"`
کھیتوں سے سعودی منڈیوں تک
پاکستان کے لیے زراعت میں نئے معاشی امکانات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئندہ دو برسوں میں زرعی اور غذائی برآمدات کو3ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔
برسوں سے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ہونے والی بحث زیادہ تر قرضوں، بجٹ خساروں اور مالی امداد کے گرد گھومتی رہی ہے۔ تاہم ملک کی ایک سب سے بڑی طاقت کو اکثر نظر انداز کیا گیا ہے:پاکستان کی وہ صلاحیت جو نہ صرف اپنی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کر سکتی ہے بلکہ اپنی سرحدوں سے کہیں دور بین الاقوامی منڈیوں تک خوراک پہنچانے کی بھی اہلیت رکھتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اتفاق رائے، جس کے تحت آئندہ دو برسوں میں پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کو3ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی خوشحالی صرف مالیاتی اصلاحات سے نہیں بلکہ اس کی زرخیز زمینوں اور زرعی صلاحیت سے بھی وابستہ ہو سکتی ہے۔
تجارتی ہدف سے بڑھ کر ایک اسٹریٹجک تبدیلی
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ہونے والا یہ سمجھوتا محض تجارت بڑھانے کا ایک ہدف نہیں بلکہ دونوں ممالک کے اپنے معاشی تعلقات کو دیکھنے کے انداز میں ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود رہے ہیں، لیکن اب زراعت اور غذائی تحفظ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کے نئے اور اہم ستونوں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
سعودی وژن2030اور غذائی تحفظ
اس تعاون کا وقت بھی انتہائی اہم ہے۔ سعودی عرب کے وژن2030میں غذائی تحفظ کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ محدود قابلِ کاشت زمین اور پانی کے وسائل کے باعث مملکت اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے قابلِ اعتماد غذائی سپلائی یقینی بنانے کے لیے بیرونی دنیا کی جانب دیکھ رہی ہے۔
پاکستان اپنے وسیع زرعی وسائل، متنوع موسم، زرخیز زمینوں اور تجربہ کار کسانوں کی بدولت اس کوشش میں سعودی عرب کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بننے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔
مواقع کے وسیع شعبے
حالیہ مذاکرات میں جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی، وہ اس موقع کی وسعت کو واضح کرتے ہیں۔ چاول، سرخ گوشت، پھل، فروٹ کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز محض محدود تجارتی مصنوعات نہیں بلکہ ایسے بڑے شعبے ہیں جو پاکستان کے لیے نمایاں برآمدی آمدن پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی معیشت میں لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
چاول اور گوشت میں بڑھتے امکانات
صرف چاول کی مثال ہی اس صلاحیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی مارکیٹ میں چاول کا ایک اہم سپلائر بن چکا ہے۔ مملکت کی جانب سے پاکستانی چاول کی درآمدات بڑھانے میں دلچسپی اس بات کی علامت ہے کہ سعودی مارکیٹ پاکستانی زرعی مصنوعات کے معیار اور ان کی مسلسل فراہمی پر اعتماد رکھتی ہے۔
اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی سرخ گوشت کی درآمدات کو بتدریج تقریباً دوگنا کرنے کا امکان پاکستان کے مویشی پال کسانوں اور گوشت کی پروسیسنگ صنعت کے لیے ایک بڑی معاشی تقویت ثابت ہو سکتا ہے۔
پھلوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کا سنہری موقع
شاید اس تعاون کا سب سے زیادہ امید افزا پہلو پھلوں اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ پاکستان دنیا کے بہترین آموں، کینو، کھجوروں اور دیگر اعلیٰ معیار کی زرعی پیداوار سے مالا مال ہے۔
پاکستانی آم، کینو، کھجوریں اور دیگر پھل پہلے ہی عالمی سطح پر اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی زرعی پیداوار کا ایک بڑا حصہ اب بھی خام شکل میں برآمد کیا جاتا ہے، جس کے باعث ملک کو اپنی مصنوعات کی مکمل معاشی قدر حاصل نہیں ہو پاتی۔
فروٹ کنسنٹریٹس، جوسز، خشک اور پروسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ نہ صرف ملکی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ زرعی صنعتوں میں نئی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
تجارت سے آگے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی
اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کے امکانات پر بھی بات کر رہے ہیں۔
خاص طور پر پانی کی بچت کرنے والی جدید زرعی ٹیکنالوجیز پر توجہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ملک کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبپاشی کے نظام اور جدید کاشتکاری کے طریقوں تک رسائی پاکستان کو ان مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے اور ساتھ ہی پاکستانی زراعت کو عالمی منڈی میں مزید مسابقتی بنا سکتی ہے۔
حکومت سے حکومت نہیں، کاروبار سے کاروبار کا تعلق
کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط، یعنی بزنس ٹو بزنس تعاون پر زور دینا بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ حکومتی معاہدے نئے دروازے ضرور کھول سکتے ہیں، لیکن پائیدار معاشی ترقی کا اصل انحصار بالآخر کاروباری افراد، برآمد کنندگان، سرمایہ کاروں اور کسانوں پر ہوتا ہے۔
پاکستانی پیداوار کنندگان اور سعودی خریداروں کے درمیان مضبوط روابط ایسے تجارتی تعلقات پیدا کر سکتے ہیں جو سرکاری وفود کی واپسی کے بعد بھی طویل عرصے تک قائم رہیں۔
پاکستان کے دیہی علاقوں کے لیے نئے امکانات
پاکستان کے لیے اس تعاون کے اثرات صرف برآمدی آمدنی تک محدود نہیں ہوں گے۔ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی اور بے شمار دیہی آبادیوں کی معاشی زندگی کو سہارا دیتی ہے۔
سعودی مارکیٹ تک وسیع رسائی کسانوں کی آمدنی میں اضافے، زرعی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، خصوصاً ان نوجوانوں کے لیے جو اپنے آبائی علاقوں میں بہتر معاشی مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔
موقع کے ساتھ ذمہ داریاں بھی
تاہم یہ بڑا موقع اپنے ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔ اگر پاکستان کو اپنے بلند برآمدی اہداف حاصل کرنے ہیں تو اسے معیار کے بین الاقوامی اصولوں کو مضبوط بنانا ہوگا، سپلائی چین کو بہتر کرنا ہوگا، کولڈ اسٹوریج کی سہولیات میں اضافہ کرنا ہوگا اور زرعی پیداوار کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
بین الاقوامی مارکیٹیں صرف معیار کو نہیں بلکہ قابلِ اعتماد اور مسلسل سپلائی کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ اگر پاکستان سعودی عرب کے لیے طویل المدتی غذائی تحفظ کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بننا چاہتا ہے تو اسے ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا نیا معاشی دور
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک وسیع تر تبدیلی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کی شراکت داری بنیادی طور پر سیاسی یکجہتی، توانائی کے تعاون اور اسٹریٹجک تعلقات سے عبارت رہی۔
آج معاشی تعاون اس تعلق کے مرکز میں آ رہا ہے۔ زراعت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور تجارت اب سفارت کاری اور دفاع کی طرح اہم شعبے بنتے جا رہے ہیں۔
کئی حوالوں سے یہی وہ سمت ہے جس کی جانب دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھنا چاہیے۔ معاشی شراکت داریاں دیرپا اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کے اثرات براہِ راست عام لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہ روزگار پیدا کرتی ہیں، آمدنی میں اضافہ کرتی ہیں، صنعتوں کو مضبوط بناتی ہیں اور مستقبل کے معاشی چیلنجز کے مقابلے میں ممالک کو زیادہ مضبوط اور مستحکم بناتی ہیں۔
3 ارب ڈالر کا ہدف اور مشترکہ خوشحالی
زرعی اور غذائی برآمدات کو3ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف یقیناً بلند اور پرعزم ہے، لیکن پاکستان کی معیشت کو اس وقت اسی نوعیت کے بڑے اہداف اور واضح معاشی وژن کی ضرورت ہے۔
اگر اس منصوبے کو مؤثر حکومتی پالیسیوں، نجی شعبے کی جدت، سرمایہ کاری اور سعودی عرب کے ساتھ مسلسل تعاون کی حمایت حاصل رہی تو یہ ہدف روایتی دوستی کو مشترکہ خوشحالی کے ایک طاقتور معاشی انجن میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ابھرنے والی یہ نئی کہانی صرف اسٹریٹجک شراکت داری تک محدود نہیں رہی۔ یہ اب کھیتوں، فارموں، غذائی تحفظ اور ان معاشی امکانات کی کہانی بنتی جا رہی ہے جو اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دو ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور طاقتوں کو صحیح طور پر پہچانتے ہیں۔
پاکستان کے لیے زیادہ خوشحالی کی راہ شاید ایک بار پھر دیہی علاقوں سے شروع ہو — اور سعودی عرب کی وسیع منڈیوں تک جا پہنچے۔
"`

