• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » نیتن یاہو نے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دے دیا
اسرائیل

نیتن یاہو نے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دے دیا

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 14, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

نیتن یاہو نے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دے دیا

یروشلم،⁦14⁩اگست 2026

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے برطانیہ کی موجودہ سمت کے بارے میں سخت تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ بننے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

نیتن یاہو کے بیان میں برطانیہ میں آبادیاتی تبدیلیوں، اسرائیل کے خلاف ذرائع ابلاغ کے رویے اور ان حکومتی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا جنہیں وہ مغرب میں اسرائیل کے لیے روایتی حمایت میں کمی کا سبب سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی پوڈکاسٹ ’’میلخ بلیئتسر حاییم‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے آج کے برطانوی ماحول کا موازنہ⁦1967⁩کی چھ روزہ جنگ کے دوران برطانوی صحافیوں کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں کی جانے والی کوریج سے کیا۔ انہوں نے بالخصوص جنگی دور کے برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کے صاحبزادے رینڈولف چرچل کی رپورٹنگ کا حوالہ دیا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ وہ صحافی اسرائیل آئے تھے اور انہوں نے چھ روزہ جنگ کی ایسی کوریج کی تھی جو اسرائیل کے لیے بہت مثبت تھی، لیکن آج برطانیہ میں اس نوعیت کی کوریج تلاش کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ کا نام دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہی رجحان برطانیہ میں بھی نظر آتا ہے تو نیتن یاہو نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے کہا تھا کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ ہوگی۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ایران میں ایسی ایک اور مثال قائم نہ ہو۔

نیتن یاہو کے یہ ریمارکس ایسے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جب برطانیہ میں آبادیاتی تبدیلیوں پر سیاسی بحث تیز ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ان تبدیلیوں کو اسرائیل مخالف احتجاج، یہود دشمنی اور مرکزی سیاسی و ابلاغی مباحثے میں بائیں بازو کے رجحانات میں اضافے سے جوڑا۔

انہوں نے برطانوی پالیسیوں کی جانب بھی اشارہ کیا، جن میں اسرائیل پر بڑھتی ہوئی تنقید، بعض پابندیاں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب حماس اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ اسرائیل کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم نیتن یاہو نے اپنے تبصرے کو برطانوی عوام کے خلاف حملہ قرار دینے کے بجائے ان رجحانات کی نشاندہی کے طور پر پیش کیا جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ اسرائیل کی سلامتی اور مغربی معاشروں کے مستقبل دونوں کے لیے اہم ہیں۔

انہوں نے برطانیہ کے حوالے سے دی گئی مثال کو ایران کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسرائیل کے اس دیرینہ مؤقف کو اجاگر کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا ضروری ہے۔ ایران ایک مذہبی بنیادوں پر قائم ریاست ہے اور اسرائیل اسے خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف پالیسیوں کے باعث ایک بڑے سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

نیتن یاہو کے حامیوں نے ان کے بیان کو ایک ضروری انتباہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی کھلی سرحدوں کی پالیسیاں، انتہا پسند اسلام پسند نیٹ ورکس کے خلاف ناکافی کارروائی اور مختلف معاشرتی گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر سنجیدہ توجہ نہ دینے سے برطانیہ کے بعض حصوں میں سیاسی ماحول تبدیل ہوا ہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق، نیتن یاہو نے صرف اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے جس کا اسرائیل اور مغرب کے بعض قدامت پسند حلقے طویل عرصے سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ نظریاتی اور آبادیاتی تبدیلیاں ایسی حکومتوں کو جنم دے رہی ہیں جو اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے میں پہلے کے مقابلے میں کم آمادہ اور اسرائیل مخالف دباؤ کو قبول کرنے کے لیے زیادہ تیار ہیں۔

تاہم اس معاملے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینا سیاسی اور آبادیاتی تبدیلیوں کی ایک انتہائی عمومی اور متنازع تعبیر ہے۔ برطانیہ ایک آئینی بادشاہت اور پارلیمانی جمہوریت ہے، جبکہ ملک کی مسلم آبادی کے حوالے سے مختلف سماجی، سیاسی اور مذہبی رجحانات کو ایک ہی سیاسی شناخت میں محدود کرنا پیچیدہ حقیقت کو سادہ بنا دیتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے بیان نے اسرائیل اور برطانیہ کے بعض حصوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی فاصلے کو بھی نمایاں کیا ہے۔ اسرائیل جہاں ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں سے لاحق خطرات کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بنیادی چیلنج سمجھتا ہے، وہیں کئی ممالک اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر زور دے رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست بننے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے بیان میں برطانیہ میں ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کو بھی ایک ایسے انتباہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس پر مغربی ممالک کو ان کے خیال میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

آبادیاتی تبدیلیاں اسرائیل اسرائیل ایران کشیدگی اسلامی جمہوریہ برطانیہ ایران ایران کا جوہری پروگرام برطانیہ برطانیہ اسرائیل تعلقات بینجمن نیتن یاہو جوہری ہتھیار حماس فلسطینی ریاست مشرق وسطیٰ یہود دشمنی یورپی سیاست
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleپیوٹن کا جاپان کے متنازع شمالی جزائر کا پہلا دورہ، ٹوکیو کی شدید مذمت، سفیر طلب
Next Article جمہوریت اور زہرِ ہلاہل
نیوز ڈیسک

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.