۔ ہمارے نقطۂ نظر سے انٹرنیٹ پر بھیجے جانے والے پیغامات میں گمنامی نے یہود دشمنی کو بھی غیر معمولی رفتار سے بڑھایا ہے۔

سوشل میڈیا اور سازشی نظریات

جیسا کہ میں اپنے سابقہ مضامین میں نشاندہی کر چکا ہوں، سوشل میڈیا انسانی جذبات کے انتہائی ردعمل، خصوصاً خوف اور نفرت، کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں سازشی نظریات عام ہو جاتے ہیں۔

ارجنٹائن میں یہود مخالف واقعات کا⁦66⁩فیصد آن لائن پیش آتا ہے۔ اب اس میں مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم بھی شامل ہو گئے ہیں۔⁦ADL⁩کے مطابق یہ پلیٹ فارم ’’یہودیوں اور صہیونیوں کے خلاف تعصب سے نمٹنے میں کم از کم کچھ خامیوں‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سبھی کو انتہا پسندانہ مواد سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا کا چیلنج: یورپ میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت پلیٹ فارمز کو نفرت انگیز مواد⁦24⁩گھنٹوں کے اندر ہٹانا ضروری ہے، تاہم عملی طور پر⁦24⁩گھنٹے بھی اس نوعیت کے مواد کے پھیلاؤ کے لیے خاصا طویل وقت ثابت ہو سکتا ہے۔

ADL نے ایران کے ہسپانوی زبان کے ٹیلی وژن چینل ’’ہسپان ٹی وی‘‘ کے ذریعے نشر کیے جانے والے یہود مخالف پیغامات سے بھی خبردار کیا ہے، جو پورے لاطینی امریکا میں پھیلائے جاتے ہیں۔

یہودی شناخت چھپانے پر مجبور

مغرب کو روایتی طور پر جمہوریت، رواداری اور تکثیریت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن یہود دشمنی کی موجودہ لہر نے یورپ اور شمالی امریکا میں بہت سے یہودیوں کو اپنی مذہبی شناخت چھپانے اور ایسی کسی بھی نمایاں علامت سے گریز کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے ان کی یہودی شناخت ظاہر ہو سکتی ہو۔

بہت سے لوگ ملک چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے یہودیوں کو خود اپنی مرضی سے دوبارہ ایسے محدود اور الگ تھلگ ماحول کی طرف دھکیلا جا رہا ہو جس کی مثال تاریخ میں یہودی بستیوں یا گھیٹو کی صورت میں ملتی ہے۔ یہ دو سو سال کی سماجی پیش رفت کے الٹ جانے کے مترادف ہے۔

یہود دشمنی محض تعصب نہیں، بقائے باہمی کے لیے خطرہ ہے

مختصراً، یہود دشمنی ایک ایسے سرطان کی مانند ہے جو معاشرے میں باہمی بقائے باہمی کے تانے بانے کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ انتہا درجے کی یہود دشمنی ہی ہولوکاسٹ جیسے المیے تک پہنچی تھی۔

اس لیے ریاستوں اور علاقائی تنظیموں کے درمیان فوری رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سیاست دانوں اور دانشوروں کی جانب سے بھی واضح اور دوٹوک عوامی مؤقف ضروری ہے تاکہ اس مسئلے کے مزید سنگین نتائج کو روکا جا سکے۔

کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ ہمیں اس ’’سانپ کے انڈے‘‘ کو پھوٹنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleآئرن ڈوم سے ایرو تک⁦:⁩اسرائیل کا فضائی دفاع کیسے کام کرتا ہے؟
Next Article گوگل نے پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر کھول دیا
نیوز ڈیسک

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.