"`
وہ اقلیتیں جنہوں نے کراچی کو تعمیر کیا
پاکستان حالیہ برسوں میں اپنی جغرافیائی سیاست کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے، مگر اس ملک کو واقعی سمجھنا ہو تو کراچی جانا ضروری ہے، جہاں مذہبی اقلیتیں صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ شہر کی تعمیر، ثقافت اور روزمرہ زندگی کا زندہ حصہ ہیں۔
پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے ایسی وجوہات کی بنا پر خبروں میں ہے جو چند برس پہلے شاید ناقابلِ تصور محسوس ہوتی تھیں۔ ایک طرف پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تو دوسری جانب سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ نئے اسٹریٹجک تعلقات استوار کر رہا ہے۔
تاہم پاکستان کی ان جغرافیائی سیاسی سرگرمیوں کو جتنی بھی توجہ حاصل ہو، اصل پاکستان اب بھی ایسا ملک ہے جس کے بارے میں بیشتر امریکی بہت کم جانتے ہیں۔ اس پاکستان کو سمجھنے کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے۔
کراچی، پاکستان کا تجارتی دل
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، تجارتی دارالحکومت اور ملک کی سب سے مصروف بندرگاہ ہے۔ یہی وہ شہر بھی ہے جہاں پاکستان کی مذہبی اقلیتیں سب سے زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔
یہاں اقلیتیں صرف خبروں میں مظلوم یا تشدد کا نشانہ بننے والے گروہوں کے طور پر موجود نہیں، بلکہ ایسی برادریوں کی حیثیت رکھتی ہیں جنہوں نے اس شہر کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا اور جو آج بھی کراچی کی زندگی کا حصہ ہیں۔
صدر میں کھڑا ایک غیر متوقع منظر
کراچی پہنچنے پر جس چیز نے سب سے پہلے میری توجہ حاصل کی، وہ ایک ایسی عمارت تھی جو بظاہر کسی اور دنیا سے تعلق رکھتی محسوس ہوتی تھی۔
صدر کے علاقے میں واقع سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل گرم رنگ کے پتھروں سے تعمیر شدہ ایک شاندار عمارت ہے جو اپنے گوتھک محرابوں اور بلند میناروں کے باعث آئرلینڈ یا انگلینڈ کی کسی عمارت کا منظر پیش کرتی ہے، نہ کہ بحیرہ عرب کے کنارے واقع کسی جنوبی ایشیائی شہر کا۔
1881ء میں مکمل ہونے والا یہ کیتھیڈرل آج بھی ایک فعال کیتھولک عبادت گاہ ہے۔ اس کی موجودگی ہی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کراچی اور پاکستان کی مذہبی تاریخ اس تصویر سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے جو اکثر بیرونِ ملک پاکستان کے بارے میں پیش کی جاتی ہے۔
مذہبی آزادی کے مسائل ایک تلخ حقیقت
یقیناً اس تاریخ کو رومانوی انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور مغرب میں پاکستان کے بارے میں موجود منفی تصویر بھی مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔ مسیحی برادری کو بعض اوقات ہجوم کے تشدد اور توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2023ء میں جڑانوالہ میں ہونے والے حملے اس تلخ حقیقت کی ایک واضح مثال تھے، جب توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد مشتعل ہجوم نے گرجا گھروں اور مسیحی خاندانوں کے گھروں کو نقصان پہنچایا اور آگ لگائی۔
پاکستان میں توہینِ مذہب سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ بھی دستاویزی طور پر بیان کیا ہے کہ بعض مواقع پر ان قوانین کو بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے جیسے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی پاکستان کے توہینِ مذہب قوانین کو مذہبی آزادی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے۔
مگر ردعمل بھی کہانی کا حصہ ہے
ایسے واقعات کے بعد ریاستی اور سماجی ردعمل بھی اس داستان کا ایک اہم حصہ ہیں۔ جڑانوالہ کے واقعے کے بعد پولیس نے مبینہ ذمہ داران کو گرفتار کیا اور فوجداری مقدمات قائم کیے، اگرچہ متاثرین کے لیے مکمل انصاف کا حصول اب بھی ایک نامکمل عمل ہے۔
پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ذاتی طور پر متاثرہ مسیحی برادری کا دورہ بھی کیا۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ادارہ جاتی کوششیں
پاکستان میں مذہبی رہنماؤں اور غیر مسلم برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے قومی سطح پر ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا، فرقہ وارانہ اور انتہا پسندانہ بیانیوں کا مقابلہ کرنا اور آئینی مساوات کے اصول کو مضبوط بنانا ہے۔
دسمبر2025ء میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے راولپنڈی کے کرائسٹ چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی۔
قائداعظم محمد علی جناح کے مذہبی رواداری سے متعلق عزم کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو پاکستانی قومی شناخت کا بنیادی ستون قرار دیا اور ملکی ترقی اور قومی سلامتی میں مسیحی برادری کی خدمات کو سراہا۔
ان تمام اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق اپنے تمام مسائل حل کر لیے ہیں۔ گرفتاریاں، کمیٹیاں اور تقاریر اسی وقت معنی رکھتی ہیں جب ان کے نتیجے میں موثر تحفظ، مساوی سلوک اور عملی انصاف یقینی بنایا جائے۔
اصل امتحان عمل درآمد کا ہے۔ تاہم سرکاری پالیسی کا عمومی رخ بظاہر اس جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو بیرونی یا اجنبی عناصر کے طور پر نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے مکمل اور برابر کے شہریوں کے طور پر دیکھا جائے۔
اصل کراچی سے ملاقات
یہ فرق میرے لیے اس وقت زیادہ واضح ہوا جب میں سرکاری بیانات کی دنیا سے نکل کر خود کراچی کی گلیوں اور اس کی زندگی سے روبرو ہوا۔
کراچی میں مسیحیت کی تاریخ شہر کی اس تبدیلی سے جدا نہیں کی جا سکتی جس کے ذریعے ایک چھوٹی سی بندرگاہ ایک بڑے تجارتی مرکز میں تبدیل ہوئی۔
اسکاٹش پریسبیٹیرین مشنریوں نے سینٹ اینڈریوز کرک قائم کیا، جبکہ پرتگالی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے گوان کیتھولک اساتذہ، کلرکوں، وکلا اور ڈاکٹروں کے طور پر کراچی کی پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں ہوئے۔
انہوں نے گرجا گھر اور تعلیمی ادارے قائم کیے۔1861ء میں قائم ہونے والے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے کئی نسلوں کے طلبہ کو تعلیم دی، جبکہ ہولی فیملی ہسپتال کراچی کے طبی نظام کا ایک اہم حصہ بن گیا۔
جاز موسیقی اور زندہ ثقافتی روایت
تاہم کراچی میں میری ملاقات مسیحی برادری سے صرف گرجا گھروں اور تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں رہی۔
بیچ لگژری ہوٹل میں فرانس کے قومی دن کے موقع پر فرانسیسی قونصل خانے کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں ایک پاکستانی مسیحی جاز بینڈ موسیقی پیش کر رہا تھا۔ ایک موقع پر سیکسوفون بجانے والے فنکار نے فرانسیسی قومی ترانے “لا مارسیلز” کی انتہائی دلکش دھن پیش کی۔
اس منظر کے پس منظر نے بھی اسے مزید دلچسپ بنا دیا۔1960ء اور1970ء کی دہائیوں میں جب کراچی کو بیروت کے ساتھ خطے کے اہم ثقافتی اور کاسموپولیٹن مراکز میں شمار کیا جاتا تھا، بیچ لگژری ان مقامات میں شامل تھا جہاں کراچی کی مشہور راتوں کی زندگی اپنے عروج پر تھی۔
وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے، مگر اس منظر میں ماضی اور حال کے درمیان ایک خوشگوار تسلسل محسوس ہوتا تھا۔
جاز بینڈ کسی گمشدہ ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ اس بات کے زندہ ثبوت کے طور پر موجود تھا کہ پاکستانی مسیحی آج بھی مختلف پیشوں میں سرگرم ہیں، اداروں اور ثقافتی زندگی کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور ان بین الاقوامی روابط کا حصہ ہیں جو طویل عرصے سے کراچی کی شناخت کا حصہ رہے ہیں۔
کراچی کی دوسری اقلیتیں
کراچی میں مسیحیوں کی داستان اس وقت مزید معنی خیز ہو جاتی ہے جب اسے شہر کی دیگر مذہبی اقلیتوں کی تاریخ کے ساتھ دیکھا جائے۔
پارسی برادری اور کراچی کی تعمیر
پارسی یا زرتشتی برادری کراچی آنے والی ابتدائی مذہبی اقلیتوں میں شامل تھی۔ انہوں نے شہر کے متعدد ہسپتال، اسکول، مکانات، تجارتی ادارے اور فلاحی تنظیمیں قائم کیں۔
جمشید نوسر وانجی مہتا، جو پارسی برادری سے تعلق رکھتے تھے اور کراچی کے پہلے منتخب میئر تھے، نے شہری ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے ایسے منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا جن کے اثرات ان کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔
آج پارسی برادری کی تعداد تقریباً تین ہزار رہ گئی ہے، لیکن کراچی کی تاریخ اور شناخت پر ان کا اثر ان کی تعداد سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔
اپنے دورۂ کراچی کے دوران میں صدر کے علاقے میں واقع زرتشتی آتش کدے دارِ مہر بھی گیا، لیکن پارسی برادری کے ساتھ میری سب سے یادگار ملاقات وہاں نہیں بلکہ کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ میں ہوئی۔
وہاں مجھے پارسی سماجی زندگی کے ایک ایسے حصے تک لے جایا گیا جسے کسی حد تک اس برادری کا اندرونی سماجی حلقہ کہا جا سکتا ہے:کمیونٹی کا سوئمنگ پول۔ اور وہاں مجھے بیئر بھی پیش کی گئی۔
یہ ایک دلچسپ اور غیر متوقع لمحہ تھا۔ تقریباً دو کروڑ آبادی والے شہر میں ایک چھوٹی سی زرتشتی برادری اپنے اداروں اور سماجی زندگی کو اس قدر آزاد اور پُرسکون انداز میں برقرار رکھے ہوئے تھی کہ “مذہبی اقلیت” کی رسمی اصطلاح بھی اس منظر کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکتی تھی۔
کراچی کی ہندو برادری
یہی حقیقت کراچی کی ہندو برادری میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ شہر میں فعال مندروں، جن میں سوامی نارائن مندر اور پنچ مکھی ہنومان مندر شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ مقامی سماجی نیٹ ورکس اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ کراچی کا مذہبی تنوع صرف تاریخی یادگار نہیں بلکہ آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔
رات کے بعد کا کراچی اور سندھ کلب
پھر کراچی کی راتیں بھی تھیں۔ میں نے کئی شامیں سندھ کلب میں گزاریں، جو برطانوی راج کے دور کا ایک شاندار ادارہ ہے اور1871ء میں قائم ہوا تھا۔
ایشیا کے قدیم اور ممتاز کلبوں میں شمار ہونے والا سندھ کلب ابتدا میں برطانوی فوجی افسران، سول پروفیشنلز اور دیگر یورپی افراد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ ایک مکمل پاکستانی ادارے کی شکل اختیار کر گیا، اگرچہ اس نے اپنی وکٹورین طرز کی بہت سی تاریخی خصوصیات کو برقرار رکھا۔
کراچی کی تاریخ کا ایک بڑا سیاسی سبق
شام کے وقت وہاں بیٹھ کر میں نے کراچی کی تاریخ سے جڑے ایک وسیع تر سیاسی سبق پر غور کیا۔ اس شہر کے گرجا گھر، اسکول اور مندر صرف مذہبی برادریوں کی یادگاریں نہیں بلکہ ان لوگوں اور سرمایہ کے بہاؤ کی علامت بھی ہیں جنہوں نے اس شہر کو وہ شکل دی جو آج ہمارے سامنے ہے۔
تجارتی شہر رواداری کے لیے عملی محرکات پیدا کرتے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ حکومتیں رواداری کا حکم جاری کرتی ہیں، بلکہ اس لیے کہ تجارت، ہجرت اور روزمرہ کی معاشی زندگی مختلف مذاہب، ثقافتوں اور رسوم رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور تعاون کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
کراچی کی اقلیتیں نہ تو اس شہر میں باہر سے آنے والے اجنبی عناصر ہیں اور نہ ہی کسی گزرے ہوئے زمانے کی باقیات۔ وہ دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک اس شہر کے مضبوط، پیچیدہ اور کثیرالثقافتی تانے بانے کا حصہ ہیں۔
کراچی، اور اس کے ساتھ پاکستان، آسان تعریفوں اور سادہ خانوں میں محدود ہونے سے انکار کرتا ہے۔
کراچی کی اصل کہانی صرف بندرگاہوں، سیاست اور تجارت کی نہیں، بلکہ ان مختلف برادریوں کی بھی ہے جنہوں نے مل کر اس شہر کو تعمیر کیا اور جو آج بھی اس کی زندہ روح کا حصہ ہیں۔
ایلدار مامیدوف
ایلدار مامیدوف پگواش کانفرنسز آن سائنس اینڈ ورلڈ افیئرز کے رکن اور کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ کے نان ریذیڈنٹ فیلو ہیں۔

