• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امتیاز میر کا قتل
مضمون/کالم

امتیاز میر کا قتل

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرنومبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

نیویارک اردو⁦|⁩خصوصی تجزیہ و رائے

امتیاز میر کا قتل⁦:⁩کیا پاکستان میں اسرائیل کی حمایت کرنا موت کو دعوت دینا ہے؟

سندھ کے ایک بے باک صحافی کا خون، مذہبی انتہا پسندی کا خوفناک چہرہ اور پاکستان کے خفیہ اداروں سے چند تلخ سوالات
خصوصی مضمون⁦|⁩انسانی حقوق، صحافت اور آزادیٔ اظہار
منصور حسین لغاری

منصور حسین لغاری
دفاعی و عسکری تجزیہ نگار
سابق امریکی فوجی، انسانی حقوق کے کارکن اور مسلم صہیونی

پاکستان میں صحافیوں کو کبھی سچ لکھنے کی سزا ملتی ہے، کبھی طاقتور حلقوں پر سوال اٹھانے کی، اور کبھی مذہبی انتہا پسندوں کی سوچ سے اختلاف کرنے کی۔

لیکن کیا اب پاکستان میں اسرائیل کا سفر کرنا، یہودیوں سے بات کرنا یا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان امن کی حمایت کرنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف بن چکا ہے؟

یہ سوال محض جذباتی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک انسان کی لاش، ایک خاندان کا اجڑا ہوا گھر اور سندھ کی صحافتی تاریخ کا ایک المناک باب موجود ہے۔

اس انسان کا نام امتیاز میر تھا۔

وہ سندھ کا ایک صحافی، ٹیلی ویژن اینکر اور ایسا شخص تھا جس نے اسرائیل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اسرائیلی شہریوں سے براہِ راست مکالمہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

21 ستمبر⁦2025⁩کو کراچی کے علاقے ملیر میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ان کے بھائی بھی زخمی ہوئے۔ امتیاز میر کئی روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد⁦28⁩ستمبر کو انتقال کر گئے۔

ایک صحافی کی زندگی ختم ہوگئی، لیکن اس کے قتل نے ایسے سوالات زندہ کر دیے جن سے پاکستان کا سیاسی، مذہبی اور سکیورٹی نظام نظریں نہیں چرا سکتا۔

اسرائیل کا سفر⁦:⁩جرم یا بنیادی انسانی آزادی؟

امتیاز میر نے⁦2023⁩میں پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ واپسی کے بعد انہوں نے اپنے پروگرام میں اسرائیل سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو بھی مدعو کیا۔

یہ صحافتی عمل تھا۔ کسی ملک کو دیکھنا، وہاں کے لوگوں سے ملنا، مختلف نقطۂ نظر سننا اور اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرنا صحافت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔

لیکن پاکستان میں اسرائیل کے معاملے پر اختلافِ رائے کو اکثر قومی وفاداری اور مذہبی عقیدے کے امتحان میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

اکتوبر⁦2025⁩میں سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اعلان کیا کہ امتیاز میر کے قتل کے سلسلے میں چار مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کا تعلق لشکرِ سراللہ نامی گروہ سے تھا، جسے ایران سے منسلک زینبیون بریگیڈ کا حصہ بتایا گیا۔

وزیر داخلہ کے مطابق امتیاز میر کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ حملہ آور انہیں اسرائیل کا ہمدرد سمجھتے تھے۔ یہ سرکاری مؤقف اگر عدالتی شواہد سے ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب نہایت خوفناک ہے۔

ایک مسلمان صحافی کو محض اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے اسرائیل کے بارے میں آزادانہ سوچنے کی جرات کی۔

کیا یہ مذہب کا دفاع ہے؟ کیا کسی یہودی سے دوستی کرنا اسلام سے غداری ہے؟ کیا اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے والا مسلمان اپنی جان کے حق سے بھی محروم ہو جاتا ہے؟

مسلمان صہیونیوں کو ہر روز کس حقیقت کا سامنا ہے؟

آج ایسے مسلمان موجود ہیں جو اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، یہودیوں کے تاریخی تعلق کو سمجھتے ہیں اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پائیدار امن چاہتے ہیں۔ یہ مسلمان کوئی ایک جیسا سیاسی یا مذہبی گروہ نہیں۔

مگر ان میں سے بہت سے افراد کو دھمکیوں، سماجی بائیکاٹ، غداری کے الزامات اور مذہبی تکفیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں کافر، منافق، مشرک اور یہودی ایجنٹ کہا جاتا ہے۔

یہی وہ ماحول ہے جس میں نفرت محض الفاظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات تشدد کو جائز قرار دینے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

کسی مسلمان کو اسرائیل سے مکالمہ کرنے کے لیے دوسرے مسلمانوں سے اپنی جان کی ضمانت کیوں مانگنی پڑے؟

اسلام کے نام پر کسی انسان کے قتل کو جائز قرار دینے والے دراصل انسانی زندگی، مذہبی آزادی اور اختلافِ رائے کی بنیادی قدروں کو پامال کرتے ہیں۔

اسرائیل کی کسی حکومت پر تنقید ایک سیاسی حق ہے۔ فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی حمایت بھی ایک جائز سیاسی اور اخلاقی مؤقف ہے۔ لیکن اسرائیل کے ساتھ تعلقات یا مکالمے کے حامی کسی مسلمان کو قتل کرنا کسی بھی اصول کے تحت قابلِ قبول نہیں۔

کیا امتیاز میر کے قتل کے پیچھے صرف مذہبی انتہا پسند تھے؟

اس قتل کا سب سے تشویش ناک پہلو صرف حملہ نہیں، بلکہ اس کے بعد سامنے آنے والے متضاد مؤقف بھی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں ذاتی دشمنی اور زمین کے تنازعے کو ممکنہ وجہ بتایا گیا۔ بعد میں سندھ حکومت نے ایک کالعدم مسلح تنظیم کے مبینہ کردار کا اعلان کیا۔

حکام نے یہ بھی کہا کہ گرفتار افراد بیرونِ ملک موجود ایک ہینڈلر سے ہدایات حاصل کر رہے تھے اور تحقیقات میں وفاقی خفیہ اداروں نے بھی پولیس کی معاونت کی۔ یہ اعلان کسی مکمل اور شفاف عدالتی کارروائی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی بعد کی رپورٹ کے مطابق مقدمے میں پیش رفت رک گئی تھی اور اس رپورٹ کے وقت تک ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں ہوئی تھی۔ امتیاز میر کے خاندان نے بھی تفتیش کے بعض پہلوؤں اور مشتبہ افراد کی شناخت پر اعتراضات اٹھائے۔

اصل منصوبہ ساز کون تھا؟ حملے کی مالی معاونت کس نے کی؟ امتیاز میر کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات کس نے فراہم کیں؟ اور اس منصوبے کے بارے میں کس ادارے کو کیا معلوم تھا؟

آئی ایس آئی کا سوال⁦:⁩شک، ثبوت اور ریاستی جواب دہی

پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی، انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی، ملک کے قومی سلامتی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں سیاسی معاملات، مذہبی شدت پسندی، عسکریت پسند تنظیمیں اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں، کسی حساس سیاسی نوعیت کے قتل کی تحقیقات میں انٹیلی جنس اداروں کی جواب دہی کا سوال اٹھنا فطری ہے۔

تاحال ایسا کوئی قابلِ تصدیق عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ آئی ایس آئی نے امتیاز میر کے قتل کا حکم دیا، اس میں حصہ لیا یا اس کی مالی معاونت کی۔

بغیر ثبوت کسی ادارے کو قاتل قرار دینا ذمہ دارانہ صحافت نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انٹیلی جنس اداروں سے سوالات نہیں پوچھے جا سکتے۔

کیا کسی ادارے کو امتیاز میر کے خلاف ممکنہ خطرات کی پیشگی اطلاع تھی؟ کیا اسرائیل جانے والے پاکستانی صحافیوں کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا؟ کیا ایسی اطلاعات متعلقہ پولیس حکام تک پہنچائی گئی تھیں؟

کیا بیرونِ ملک مبینہ ہینڈلر کے بارے میں معلومات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں؟ اگر تفتیش میں وفاقی خفیہ ادارے شامل تھے تو ان کی حاصل کردہ معلومات اور شواہد کا قانونی انجام کیا ہوا؟

قومی سلامتی کا مطلب ریاستی اداروں کو ہر سوال سے بالاتر قرار دینا نہیں، بلکہ شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ایک آزاد اور غیر جانب دار عدالتی تحقیقات ہی یہ طے کر سکتی ہیں کہ امتیاز میر کے قتل میں کس کی ذمہ داری بنتی ہے، اور آیا کسی ادارے کی غفلت یا کسی فرد کی ملی بھگت موجود تھی یا نہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا تضاد

پاکستان خود کو دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز قرار دیتا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر اس کے سیاسی اور مذہبی رہنما انسانی حقوق اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ایک بنیادی سوال ہے۔

جب پاکستان کے اپنے ایک مسلمان شہری کو اسرائیل سے تعلق رکھنے یا اس کی مبینہ حمایت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس کی زندگی کے حق کے تحفظ کے لیے ریاست کیا کرتی ہے؟

انسانی حقوق کا اصول جغرافیہ، مذہب یا سیاسی پسندیدگی کے مطابق تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اگر فلسطینی شہری کی جان قیمتی ہے تو ایک اسرائیلی شہری کی جان بھی قیمتی ہے۔ اگر کسی مسلمان کو اپنے مذہب اور سیاسی نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہے تو دوسرے مسلمان کو مختلف سیاسی سوچ اختیار کرنے کی آزادی بھی ہونی چاہیے۔

انسانی حقوق کا دفاع انتخابی نہیں ہوسکتا۔ انصاف سب کے لیے یا پھر کسی کے لیے نہیں۔

سندھ اپنے اس گمنام ہیرو کو یاد رکھے

میں سندھ کی اس دھرتی کا بیٹا ہوں جس نے سیاسی مزاحمت، ہاریوں کی جدوجہد، انسانی حقوق اور اختلافِ رائے کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ میرے والد، کامریڈ غلام محمد لغاری، نے اپنی زندگی کے تقریباً⁦27⁩برس قید و بند میں گزارے، لیکن مظلوموں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔

اسی تاریخ نے مجھے سکھایا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ امتیاز میر کو محض ایک مقتول صحافی کے طور پر یاد نہیں رکھا جانا چاہیے۔

وہ سندھ کا ایک گمنام ہیرو تھا، جس نے دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اختلافِ رائے کی آزادی استعمال کرنے کی جرات کی۔

اس کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کی اسرائیل کے متعلق رائے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس کی صحافت پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن کسی انسان کی سوچ کو بندوق کی گولی سے جواب دینا تہذیب کی شکست ہے۔

سندھ کے صحافیوں، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ امتیاز میر کا نام زندہ رکھیں۔ ان کے قتل کی آزادانہ تحقیقات، شفاف مقدمہ اور اصل ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ مسلسل جاری رہنا چاہیے۔

آخری سوال

کیا پاکستان ایسا ملک بننا چاہتا ہے جہاں صحافی اسرائیل جانے سے پہلے اپنی وصیت لکھیں؟ جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے محض اس لیے نفرت کرے کہ وہ یہودیوں سے دوستی رکھتا ہے؟ جہاں مذہبی انتہا پسند یہ فیصلہ کریں کہ کون سا مسلمان زندہ رہنے کے قابل ہے؟

اگر ایسا نہیں، تو امتیاز میر کے قتل کو تاریخ کی ایک اور بھولی بسری خبر بننے سے روکنا ہوگا۔ انصاف صرف چند گرفتاریوں کے اعلان کا نام نہیں۔ انصاف کا مطلب اصل مجرموں، منصوبہ سازوں اور معاونین کی ذمہ داری کو ناقابلِ تردید شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہے۔

امتیاز میر کو گولیوں سے خاموش کیا گیا، لیکن ان کے قتل سے پیدا ہونے والے سوالات کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

سندھ اپنے اس گمنام ہیرو کو کبھی فراموش نہ کرے۔

امتیاز میر کے لیے انصاف!

سندھ زندہ باد⁦!⁩انسانیت زندہ باد⁦!⁩آزادیٔ اظہار زندہ باد!

منصور حسین لغاری

منصور حسین لغاری

دفاعی و عسکری تجزیہ نگار
سابق امریکی فوجی، انسانی حقوق کے کارکن، مسلم صہیونی
بانی و صدر، گلوبل یوتھ یونٹی پروجیکٹ⁦|⁩ریاستہائے متحدہ امریکہ
ادارتی نوٹ:نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں÷ اس مضمون میں آئی ایس آئی سے متعلق سوالات کو تحقیقات اور جواب دہی کے مطالبے تک محدود رکھا گیا ہے۔
نیویارک اُردو⁦|⁩آزاد اردو زبان کی خبروں اور رائے کا پلیٹ فارم
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleواشنگٹن پاکستان کے تحفظات سے آگاہ
Next Article کنیکٹیکٹ کا جیوش کمیونٹی سینٹر
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.