• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ذوالفقار علی بھٹو کی سلامتی کونسل میں یادگار تقریر
ایشیا

ذوالفقار علی بھٹو کی سلامتی کونسل میں یادگار تقریر

تحریر: شعیب عادل
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 1, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
تاریخ پاکستان

سقوطِ ڈھاکہ سے ایک دن پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی سلامتی کونسل میں یادگار تقریر

تحریر:  شعیب عادل
16 دسمبر⁦1971⁩کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا۔ اس سے ایک روز قبل،⁦15⁩دسمبر⁦1971⁩کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس وقت کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جذباتی اور تاریخی تقریر کی، جس میں انہوں نے پاکستان کے مؤقف، جنگ، عالمی طاقتوں کے کردار اور مجوزہ قرارداد پر شدید احتجاج کیا۔

16 دسمبر⁦1971⁩کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔

یہ برصغیر کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور المناک موڑ تھا۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں شدید فوجی کارروائیاں، سیاسی بحران، جنگ اور انسانی المیے جاری تھے، جبکہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ ایک بڑی جنگ کا بھی سامنا تھا۔

سقوطِ ڈھاکہ سے ایک دن قبل،⁦15⁩دسمبر⁦1971⁩کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس وقت کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک انتہائی جذباتی تقریر کی۔

انہوں نے عالمی طاقتوں اور سلامتی کونسل پر پاکستان کے ساتھ جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک خودمختار ریاست کی تباہی دیکھ رہی ہے، مگر عالمی ادارے مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی مصلحتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

سلامتی کونسل میں بھٹو کا مؤقف

اپنی تقریر کے آغاز میں ذوالفقار علی بھٹو نے کہا:

“محترم صدر، پاکستان آج اس ایوان کے سامنے اس لیے کھڑا ہے کہ بھارت نے ہمارے خلاف کھلی، سفاک اور غیر قانونی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دنیا ایک خودمختار ریاست کی تباہی دیکھ رہی ہے جبکہ سلامتی کونسل کارروائی کے معمولی نکات پر بحث میں وقت ضائع کر رہی ہے۔

“آپ نے پاکستان کو انصاف نہیں دیا۔ آپ نے قیمتی وقت ضائع کیا ہے، جبکہ ڈھاکہ کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔”

بھٹو کے مطابق یہ تاخیر پاکستان کی عسکری پوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں تحفظ اور انصاف کی امید لے کر آیا تھا، مگر اسے سیاست، منافقت اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کی بقا کی جنگ

بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

“ہم ایک چھوٹا ملک ہیں، مگر ہمیں گلا گھونٹ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ہر قطرۂ خون سے جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔”

انہوں نے ایک انتہائی جذباتی انداز میں کہا:

“اگر مشرقی پاکستان گر بھی جائے، اگر مغربی پاکستان بھی گر جائے، ہم ایک نیا پاکستان بنائیں گے، ایک بڑا پاکستان۔”
گیارہ سالہ بیٹے کا فون

اپنی تقریر کے دوران بھٹو نے ایک ذاتی واقعہ بھی بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی صبح ان کے گیارہ سالہ بیٹے نے انہیں فون کیا تھا۔

“اس نے کہا⁦:⁩ابّا، کوئی ایسا کاغذ لے کر واپس نہ آنا جو ہتھیار ڈالنے کا اعلان ہو۔”

بھٹو نے کہا کہ یہ الفاظ ان کے دل میں گونج رہے ہیں اور پاکستان ہتھیار ڈالنے کے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

سلامتی کونسل پر جانبداری کا الزام

ذوالفقار علی بھٹو نے سلامتی کونسل پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ غیر جانبدار نہیں رہا۔

ان کے مطابق طاقتور ممالک کے اثر و رسوخ کے باعث پاکستان کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

“میں اس قرارداد کو قبول نہیں کرتا۔ یہ قرارداد پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کا آلہ ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرے گا۔

بھٹو کے مطابق مجوزہ قرارداد بھارتی جارحیت کو نظر انداز کرتی ہے اور پاکستان کو سزا دیتی ہے۔

“میں اس تذلیل کا حصہ نہیں بنوں گا۔ میں چوہا نہیں ہوں۔ میں اپنے ملک کی رسوائی پر دستخط نہیں کروں گا۔”
کاغذات پھاڑنے کا تاریخی لمحہ

اپنی تقریر کے اختتام پر ذوالفقار علی بھٹو نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنے سامنے موجود کاغذات پھاڑ دیے اور انہیں میز پر پھینک دیا۔

“مجھے اس ادارے سے نفرت ہے۔ میں ان کے چہرے دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔”

اس کے بعد بھٹو سلامتی کونسل کے اجلاس سے باہر نکل گئے۔

سقوطِ ڈھاکہ اور تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ

اس تقریر کے اگلے ہی روز،⁦16⁩دسمبر⁦1971⁩کو مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے اور سقوطِ ڈھاکہ کا واقعہ پیش آیا۔

یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ باب ہے جس کے سیاسی، عسکری اور سماجی اثرات آج بھی زیر بحث ہیں۔

نوٹ: ذوالفقار علی بھٹو کی⁦15⁩دسمبر⁦1971⁩کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کی گئی تقریر مختلف ریکارڈنگز اور حوالوں کے ساتھ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔
یہ تحریر شعیب عادل کی فیس بک وال سے لی گئی ہے.
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکھیتوں سے سعودی منڈیوں تک⁦:⁩پاکستان کے لیے زراعت میں نئے معاشی امکانات
Next Article وہ اقلیتیں جنہوں نے کراچی کو تعمیر کیا
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.