"`html id=”k9p3sa”
صحافت، راج گیری اور نائن الیون

کچھ راتیں محض تاریخ کے صفحات پر درج ہو کر نہیں رہتیں، وہ آدمی کے اندر ایک کمرہ بنا لیتی ہیں، جس میں وہ عمر بھر آتا جاتا رہتا ہے۔ گیارہ ستمبر کی وہ شام میرے حصے میں بھی ایسی ہی ایک رات لے کر آئی تھی۔
وہ صحافی کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔
اُس دن ہمیں حکم ملا تھا کہ ایک ایسے اخبار کو، جو چند مہینے پہلے سانس روک چکا تھا، دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ نیوز روم میں اُس شام ایک عجیب سی سرگوشی تھی، جیسے کوئی کفن پھر سے کھول کر دیکھا جا رہا ہو کہ آیا نبض کہیں باقی تو نہیں۔ ہم ڈمی تیار کرنے میں مصروف تھے، بےخبر کہ کچھ ہی گھنٹوں بعد دنیا کا نقشہ بدلنے والا ہے۔
اکیس خبریں اور صفحۂ اول کا قفس
مالکِ اخبار نے دور بیٹھے بیٹھے ایک نقشہ بھیجا تھا — ایک ڈرافٹ لے آؤٹ، اور اس کے ساتھ ایک ایسا حکم جو دلیل نہیں مانتا تھا۔ حرف بہ حرف، جوں کا توں، بغیر کسی رعایت کے۔
نقشہ کھولا تو معلوم ہوا کہ ہمیں اکیس خبروں کو صفحۂ اول کی چار دیواری میں ہی دفن کرنا ہے۔ کوئی خبر اندر کے صفحے پر سانس نہیں لے سکتی، ہر ایک کو وہیں دم توڑنا ہے جہاں سے وہ شروع ہوئی۔
کچھ خانے اتنے تنگ تھے کہ ان میں بمشکل تیس الفاظ کی جگہ تھی — تیس الفاظ، جیسے کسی زندہ آدمی کو ایک چھوٹی سی صندوقچی میں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
صحافت اور راج گیری کا فرق
شام ڈھلتے ہی مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ صحافت اور راج گیری میں کتنی قربت ہے۔ ایک مستری جب دیوار اٹھاتا ہے تو ہر اینٹ کو نقشے کے مطابق تراشنا پڑتا ہے، اضافی حصہ کاٹ دیا جاتا ہے، خالی جگہ گارے سے بھر دی جاتی ہے، مگر دیوار کی سیدھ نقشے سے آگے نہیں جا سکتی۔
ہم بھی اُس شام یہی کر رہے تھے۔ خبر جتنی بھی وسیع ہو، اسے تیس الفاظ کی اینٹ میں تراشنا تھا، اُس کے زخم پر مٹی ڈالنی تھی تاکہ وہ نقشے کے خانے میں فٹ آ جائے۔
نقشہ عمارت کو ترتیب دے سکتا ہے،
مگر خبر کی اہمیت کا فیصلہ ہمیشہ نقشہ نہیں کر سکتا۔
جب رات کا سناٹا ٹوٹا
پھر رات کا سناٹا ٹوٹا۔ ٹیلی وژن اسکرینوں پر پہلی تصویر ابھری، اور نیوز روم کی سانسیں رک گئیں۔ نیویارک کے ٹوئن ٹاورز سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
کچھ ہی لمحوں بعد دوسرا طیارہ ٹکرایا، اور جو کچھ ہم دیکھ رہے تھے، وہ محض ایک خبر نہیں تھی — وہ تاریخ کا وہ لمحہ تھا جو صدیوں تک بازگشت کرتا رہے گا۔
عمارتیں لرزیں، پھر زمین بوس ہوئیں، اور ساتھ ہی وہ نقشہ بھی جو میز پر پڑا تھا، اپنی بےمعنویت کا ثبوت دینے لگا۔
تیس الفاظ کی صندوقچی
میں نے وہ لے آؤٹ ہاتھ میں لیا اور اُس تیس الفاظ کے خانے کو دیکھا جو اُس رات کے لیے مختص تھا۔ کیا نیویارک کا سقوط، کیا ہزاروں جانوں کا زیاں، کیا ایک صدی کے رخ کا بدل جانا — یہ سب اُس چھوٹی سی صندوقچی میں سما سکتا تھا؟
درسگاہوں میں ہمیں سکھایا گیا تھا کہ خبر کا حق ادا کرنا ہوتا ہے، پس منظر دینا ہوتا ہے، سیاق و سباق روشن کرنا ہوتا ہے — اور یہ سبق اُس رات نقشے کے سامنے ایک بے زبان قیدی کی طرح نہیں کھڑا رہ سکتا تھا۔
اُسی لمحے میں نے فیصلہ کر لیا —
آج نقشہ ٹوٹے گا۔
چاہے نتیجہ کچھ بھی نکلے، میرا قلم اُس تیس الفاظ کی صندوقچی میں دفن ہونے سے انکاری تھا۔ ایسی خبر جو خود اپنی جگہ مانگتی تھی، جو کسی خانے میں سمانے کو تیار نہ تھی۔
جب ایک صفحہ آزاد ہوا
میرے سینئر ساتھی، جو اُس رات انچارج بھی تھے، میرے فیصلے پر سہم گئے۔ ان کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو برسوں کی نوکری کسی آدمی کے اندر اتار دیتی ہے — مالک کی ناراضی کا خوف، روزی کے چھن جانے کا خوف۔
وہ بار بار مجھے سمجھاتے رہے، نقشے کی طرف اشارہ کرتے رہے، مگر میں نے وہ نقشہ اُس رات میز کے ایک کونے میں دھکیل دیا۔
خبر کو وہ مقام دیا جس کی وہ حق دار تھی — پورا صفحۂ اول، ایک بڑی، بلند سرخی جس کے نیچے دھویں میں لپٹی وہ عمارتیں تھیں، اور کئی خبریں جنہیں پہلی بار اندر کے صفحات پر جاری رہنے کی اجازت ملی۔
اکیس خانوں کا وہ سلیقہ،
جو دراصل صحافت کا محاصرہ تھا،
اُس رات ٹوٹ گیا۔
اور ملبے کے ساتھ ساتھ ایک اور دیوار بھی زمین بوس ہوئی۔
مالک کی خاموشی
رات ڈھلی، صبح آئی، پھر اُس کے بعد کی صبح بھی — مگر مالکِ اخبار کی طرف سے نہ کوئی شوکاز نوٹس آیا، نہ کوئی سرزنش کا لفظ، نہ کوئی سوال۔
ایک ایسی خاموشی تھی جو الفاظ سے زیادہ بولتی تھی۔ شاید دور بیٹھے مالک نے بھی اُس رات کی تصویریں دیکھ کر اپنے دل کے کسی نہاں خانے میں یہ جان لیا تھا کہ کچھ خبریں نقشوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔
کچھ خبریں خود اپنا نقشہ گھڑ لیتی ہیں،
اور جو انہیں چھوٹے خانوں میں قید کرنے کی کوشش کرے،
وہ خبر کو نہیں، خود صحافت کی روح کو دفن کرتا ہے۔
اصل تعمیر کب شروع ہوتی ہے؟
آج جب برسوں بعد اُس شام و شب کو یاد کرتا ہوں تو ایک بات صاف نظر آتی ہے — راج مستری اور صحافی کے پیشے میں ایک باریک، مگر بنیادی فرق ہے۔
مستری نقشے سے سرمو انحراف نہیں کر سکتا، ورنہ عمارت کمزور پڑ جاتی ہے۔ مگر صحافی کے پاس ایک ایسی صوابدید ہونی چاہیے جو مستری کے پاس نہیں ہوتی — یہ جاننے کی صلاحیت کہ کب خبر خود دو مینار جتنی وسیع ہو چکی ہے، اور کب نقشہ توڑ دینا ہی اصل تعمیر ہے۔
اُس رات میں نے یہی سیکھا تھا:اصول اپنی جگہ مقدس، ہدایات اپنی جگہ لازم، مگر خبر کا حق ادا کرنا صحافی کا پہلا اور آخری فرض ہے۔
باقی سب بعد میں آتا ہے،
اُس اکیلی صدا کی طرح
جو دیوار گرنے کے بعد سنائی دیتی ہے۔
صحافت صرف نقشے پر خانے بھرنے کا نام نہیں،
بلکہ یہ پہچاننے کا فن بھی ہے کہ کب ایک خبر اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ اسے پورا صفحہ، پورا زمانہ اور پوری تاریخ درکار ہوتی ہے۔
"`

