• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » صحافت، راج گیری اور نائن الیون
امریکہ

صحافت، راج گیری اور نائن الیون

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 31, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`html id=”k9p3sa”

یادداشت و تجزیہ

صحافت، راج گیری اور نائن الیون

احمد نعیم خان

تحریر
احمد نعیم خان

کچھ راتیں محض تاریخ کے صفحات پر درج ہو کر نہیں رہتیں، وہ آدمی کے اندر ایک کمرہ بنا لیتی ہیں، جس میں وہ عمر بھر آتا جاتا رہتا ہے۔ گیارہ ستمبر کی وہ شام میرے حصے میں بھی ایسی ہی ایک رات لے کر آئی تھی۔

بعض خبریں صرف اخبار کا حصہ نہیں بنتیں،

وہ صحافی کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔

اُس دن ہمیں حکم ملا تھا کہ ایک ایسے اخبار کو، جو چند مہینے پہلے سانس روک چکا تھا، دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ نیوز روم میں اُس شام ایک عجیب سی سرگوشی تھی، جیسے کوئی کفن پھر سے کھول کر دیکھا جا رہا ہو کہ آیا نبض کہیں باقی تو نہیں۔ ہم ڈمی تیار کرنے میں مصروف تھے، بےخبر کہ کچھ ہی گھنٹوں بعد دنیا کا نقشہ بدلنے والا ہے۔

اکیس خبریں اور صفحۂ اول کا قفس

مالکِ اخبار نے دور بیٹھے بیٹھے ایک نقشہ بھیجا تھا — ایک ڈرافٹ لے آؤٹ، اور اس کے ساتھ ایک ایسا حکم جو دلیل نہیں مانتا تھا۔ حرف بہ حرف، جوں کا توں، بغیر کسی رعایت کے۔

نقشہ کھولا تو معلوم ہوا کہ ہمیں اکیس خبروں کو صفحۂ اول کی چار دیواری میں ہی دفن کرنا ہے۔ کوئی خبر اندر کے صفحے پر سانس نہیں لے سکتی، ہر ایک کو وہیں دم توڑنا ہے جہاں سے وہ شروع ہوئی۔

کچھ خانے اتنے تنگ تھے کہ ان میں بمشکل تیس الفاظ کی جگہ تھی — تیس الفاظ، جیسے کسی زندہ آدمی کو ایک چھوٹی سی صندوقچی میں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔

صحافت اور راج گیری کا فرق

شام ڈھلتے ہی مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ صحافت اور راج گیری میں کتنی قربت ہے۔ ایک مستری جب دیوار اٹھاتا ہے تو ہر اینٹ کو نقشے کے مطابق تراشنا پڑتا ہے، اضافی حصہ کاٹ دیا جاتا ہے، خالی جگہ گارے سے بھر دی جاتی ہے، مگر دیوار کی سیدھ نقشے سے آگے نہیں جا سکتی۔

ہم بھی اُس شام یہی کر رہے تھے۔ خبر جتنی بھی وسیع ہو، اسے تیس الفاظ کی اینٹ میں تراشنا تھا، اُس کے زخم پر مٹی ڈالنی تھی تاکہ وہ نقشے کے خانے میں فٹ آ جائے۔

نقشہ عمارت کو ترتیب دے سکتا ہے،

مگر خبر کی اہمیت کا فیصلہ ہمیشہ نقشہ نہیں کر سکتا۔

جب رات کا سناٹا ٹوٹا

پھر رات کا سناٹا ٹوٹا۔ ٹیلی وژن اسکرینوں پر پہلی تصویر ابھری، اور نیوز روم کی سانسیں رک گئیں۔ نیویارک کے ٹوئن ٹاورز سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

کچھ ہی لمحوں بعد دوسرا طیارہ ٹکرایا، اور جو کچھ ہم دیکھ رہے تھے، وہ محض ایک خبر نہیں تھی — وہ تاریخ کا وہ لمحہ تھا جو صدیوں تک بازگشت کرتا رہے گا۔

عمارتیں لرزیں، پھر زمین بوس ہوئیں، اور ساتھ ہی وہ نقشہ بھی جو میز پر پڑا تھا، اپنی بےمعنویت کا ثبوت دینے لگا۔

تیس الفاظ کی صندوقچی

میں نے وہ لے آؤٹ ہاتھ میں لیا اور اُس تیس الفاظ کے خانے کو دیکھا جو اُس رات کے لیے مختص تھا۔ کیا نیویارک کا سقوط، کیا ہزاروں جانوں کا زیاں، کیا ایک صدی کے رخ کا بدل جانا — یہ سب اُس چھوٹی سی صندوقچی میں سما سکتا تھا؟

درسگاہوں میں ہمیں سکھایا گیا تھا کہ خبر کا حق ادا کرنا ہوتا ہے، پس منظر دینا ہوتا ہے، سیاق و سباق روشن کرنا ہوتا ہے — اور یہ سبق اُس رات نقشے کے سامنے ایک بے زبان قیدی کی طرح نہیں کھڑا رہ سکتا تھا۔

اُسی لمحے میں نے فیصلہ کر لیا —

آج نقشہ ٹوٹے گا۔

چاہے نتیجہ کچھ بھی نکلے، میرا قلم اُس تیس الفاظ کی صندوقچی میں دفن ہونے سے انکاری تھا۔ ایسی خبر جو خود اپنی جگہ مانگتی تھی، جو کسی خانے میں سمانے کو تیار نہ تھی۔

جب ایک صفحہ آزاد ہوا

میرے سینئر ساتھی، جو اُس رات انچارج بھی تھے، میرے فیصلے پر سہم گئے۔ ان کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو برسوں کی نوکری کسی آدمی کے اندر اتار دیتی ہے — مالک کی ناراضی کا خوف، روزی کے چھن جانے کا خوف۔

وہ بار بار مجھے سمجھاتے رہے، نقشے کی طرف اشارہ کرتے رہے، مگر میں نے وہ نقشہ اُس رات میز کے ایک کونے میں دھکیل دیا۔

خبر کو وہ مقام دیا جس کی وہ حق دار تھی — پورا صفحۂ اول، ایک بڑی، بلند سرخی جس کے نیچے دھویں میں لپٹی وہ عمارتیں تھیں، اور کئی خبریں جنہیں پہلی بار اندر کے صفحات پر جاری رہنے کی اجازت ملی۔

اکیس خانوں کا وہ سلیقہ،

جو دراصل صحافت کا محاصرہ تھا،

اُس رات ٹوٹ گیا۔

اور ملبے کے ساتھ ساتھ ایک اور دیوار بھی زمین بوس ہوئی۔

مالک کی خاموشی

رات ڈھلی، صبح آئی، پھر اُس کے بعد کی صبح بھی — مگر مالکِ اخبار کی طرف سے نہ کوئی شوکاز نوٹس آیا، نہ کوئی سرزنش کا لفظ، نہ کوئی سوال۔

ایک ایسی خاموشی تھی جو الفاظ سے زیادہ بولتی تھی۔ شاید دور بیٹھے مالک نے بھی اُس رات کی تصویریں دیکھ کر اپنے دل کے کسی نہاں خانے میں یہ جان لیا تھا کہ کچھ خبریں نقشوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔

کچھ خبریں خود اپنا نقشہ گھڑ لیتی ہیں،

اور جو انہیں چھوٹے خانوں میں قید کرنے کی کوشش کرے،

وہ خبر کو نہیں، خود صحافت کی روح کو دفن کرتا ہے۔

اصل تعمیر کب شروع ہوتی ہے؟

آج جب برسوں بعد اُس شام و شب کو یاد کرتا ہوں تو ایک بات صاف نظر آتی ہے — راج مستری اور صحافی کے پیشے میں ایک باریک، مگر بنیادی فرق ہے۔

مستری نقشے سے سرمو انحراف نہیں کر سکتا، ورنہ عمارت کمزور پڑ جاتی ہے۔ مگر صحافی کے پاس ایک ایسی صوابدید ہونی چاہیے جو مستری کے پاس نہیں ہوتی — یہ جاننے کی صلاحیت کہ کب خبر خود دو مینار جتنی وسیع ہو چکی ہے، اور کب نقشہ توڑ دینا ہی اصل تعمیر ہے۔

اُس رات میں نے یہی سیکھا تھا⁦:⁩اصول اپنی جگہ مقدس، ہدایات اپنی جگہ لازم، مگر خبر کا حق ادا کرنا صحافی کا پہلا اور آخری فرض ہے۔

باقی سب بعد میں آتا ہے،

اُس اکیلی صدا کی طرح

جو دیوار گرنے کے بعد سنائی دیتی ہے۔

صحافت صرف نقشے پر خانے بھرنے کا نام نہیں،

بلکہ یہ پہچاننے کا فن بھی ہے کہ کب ایک خبر اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ اسے پورا صفحہ، پورا زمانہ اور پوری تاریخ درکار ہوتی ہے۔

تحریر
احمد نعیم خان

احمد نعیم خان

"`

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاسلامی ریاست کا خواب
Next Article کھیتوں سے سعودی منڈیوں تک⁦:⁩پاکستان کے لیے زراعت میں نئے معاشی امکانات
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.