
لبنان کی سمت کون طے کر رہا ہے؟ امن، خودمختاری اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کا فیصلہ کن سوال
کیا لبنانی حکومت پورے لبنان کی نمائندگی کر رہی ہے یا ایک ایسے سیاسی بندوبست کا دفاع کر رہی ہے جو ریاست کی خودمختاری کو مسلسل مؤخر کرتا آ رہا ہے؟
وہ امریکی محکمہ خارجہ کے عربی ریجنل میڈیا ہب میں سابق ریجنل میڈیا ایڈوائزر رہ چکی ہیں اور حکومتی و نجی شعبوں میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
میں نے وزیر اعظم نواف سلام کاNBNٹی وی چینل پر دیا گیا انٹرویو انتہائی توجہ سے سنا۔ اس انٹرویو کے لیے اسی پلیٹ فارم کا انتخاب بھی معمولی بات نہیں، کیونکہNBNپارلیمنٹ کے اسپیکرنبیہ بری کی ملکیت ہے۔
اس کے بعد ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:کیا نواف سلام تمام لبنانیوں سے مخاطب تھے یا صرف شیعہ برادری سے؟ اور کیا ان کی گفتگو تمام لبنانی عوام کی خواہش اور مؤقف کی نمائندگی کرتی ہے، یا ایک ایسے مخصوص گروہ کی جو پوری قوم کو اپنے مفادات کے تابع سمجھتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے:لبنان کی طرف سے حقیقتاً کون بول رہا ہے؟
اس انٹرویو میں لبنان کے مستقبل، بدلتے ہوئے علاقائی ماحول یا اس امن کے عمل میں لبنان کے ممکنہ مقام کے بارے میں ایک واضح تزویراتی وژن دکھائی نہیں دیا جس میں اس کے ہمسایہ ممالک ایک کے بعد ایک اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔
امن کا لفظ اپنی تزویراتی معنویت میں تقریباً غائب تھا۔ اس کے بجائے ایک مسلسل دفاعی مؤقف سنائی دیا، جس میں رکاوٹوں کو برقرار رکھنے کی توجیہ پیش کی گئی اور ایک ایسے فریق سے گفتگو کا لہجہ اپنایا گیا جو لبنان کی خودمختاری کے لیے بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔
1989 کا وعدہ،36سال کی تاخیر
سلام نے کہا:
’’ہتھیاروں پر پابندی ایک ایسی چیز ہے جس پر ہم نے1989سے اتفاق کیا ہوا ہے اور ہم اس کے پابند ہیں۔‘‘
تاریخی اعتبار سے یہ بات درست ہے، لیکن36برس تک جس وعدے پر عمل نہ ہو، وہ اب محض ایک وعدہ نہیں رہتا؛ وہ ریاستی ناکامی کا اعتراف بھی بن جاتا ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی انخلا کو ہتھیار جمع کرنے یا انہیں ریاست کے حوالے کرنے کے عمل سے منسلک نہیں کیا گیا۔
اگر انخلا کو غیر مسلح کرنے کے عمل سے الگ رکھا جائے تو یہ باہمی رعایت نہیں بلکہ یک طرفہ رعایت بن جاتی ہے، جس میں سب سے اہم مسئلہ کسی مقررہ وقت کے بغیر مؤخر ہوتا رہتا ہے۔
جو نہیں کہا گیا، شاید وہ زیادہ اہم ہے
حزب اللہ اور اس کے ہتھیاروں پر گفتگو کے دوران ایران کی زمینی موجودگی کے بنیادی سوال کو نمایاں طور پر نہیں اٹھایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں اور کمانڈروں کی لبنان میں طویل عرصے سے موجودگی اور مقامی اتحادیوں کے ذریعے اثراندازی لبنان کی ریاستی خودمختاری کے سوال سے الگ نہیں کی جا سکتی۔
یہ محض چند ’’دوستوں‘‘ کی عارضی موجودگی کا معاملہ نہیں؛ سوال یہ ہے کہ لبنان اپنی سرزمین، اپنے فیصلوں اور اپنی سلامتی کے بارے میں حتمی اختیار کس کے پاس رکھتا ہے۔
ایسے معاملے میں ریاستی قیادت کا لہجہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس کا مؤقف۔ ایک خودمختار ریاست اپنے فیصلوں پر نرمی سے نہیں بلکہ واضح اختیار اور ذمہ داری کے ساتھ بات کرتی ہے۔
2000 کے بعد فوج سرحد پر کیوں نہیں پہنچی؟
سلام نے سوال اٹھایا کہ جب اسرائیل2000میں جنوبی لبنان سے نکلا تو لبنانی فوج تمام سرحدی علاقوں میں کیوں داخل نہیں ہوئی؟
اس سوال کا جواب لبنان کی حالیہ تاریخ میں موجود ہے۔ ریاستی اختیار کو پورے علاقے تک پھیلانے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں مسلح غیر ریاستی طاقت کا وجود شامل رہا ہے۔
آج وزیر اعظم کے پاس ماضی پر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس تاریخی خلا کو پُر کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ماضی میں ایسا کیوں ہوا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آج ریاست اس خلا کو کیسے ختم کرے گی۔
ایک اور بین الاقوامی فورس یا ایک خودمختار ریاست؟
انٹرویو کا ایک اور اہم پہلو مستقبل میں کسی نئی بین الاقوامی فورس کی ضرورت کا اشارہ تھا، جو موجودہ
UNIFIL
کے بعد کسی نئی شکل میں سامنے آ سکتی ہے۔
اگر ایک نئی فورس کی ضرورت پڑے تو سوال یہ ہے کہ نصف صدی کے قریب بین الاقوامی امن مشنوں کے تجربے کے بعد لبنان اپنی سرحدوں کی ذمہ داری خود کب سنبھالے گا؟
حقیقی امن کا مقصد ہی یہ ہونا چاہیے کہ ریاست اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایسے تعلقات قائم کرے جن میں مستقل بیرونی بفر فورس کی ضرورت باقی نہ رہے۔
امن کا آخری مقصد کسی بین الاقوامی فورس کو ہمیشہ موجود رکھنا نہیں، بلکہ ایسی خودمختار ریاست قائم کرنا ہے جو اپنی سرحدوں کی خود حفاظت کر سکے۔
’’میں اسے مختلف انداز میں لکھتا‘‘
جب سلام سے پوچھا گیا کہ اگر وہ خود فریم ورک تیار کرتے تو کیا اسے اسی طرح لکھتے، تو ان کا جواب تھا:
’’یقیناً نہیں، میں اسے مختلف اور زیادہ واضح انداز میں لکھتا۔‘‘
یہ ایک اہم اعتراف ہے۔ اگر کوئی وزیر اعظم کسی ایسے فارمولے کو مکمل طور پر قائل کن نہیں سمجھتا جس پر اسے عمل درآمد کرانا ہے، تو عوامی سطح پر اس کے بہتر اور واضح متبادل کا مطالبہ بھی اسی شدت سے سامنے آنا چاہیے۔
اسرائیل کے انخلا کی تاریخ، مگر حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی تاریخ کہاں؟
سب سے نمایاں تضاد یہاں سامنے آتا ہے۔ وزیر اعظم نے اسرائیلی انخلا کے لیے ٹائم ٹیبل کے بارے میں سوال اٹھایا:
’’اسرائیل کب انخلا کرے گا؟‘‘
مگر اسی شدت سے یہ سوال سامنے نہیں آیا کہ حزب اللہ کب غیر مسلح ہوگا؟ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار لبنان سے کب نکلیں گے؟ ریاستی اختیار مکمل طور پر کب بحال ہوگا؟
ایک فریق کے لیے ٹائم ٹیبل اور دوسرے کے لیے غیر معینہ مدت کا انتظار کسی متوازن ریاستی حکمت عملی کی علامت نہیں۔
نبیہ بری اور انتخابات کا نیا سوال
اسی دوران پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر الیاس ابو صعب نے اسپیکر نبیہ بری کی حمایت سے انتخابی قانون کا معاملہ دوبارہ کھول دیا ہے۔
اس اقدام کے وقت نے ایک ناگزیر سوال پیدا کیا ہے: ابھی کیوں؟
لبنان کی سیاسی تاریخ میں انتخابات کا سوال ہمیشہ انتہائی حساس رہا ہے، لیکن آج اس موضوع کو اٹھانا بعض بنیادی قومی ترجیحات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
نبیہ بری انتخابی قانون کے معاملے کو دوبارہ سامنے لا کر ایک ایسا سیاسی میدان کھول سکتے ہیں جس میں مہینوں بحث جاری رہ سکتی ہے، جبکہ لبنان کے اصل بحران بدستور اپنی جگہ موجود رہیں۔
لبنان کو آج بیلٹ باکس کی جنگ سے زیادہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ درکار ہے۔
انتخابات سے پہلے تین بنیادی ترجیحات
حزب اللہ کے ہتھیاروں پر مکمل اور حتمی ریاستی اختیار قائم کیا جائے اور لبنان کی سرزمین سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کی موجودگی ختم کی جائے۔
بینکنگ نظام کی تنظیم نو، سرکاری اخراجات پر مؤثر کنٹرول اور ریاست پر اعتماد کی بحالی کے لیے وہ مالیاتی اصلاحات مکمل کی جائیں جو برسوں سے زیر التوا ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ ایک واضح لبنانی امن تجویز تیار کی جائے، جو محض عارضی جنگ بندی یا محدود سکیورٹی انتظامات کے بجائے مستقل امن، معمول کے تعلقات اور علاقائی اقتصادی انضمام پر مبنی ہو۔
جنگ ختم نہیں ہوئی، صرف وقفہ آیا ہے
اس دوران لبنان کے سیاسی حلقے انتخابات، انتخابی قانون، ووٹرز اور پارلیمانی نشستوں پر بحث کر رہے ہیں، جبکہ اصل خطرہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔
دستیاب اطلاعات اور متعدد سفارتی انتباہات کے مطابق جنگ کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ مغربی سفارت کار مسلسل لبنانی ریاست کو ممکنہ اگلے مرحلے کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔
نباطیہ سے جزین، جبل صافی اور ریحان، اور پھر بعلبک اور بیروت کے جنوبی مضافات تک پھیلا ہوا جغرافیہ اس بڑے سوال کا حصہ ہے:کیا جنگ واقعی ختم ہوئی ہے یا صرف اگلی چنگاری کا انتظار کر رہی ہے؟
اس پس منظر میں سیاسی وقت گزاری لبنان کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔
ایران کا مستقبل اور اس کے اتحادی
ایک اور بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:ایران کے مستقبل میں آنے والی کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات اس کے علاقائی اتحادیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب حزب اللہ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا:
’’ایران کی جو قسمت ہوگی، اس کے پراکسیز کی بھی وہی قسمت ہوگی۔‘‘
اگر یہ علاقائی حقیقت ہے تو لبنان کی قیادت کو بھی مستقبل کے لیے تیاری کرنی ہوگی، نہ کہ موجودہ بندوبست کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی کوشش۔
لبنان کو کس طرف کھڑا ہونا ہے؟
لبنان اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مسلسل جنگ، بیرونی سرپرستی اور مسلح غیر ریاستی طاقت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرے گا یا ایک واضح خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنے مستقبل کا تعین کرے گا۔
خطے میں نئے اقتصادی اور سفارتی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ ابراہیم معاہدوں کے بعد عرب دنیا کے متعدد ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے نئے امکانات تلاش کیے ہیں۔
لبنان اگر اس بدلتی ہوئی علاقائی حقیقت سے مکمل طور پر باہر رہتا ہے تو اس کی قیمت صرف سفارتی تنہائی نہیں بلکہ اقتصادی مواقع کے ضیاع کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
لبنان کو انتخابات کی ضرورت ضرور ہے، لیکن ایسے انتخابات جو ایک خودمختار ریاست کے اندر ہوں، نہ کہ ایسے نظام کے تحت جہاں ریاستی فیصلے مسلح گروہوں اور بیرونی طاقتوں کے درمیان تقسیم ہوں۔
لبنان کو آج یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کیا ہے، کیا چاہتا ہے، اور کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
کیونکہ اگر بڑی جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو لبنان کی موجودہ کمزوری اور سیاسی انتشار اسے برداشت کرنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے۔
لبنان نے جنگ کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ادا کر دی ہے۔ اب اسے امن کا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔

ایلیسا ای ہاشم علاقائی امور اور حکمرانی کی ماہر صحافی اور سیاسی مصنفہ ہیں۔
وہ امریکی محکمہ خارجہ کے عربی ریجنل میڈیا ہب میں سابق ریجنل میڈیا ایڈوائزر رہ چکی ہیں اور حکومتی و نجی شعبوں میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔

