یہود دشمنی کی نئی لہر، ایک عالمی خطرہ
گزشتہ جولائی کے اختتام تک اینٹی ڈیفیمیشن لیگ(ADL)نے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ ’’2025 بیرونِ اسرائیل یہودیوں کے خلاف یہود مخالف تشدد کے اعتبار سے تین دہائیوں سے زائد عرصے کا سب سے مہلک سال تھا، یعنی1994میں ارجنٹائن میں ہونے والے اے ایم آئی اے بم دھماکے کے بعد سب سے خطرناک سال۔‘‘
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صرف یہودی ہونے کی وجہ سے20افراد کو قتل کر دیا گیا۔ یہ حملے آسٹریلیا، انگلینڈ اور امریکا میں کیے گئے، جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹ میں اسرائیل سے باہر دنیا کی سب سے بڑی یہودی آبادی رکھنے والے سات ممالک میں یہود دشمنی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، ارجنٹائن، آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔
91 ہزار کے قریب واقعات
مطالعے میں تقریباً91ہزار یہود مخالف واقعات ریکارڈ کیے گئے، یعنی روزانہ تقریباً250واقعات۔ یہ تعداد اکتوبر2023میں دہشت گرد تنظیم حماس کے حملے سے پہلے ریکارڈ کیے گئے واقعات کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
یہود دشمنی اب محض معاشرے کے حاشیے پر موجود افراد تک محدود ذہنی یا سماجی بیماری نہیں رہی بلکہ سیاست، سوشل میڈیا اور جامعات میں بھی اس کی موجودگی دکھائی دے رہی ہے۔ یہود کو شیطانی کردار میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ہولوکاسٹ کی اہمیت کو کم کرنے اور ریاستِ اسرائیل کے وجود کے حق کو مسترد کرنے جیسے رجحانات بھی اس میں شامل ہیں۔
اس صورتحال کی شدت کے ساتھ ایک نیا پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف سیاسی تحریکیں، جن کے درمیان عام طور پر بہت کم یا کوئی نظریاتی مماثلت نہیں، یہود مخالف جارحیت کے معاملے میں ایک دوسرے کے قریب آ گئی ہیں۔ ان میں روایتی دائیں بازو کے فاشسٹ، انتہائی بائیں بازو کے گروہ اور اسلامی بنیاد پرست شامل ہیں، جبکہ بعض خود کو ترقی پسند کہنے والے ماہرینِ تعلیم بھی ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
دنیا کی مجموعی آبادی میں یہودیوں کا حصہ صرف تقریباً0.2فیصد ہے، لیکن انہیں یہود دشمنی کا شکار افراد کے بجائے ’’سفید فام بالادستی‘‘ کے حامیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گویا وہ خود یہود دشمنی کا نشانہ نہیں بلکہ اس کے مرتکب ہیں۔
ایک مختصر تاریخی پس منظر
فلسفی وکٹر کلیمبرر نے1947میں یہ تصور پیش کیا کہ نازی پروپیگنڈا صرف تقاریر کے ذریعے نہیں پھیلایا گیا بلکہ اس کے لیے ایک ’’نازی زبان‘‘ بھی تشکیل دی گئی۔ یعنی ایسے الفاظ اور اصطلاحات جو لاکھوں مرتبہ دہرائے گئے، یہاں تک کہ لوگ انہیں سوچے سمجھے بغیر اور غیر شعوری طور پر قبول کرنے لگے۔
آج بھی یہود مخالف اصطلاحات کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ’’عالمی یہودی سازش‘‘، ’’یہودی دولت‘‘ یا ’’صہیونیت‘‘ کو نسل پرستی کا مترادف قرار دینے جیسے الفاظ اور تصورات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں۔
مفکر فرانسس فوکویاما نے حال ہی میں It’s the Internet, Stupid کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے، جس میں وہ عوام پسند سیاست کے عروج کو انٹرنیٹ کے اثرات سے جوڑتے ہیں۔ ہمارے نقطۂ نظر سے انٹرنیٹ پر بھیجے جانے والے پیغامات میں گمنامی نے یہود دشمنی کو بھی غیر معمولی رفتار سے بڑھایا ہے۔
سوشل میڈیا اور سازشی نظریات
جیسا کہ میں اپنے سابقہ مضامین میں نشاندہی کر چکا ہوں، سوشل میڈیا انسانی جذبات کے انتہائی ردعمل، خصوصاً خوف اور نفرت، کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں سازشی نظریات عام ہو جاتے ہیں۔
ارجنٹائن میں یہود مخالف واقعات کا66فیصد آن لائن پیش آتا ہے۔ اب اس میں مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم بھی شامل ہو گئے ہیں۔ADLکے مطابق یہ پلیٹ فارم ’’یہودیوں اور صہیونیوں کے خلاف تعصب سے نمٹنے میں کم از کم کچھ خامیوں‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سبھی کو انتہا پسندانہ مواد سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کا چیلنج: یورپ میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت پلیٹ فارمز کو نفرت انگیز مواد24گھنٹوں کے اندر ہٹانا ضروری ہے، تاہم عملی طور پر24گھنٹے بھی اس نوعیت کے مواد کے پھیلاؤ کے لیے خاصا طویل وقت ثابت ہو سکتا ہے۔
ADL نے ایران کے ہسپانوی زبان کے ٹیلی وژن چینل ’’ہسپان ٹی وی‘‘ کے ذریعے نشر کیے جانے والے یہود مخالف پیغامات سے بھی خبردار کیا ہے، جو پورے لاطینی امریکا میں پھیلائے جاتے ہیں۔
یہودی شناخت چھپانے پر مجبور
مغرب کو روایتی طور پر جمہوریت، رواداری اور تکثیریت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن یہود دشمنی کی موجودہ لہر نے یورپ اور شمالی امریکا میں بہت سے یہودیوں کو اپنی مذہبی شناخت چھپانے اور ایسی کسی بھی نمایاں علامت سے گریز کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے ان کی یہودی شناخت ظاہر ہو سکتی ہو۔
بہت سے لوگ ملک چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے یہودیوں کو خود اپنی مرضی سے دوبارہ ایسے محدود اور الگ تھلگ ماحول کی طرف دھکیلا جا رہا ہو جس کی مثال تاریخ میں یہودی بستیوں یا گھیٹو کی صورت میں ملتی ہے۔ یہ دو سو سال کی سماجی پیش رفت کے الٹ جانے کے مترادف ہے۔
یہود دشمنی محض تعصب نہیں، بقائے باہمی کے لیے خطرہ ہے
مختصراً، یہود دشمنی ایک ایسے سرطان کی مانند ہے جو معاشرے میں باہمی بقائے باہمی کے تانے بانے کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ انتہا درجے کی یہود دشمنی ہی ہولوکاسٹ جیسے المیے تک پہنچی تھی۔
اس لیے ریاستوں اور علاقائی تنظیموں کے درمیان فوری رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سیاست دانوں اور دانشوروں کی جانب سے بھی واضح اور دوٹوک عوامی مؤقف ضروری ہے تاکہ اس مسئلے کے مزید سنگین نتائج کو روکا جا سکے۔
کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ ہمیں اس ’’سانپ کے انڈے‘‘ کو پھوٹنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

