امتیاز میر کا قتل:کیا پاکستان میں اسرائیل کی حمایت کرنا موت کو دعوت دینا ہے؟
پاکستان میں صحافیوں کو کبھی سچ لکھنے کی سزا ملتی ہے، کبھی طاقتور حلقوں پر سوال اٹھانے کی، اور کبھی مذہبی انتہا پسندوں کی سوچ سے اختلاف کرنے کی۔
لیکن کیا اب پاکستان میں اسرائیل کا سفر کرنا، یہودیوں سے بات کرنا یا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان امن کی حمایت کرنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف بن چکا ہے؟
یہ سوال محض جذباتی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک انسان کی لاش، ایک خاندان کا اجڑا ہوا گھر اور سندھ کی صحافتی تاریخ کا ایک المناک باب موجود ہے۔
وہ سندھ کا ایک صحافی، ٹیلی ویژن اینکر اور ایسا شخص تھا جس نے اسرائیل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اسرائیلی شہریوں سے براہِ راست مکالمہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
21 ستمبر2025کو کراچی کے علاقے ملیر میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ان کے بھائی بھی زخمی ہوئے۔ امتیاز میر کئی روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد28ستمبر کو انتقال کر گئے۔
اسرائیل کا سفر:جرم یا بنیادی انسانی آزادی؟
امتیاز میر نے2023میں پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ واپسی کے بعد انہوں نے اپنے پروگرام میں اسرائیل سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو بھی مدعو کیا۔
یہ صحافتی عمل تھا۔ کسی ملک کو دیکھنا، وہاں کے لوگوں سے ملنا، مختلف نقطۂ نظر سننا اور اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرنا صحافت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔
لیکن پاکستان میں اسرائیل کے معاملے پر اختلافِ رائے کو اکثر قومی وفاداری اور مذہبی عقیدے کے امتحان میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
اکتوبر2025میں سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اعلان کیا کہ امتیاز میر کے قتل کے سلسلے میں چار مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کا تعلق لشکرِ سراللہ نامی گروہ سے تھا، جسے ایران سے منسلک زینبیون بریگیڈ کا حصہ بتایا گیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق امتیاز میر کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ حملہ آور انہیں اسرائیل کا ہمدرد سمجھتے تھے۔ یہ سرکاری مؤقف اگر عدالتی شواہد سے ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب نہایت خوفناک ہے۔
کیا یہ مذہب کا دفاع ہے؟ کیا کسی یہودی سے دوستی کرنا اسلام سے غداری ہے؟ کیا اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے والا مسلمان اپنی جان کے حق سے بھی محروم ہو جاتا ہے؟
مسلمان صہیونیوں کو ہر روز کس حقیقت کا سامنا ہے؟
آج ایسے مسلمان موجود ہیں جو اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، یہودیوں کے تاریخی تعلق کو سمجھتے ہیں اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پائیدار امن چاہتے ہیں۔ یہ مسلمان کوئی ایک جیسا سیاسی یا مذہبی گروہ نہیں۔
مگر ان میں سے بہت سے افراد کو دھمکیوں، سماجی بائیکاٹ، غداری کے الزامات اور مذہبی تکفیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں کافر، منافق، مشرک اور یہودی ایجنٹ کہا جاتا ہے۔
یہی وہ ماحول ہے جس میں نفرت محض الفاظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات تشدد کو جائز قرار دینے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اسلام کے نام پر کسی انسان کے قتل کو جائز قرار دینے والے دراصل انسانی زندگی، مذہبی آزادی اور اختلافِ رائے کی بنیادی قدروں کو پامال کرتے ہیں۔
اسرائیل کی کسی حکومت پر تنقید ایک سیاسی حق ہے۔ فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی حمایت بھی ایک جائز سیاسی اور اخلاقی مؤقف ہے۔ لیکن اسرائیل کے ساتھ تعلقات یا مکالمے کے حامی کسی مسلمان کو قتل کرنا کسی بھی اصول کے تحت قابلِ قبول نہیں۔
کیا امتیاز میر کے قتل کے پیچھے صرف مذہبی انتہا پسند تھے؟
اس قتل کا سب سے تشویش ناک پہلو صرف حملہ نہیں، بلکہ اس کے بعد سامنے آنے والے متضاد مؤقف بھی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں ذاتی دشمنی اور زمین کے تنازعے کو ممکنہ وجہ بتایا گیا۔ بعد میں سندھ حکومت نے ایک کالعدم مسلح تنظیم کے مبینہ کردار کا اعلان کیا۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ گرفتار افراد بیرونِ ملک موجود ایک ہینڈلر سے ہدایات حاصل کر رہے تھے اور تحقیقات میں وفاقی خفیہ اداروں نے بھی پولیس کی معاونت کی۔ یہ اعلان کسی مکمل اور شفاف عدالتی کارروائی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی بعد کی رپورٹ کے مطابق مقدمے میں پیش رفت رک گئی تھی اور اس رپورٹ کے وقت تک ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں ہوئی تھی۔ امتیاز میر کے خاندان نے بھی تفتیش کے بعض پہلوؤں اور مشتبہ افراد کی شناخت پر اعتراضات اٹھائے۔
آئی ایس آئی کا سوال:شک، ثبوت اور ریاستی جواب دہی
پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی، انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی، ملک کے قومی سلامتی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں سیاسی معاملات، مذہبی شدت پسندی، عسکریت پسند تنظیمیں اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں، کسی حساس سیاسی نوعیت کے قتل کی تحقیقات میں انٹیلی جنس اداروں کی جواب دہی کا سوال اٹھنا فطری ہے۔
بغیر ثبوت کسی ادارے کو قاتل قرار دینا ذمہ دارانہ صحافت نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انٹیلی جنس اداروں سے سوالات نہیں پوچھے جا سکتے۔
کیا کسی ادارے کو امتیاز میر کے خلاف ممکنہ خطرات کی پیشگی اطلاع تھی؟ کیا اسرائیل جانے والے پاکستانی صحافیوں کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا؟ کیا ایسی اطلاعات متعلقہ پولیس حکام تک پہنچائی گئی تھیں؟
کیا بیرونِ ملک مبینہ ہینڈلر کے بارے میں معلومات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں؟ اگر تفتیش میں وفاقی خفیہ ادارے شامل تھے تو ان کی حاصل کردہ معلومات اور شواہد کا قانونی انجام کیا ہوا؟
ایک آزاد اور غیر جانب دار عدالتی تحقیقات ہی یہ طے کر سکتی ہیں کہ امتیاز میر کے قتل میں کس کی ذمہ داری بنتی ہے، اور آیا کسی ادارے کی غفلت یا کسی فرد کی ملی بھگت موجود تھی یا نہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا تضاد
پاکستان خود کو دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز قرار دیتا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر اس کے سیاسی اور مذہبی رہنما انسانی حقوق اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ایک بنیادی سوال ہے۔
جب پاکستان کے اپنے ایک مسلمان شہری کو اسرائیل سے تعلق رکھنے یا اس کی مبینہ حمایت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس کی زندگی کے حق کے تحفظ کے لیے ریاست کیا کرتی ہے؟
انسانی حقوق کا اصول جغرافیہ، مذہب یا سیاسی پسندیدگی کے مطابق تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اگر فلسطینی شہری کی جان قیمتی ہے تو ایک اسرائیلی شہری کی جان بھی قیمتی ہے۔ اگر کسی مسلمان کو اپنے مذہب اور سیاسی نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہے تو دوسرے مسلمان کو مختلف سیاسی سوچ اختیار کرنے کی آزادی بھی ہونی چاہیے۔
سندھ اپنے اس گمنام ہیرو کو یاد رکھے
میں سندھ کی اس دھرتی کا بیٹا ہوں جس نے سیاسی مزاحمت، ہاریوں کی جدوجہد، انسانی حقوق اور اختلافِ رائے کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ میرے والد، کامریڈ غلام محمد لغاری، نے اپنی زندگی کے تقریباً27برس قید و بند میں گزارے، لیکن مظلوموں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔
اسی تاریخ نے مجھے سکھایا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ امتیاز میر کو محض ایک مقتول صحافی کے طور پر یاد نہیں رکھا جانا چاہیے۔
اس کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کی اسرائیل کے متعلق رائے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس کی صحافت پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن کسی انسان کی سوچ کو بندوق کی گولی سے جواب دینا تہذیب کی شکست ہے۔
سندھ کے صحافیوں، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ امتیاز میر کا نام زندہ رکھیں۔ ان کے قتل کی آزادانہ تحقیقات، شفاف مقدمہ اور اصل ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ مسلسل جاری رہنا چاہیے۔
آخری سوال
کیا پاکستان ایسا ملک بننا چاہتا ہے جہاں صحافی اسرائیل جانے سے پہلے اپنی وصیت لکھیں؟ جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے محض اس لیے نفرت کرے کہ وہ یہودیوں سے دوستی رکھتا ہے؟ جہاں مذہبی انتہا پسند یہ فیصلہ کریں کہ کون سا مسلمان زندہ رہنے کے قابل ہے؟
اگر ایسا نہیں، تو امتیاز میر کے قتل کو تاریخ کی ایک اور بھولی بسری خبر بننے سے روکنا ہوگا۔ انصاف صرف چند گرفتاریوں کے اعلان کا نام نہیں۔ انصاف کا مطلب اصل مجرموں، منصوبہ سازوں اور معاونین کی ذمہ داری کو ناقابلِ تردید شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہے۔
