• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » لیاری کا مہر گھر
ایشیا

لیاری کا مہر گھر

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 10, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
رائے • لیاری • ثقافت و سماج

لیاری کا مہر گھر، ایک خواب، ایک مسلسل جدوجہد

محبت، ثقافت، تخلیقی اظہار اور مکالمے کے ذریعے ایک کمیونٹی کی نئی تشکیل کی داستان

اسحاق بلوچ

تحریر⁦:⁩اسحاق بلوچ

خصوصی مضمون — نیو یارک اُردو

مہر بلوچی اور فارسی زبان کا لفظ ہے، اردو میں اس کا مطلب محبت ہے۔ یوں ’’مہر گھر‘‘ کا مطلب ہوا ’’محبت کا گھر‘‘۔ کراچی کے دل لیاری میں قائم یہ اوپن اسپیس محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک ایسے خواب کی عملی تعبیر ہے جو نوجوانوں، فنکاروں اور کمیونٹی کو امن، تخلیق اور مکالمے کے ذریعے جوڑنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

لیاری زونل آفس کے سامنے حبیبہ بلڈنگ میں قائم مہر گھر لیاری کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں ایک منفرد مقام بنا چکا ہے۔ پروین ناز اور ان کے ساتھیوں محمد فہیم، ثاقب ہارون، سرفراز حسین اور ظہیر علی بھوی نے اس خوبصورت خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔

تقریباً ایک دہائی قبل ’’مہردار آرٹ اینڈ پروڈکشن‘‘ کے نام سے ایک ادارہ شروع کیا گیا، جس کا مقصد تشدد سے متاثرہ نوجوانوں کو ڈاکیومنٹری، فلم میکنگ، فوٹو جرنلزم اور کمیونٹی بلڈنگ کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ ضرورت شدت سے محسوس ہوئی کہ نوجوانوں کے لیے ایک ایسی محفوظ جگہ ہونی چاہیے جہاں وہ سیکھ سکیں، اظہار کر سکیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔ اسی ضرورت سے مہر گھر نے جنم لیا۔

مہر گھر کا بنیادی مقصد صدمے اور تشدد سے گزرنے والے نوجوانوں کو مہارتیں سیکھنے، اکٹھا ہونے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک محفوظ اور باوقار جگہ فراہم کرنا ہے۔

مہر گھر⁦:⁩آرٹ، مکالمے اور کمیونٹی کی جگہ

مہر گھر ایک آرٹس پر مبنی کمیونٹی اسپیس ہے جہاں سیکھنے، سکھانے اور کھلے مکالمے کی روایت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہاں اسٹوڈیو، لائبریری، کلاس روم اور ایونٹ ہال سمیت مختلف سہولیات موجود ہیں۔

اس اوپن اسپیس میں شاعری کی محفلیں، مصنفین سے ملاقاتیں، ڈرامے، فلم اسکریننگز، اوپن مائیک، جام سیشنز اور اسٹینڈ اَپ کامیڈی سمیت مختلف سرگرمیاں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ نوجوان آرٹ لَوَرز کی تربیت کے لیے ورکشاپس، مباحثے، تربیتی نشستیں اور مکالموں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

مہر گھر کے پروگراموں میں موسیقار، آرٹسٹ، رائٹرز، فلم میکرز اور مقامی رہنما شریک ہوتے ہیں۔ ادارے کی بنیادی کوشش یہ ہے کہ آرٹ، تخلیقی اظہار اور کھلے مکالمے کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کی جائے۔

مارچ⁦2021⁩ء سے اب تک یہاں سینکڑوں سرگرمیاں منعقد ہو چکی ہیں، جنہوں نے لیاری کے ثقافتی منظرنامے کو دوبارہ متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقامی لوگوں کو اظہارِ رائے، گفتگو اور مباحثے کے لیے ایک نسبتاً آزاد پلیٹ فارم ملا ہے۔

لیاری⁦:⁩مسائل کے تاثر سے آگے ایک زندہ ثقافت

ہم نے مہر گھر کی بانی پروین ناز سے اس کے قیام، مقاصد اور سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نشست کی۔ لیاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس علاقے کو اکثر کراچی کے تناظر میں مسائل، تشدد، محرومی اور منفی تاثر کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ لیاری اپنی مخصوص تاریخ، ثقافت، زبان، موسیقی، کھیل، فن، ادب اور سب سے بڑھ کر اپنی زندہ دل کمیونٹی کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔

’’لیاری اپنی مخصوص تاریخ، ثقافت، زبان، موسیقی، کھیل، فن، ادب اور سب سے بڑھ کر اپنی زندہ دل کمیونٹی کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔‘‘
— پروین ناز، بانی مہر گھر

پروین ناز کے مطابق لیاری تقریباً بائیس لاکھ آبادی پر مشتمل ایسا علاقہ ہے جہاں مختلف قومیں، ثقافتیں اور ملٹی کلچرل و ملٹی لنگول کمیونٹیز ایک ساتھ رہتی ہیں۔ صدیوں سے آباد یہ علاقہ سیاسی، سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی نوآبادیاتی دور ہو، ون یونٹ کا زمانہ، ایوب خان کا مارشل لاء یا ذوالفقار علی بھٹو کا جمہوری دورِ حکومت، مختلف ادوار میں لیاری ریاستی اور سیاسی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

تشدد کے بعد ایک محفوظ جگہ کی ضرورت

پروین ناز کے مطابق کچھ جگہیں، چیزیں اور تصورات صرف دل و دماغ میں نہیں بلکہ زندگیوں میں بھی خاص مقام رکھتے ہیں۔ مہر گھر بھی ایسی ہی ایک جگہ ہے، جو لیاری کے نوجوانوں کی نگرانی اور کوششوں سے قائم ہوئی۔

ان کے مطابق مہر گھر ایک ایسی جگہ کا تصور ہے جو محبت سے بھری ہو؛ جہاں لوگ رنگ، نسل اور مذہب کے فرق سے ماورا ہو کر ایک پرسکون ماحول میں جمع ہوں، سیکھیں، سکھائیں، سمجھیں، سمجھائیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ ایسی جگہ جہاں معاشرے کے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات پر بھی کھل کر بات کی جا سکے۔

پروین ناز نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لیاری نے شدید جبر اور تشدد کا سامنا کیا، جس کے باعث یہاں کے رہائشی صدمے، تکلیف اور امتیازی سلوک سے متاثر ہوئے۔ ایسے حالات میں کمیونٹی اسپیس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ لوگوں کے درمیان رابطے، ہم آہنگی اور اجتماعی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

ان کے مطابق لیاری میں کئی ایسی جگہیں موجود ہیں جنہیں کمیونٹی اسپیس یا کمیونٹی سینٹر کہا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات ان کی اہمیت سے عدم آگاہی، محدود رسائی یا کسی مخصوص گروہ تک محدود استعمال کے باعث علاقے کے باقی لوگ ان سے استفادہ نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً یہ جگہیں مثبت تبدیلی اور باہمی ہم آہنگی کا ذریعہ بننے کے بجائے غیر فعال رہ جاتی ہیں۔

مزید یہ کہ تخلیقی سرگرمیوں کے فقدان کے باعث بھی کمیونٹی اور ان جگہوں کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال سے معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے اور لوگ باہمی رابطے، سیکھنے اور اظہار کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایک خیال سے حقیقت تک

پروین ناز کے مطابق انہی مسائل سے نمٹنے کے لیے، بحیثیت لیاری کی کمیونٹی ممبر، انہوں نے ایک ایسی کمیونٹی اسپیس بنانے کا فیصلہ کیا جو کمیونٹی کی ازسرنو تعمیر اور زندگیوں میں رنگ بھرنے کے لیے امید پیدا کرے۔

اس سفر کا آغاز⁦2012⁩ء اور⁦2013⁩ء کے دوران ہوا۔ تاہم سوچنے، تصور کرنے اور اسے حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے میں وقت لگا۔ کئی برس کی کوششوں اور محدود وسائل کے باوجود یہ تصور بتدریج حقیقت کا روپ دھارتا گیا اور⁦2020⁩ء میں مہر گھر ایک کمیونٹی اسپیس کے طور پر قائم ہوا، جبکہ مارچ⁦2021⁩ء سے اس نے باقاعدہ طور پر لیاری کے ثقافتی اور سماجی منظرنامے میں اپنا کام شروع کیا۔

’’مہر گھر کا قیام محض ایک عمارت، دفتر یا کمیونٹی سینٹر بنانے کا منصوبہ نہیں تھا۔ بنیادی تصور یہ تھا کہ کمیونٹی کی ترقی صرف انفراسٹرکچر فراہم کرنے سے نہیں بلکہ لوگوں کو مواقع، اعتماد، علم، ہم آہنگی، نیٹ ورکنگ اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے محفوظ اور باوقار جگہ فراہم کرنے سے ممکن ہے۔‘‘
— پروین ناز

مہر گھر میں کیا ہوتا ہے؟

مہر گھر میں مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں، جن میں مقامی نوجوانوں، خواتین، فنکار برادری، مقامی ذمہ داران اور کمیونٹیز کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔

  • تربیتی ورکشاپس اور نوجوانوں کے لیے سیشنز
  • ادبی پروگرام، شاعری اور مشاعرے
  • کتابوں کی رونمائی اور مصنفین سے ملاقات
  • فلم اسکریننگز، تھیٹر اور پرفارمنس
  • موسیقی کے پروگرام اور جام سیشنز
  • آرٹ ایگزیبیشنز اور تخلیقی ورکشاپس
  • خواتین کے لیے خصوصی نشستیں
  • ڈیجیٹل میڈیا اور فلم سازی کی سرگرمیاں
  • مکالمے، مباحثے اور اوپن مائیک پروگرام
  • مختلف کمیونٹیز اور تنظیموں کے اجلاس اور میٹنگز

پروین ناز کے مطابق مہر گھر کی لائبریری خود اس بات کی علامت ہے کہ علمی سرگرمیوں کا رجحان بڑھانا ادارے کی ذمہ داری کا اہم حصہ ہے۔ اس کے علاوہ مہر گھر کا ایونٹ ہال، کیفے اور دیگر کمرے مختلف طبقۂ فکر کے لوگوں کو گفتگو، مکالمے، نمائش، مشاعرے، موسیقی، سیشن، لیکچر، اسکریننگ، تھیٹر، ورکشاپ، تربیت اور میٹنگز کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں۔

’’ورثۂ لیاری‘‘ — ماضی سے مستقبل تک

اسی سوچ نے ’’ورثۂ لیاری‘‘ جیسے اقدامات کو بھی جنم دیا۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو اپنے علاقے کی تاریخ اور ثقافت سے جوڑنا، مقامی کہانیوں اور زبانی تاریخ کو دستاویزی شکل دینا اور نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ اپنے علاقے کی شناخت کی حفاظت اور اسے اگلی نسل تک منتقل کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

’’لیاری ہمارا ورثہ ہے، اور اس کی حفاظت اور آگے منتقلی کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔‘‘

اصل کامیابی⁦:⁩نوجوانوں کی شمولیت

مہر گھر نے اب تک بڑی تعداد میں ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز، فلم میکرز، فوٹوگرافرز اور آرٹسٹس کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن پروین ناز کے نزدیک کسی بھی کمیونٹی اسپیس کو زندہ رکھنے کا اصل راز اس کی پائیداری ہے۔

اور یہ پائیداری اسی وقت ممکن ہے جب نوجوان اس جگہ کو اپنا سمجھیں۔ ان کے مطابق اگر نوجوان خود قدم اٹھائیں تو لیاری کے مختلف علاقوں میں کئی کمیونٹی اسپیسز قائم ہو سکتی ہیں جو اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں اور باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

ایک وسیع آبادی اور محدود رقبے پر مشتمل لیاری کے لیے ایک مہر گھر کافی نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر علاقے کے نوجوان اپنے اپنے مہر گھر قائم کرنے کا تصور لے کر آگے بڑھیں اور اپنے لوگوں کے لیے ایسی جگہیں تخلیق کریں جہاں اختلاف کے باوجود گفتگو ممکن ہو۔

ایک خواب سے مشترکہ خیال تک

پروین ناز کے مطابق مہر گھر اب صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک مشترکہ خیال بننا چاہتا ہے۔ ایسا خیال جس میں لیاری کی تمام کمیونٹیز مل کر اپنے ماضی کو سمجھیں، اپنے حال پر گفتگو کریں اور اپنے مستقبل کی خود تخلیق کریں۔

’’اگر مجھے مہر گھر کی تعریف بیان کرنی ہو تو میں صرف یہ کہوں گی کہ مہر گھر لیاری میں موجود ایک ایسا کمیونٹی اسپیس ہے جو ثقافت، تخلیق اور مکالمے کا ذریعہ ہے، جہاں ہر فرد آزادانہ اظہارِ رائے کا حق رکھتا ہے۔‘‘
— پروین ناز

شاید یہی مہر گھر کی اصل روح ہے⁦:⁩ایک ایسی جگہ جہاں محبت محض نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل بن جائے؛ جہاں فن محض تفریح نہ رہے بلکہ معاشرتی مکالمے کا ذریعہ بنے؛ جہاں نوجوان محض تماشائی نہ ہوں بلکہ اپنے مستقبل کے معمار بنیں۔

لیاری کی کہانی صرف تشدد، محرومی یا مسائل کی کہانی نہیں۔ یہ زبانوں، ثقافتوں، موسیقی، کھیل، فن، ادب اور زندہ دل انسانوں کی بھی کہانی ہے۔ مہر گھر اسی دوسرے لیاری کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے—ایک ایسا لیاری جو اپنے ماضی کو یاد رکھتا ہے، حال پر گفتگو کرتا ہے اور مستقبل کو خود تشکیل دینے کا خواب دیکھتا ہے۔

مہر گھر ایک جاری خواب کا سفر ہے؛
ایک جدوجہد، مسلسل جدوجہد کا سفر۔

اسحاق بلوچ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleیہودی میرا دشمن نہیں
Next Article ایک ایسا نصف کرہ جو نتائج دیتا ہے
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.