جمہوریت اور زہرِ ہلاہل

اگر آپ کو اپنے ارد گرد بنیاد پرستی کا تنگ گھیرا اور گھٹن محسوس ہوتی ہے تو تصور کریں کہ ہندوستان میں کیا صورت حال ہو گی جہاں قدیم ترین روحیت پرستی(animism)آج بھی بڑی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ بھگتی کا معروض ہے۔
شیو لنگ یونی(اندامِ نہانی)میں پیوست حالت میں بنایا جاتا ہے۔ یہ نر اور مادہ سرچشموں کا ملاپ ہے۔ لوگ اِس پر گنگا جل اور عام پانی، دہی، دودھ، گھی، شہد اور گنے کا رس نچھاور کرتے ہیں۔ بیل(bel)کے پتے بھی شیو لنگ کے اوپر رکھے جاتے ہیں۔ ویسے یہ پتے ادویات میں استعمال ہوتے ہیں اور سوزش کم کرنے کے علاوہ شوگر میں بھی کمی لاتے ہیں۔ مقدس راکھ، بھنگ کا پیسٹ، سفید پھول، چندن یعنی صندل کا پیسٹ، بھی نذر ہوتے ہیں۔
شیو لنگ پر یہ چیزیں بھینٹ چڑھانے اور پانی ڈالنے والوں کا یقین ہے کہ وہ اِس طرح تین مصیبتوں سے دُور رہیں گے:پریشانی، بیماری اور غربت۔ دراصل شیو نے سمدر منتھن یعنی سمندروں کو بلوئے جانے کے دوران کائنات کو بچانے کی خاطر مہلک زہر(ہلاہل۔ علامہ اقبال والا زہرِ ہلاہل)پی لیا تھا۔ زہر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید حرارت اُس کے جسم میں ہی رہ گئی، اور پانی ڈالنے کا مقصد اُسے راحت اور ٹھنڈک دینا ہے۔ یہ عمل منفی پن، غصہ، انا پرستی اور گناہوں کو بھی ساتھ بہا لے جاتا ہے، اور بھگت میں راحت اور سکون کا احساس پیدا کرتا ہے۔ پانی کا متواتر بہاؤ بھگتی کے بلاروک ٹوک تسلسل کی علامت ہے، اور مضطرب ذہن کی الوہی شعور میں جذب ہونے کی بھی۔
البتہ ہم پجاریوں کی بے ترتیبی، گندگی، غربت اور غلامانہ حرکات میں بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ پوجا کتنی سودمند ثابت ہوتی ہو گی۔ پوجا بس ایسی ہی ہوتی ہے۔ یہ گناہوں کو کرنسی میں بدلنے والا فارن ایکسچینج ادارہ ہے جس میں آج تک کسی کو خسارہ نہیں ہوا۔
ہندومت کی موجودہ رسوم اور اُن کے ’’فلسفے‘‘ پر غور کر کے آپ مذہب کی نہایت قدیم صورتوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں، اور اُن کے ’’تسکین بخش‘‘ اثرات کا بھی۔ کچھ آپ کو نہایت احمقانہ اور فضول محسوس ہوں گی۔ لیکن کہیں کسی ہندو کے گھر جنم لینے کی صورت میں آپ کا زاویۂ نظر مختلف ہوتا۔ کارل مارکس کا جملہ یاد کریں کہ مذہب عوام کے لیے افیون ہے۔ کم ازکم ہندوستان بالخصوص اور برصغیر بالعموم پر یہ بات صادق آتی ہے۔
اب ہندوستان کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب ہے، یعنی دنیا میں سب سے زیادہ۔ اگر ڈیڑھ ارب میں سے دس فیصد کو بھی واقعی عقلیت سے تعارف ہو جائے تو معاشرے کا شیرازہ بکھر جائے۔ اِسی لیے ریاستیں لوگوں کو شیو لنگ ٹھنڈا یا گرم کرنے پر لگائے رکھتی ہیں۔ انگریز دور میں افیون کا لائسنس جاری کیا جاتا تھا، کیونکہ یہ بہت سی بیماریوں کا علاج تھی۔ اب الیکٹرانک ذرائع سے افیون گھر گھر پہنچتی اور سکون دیتی ہے۔
اگر آپ اور ہم ہندوستان کی سماجی حالت کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں تو شاید اپنا ملک بہت بہتر لگنے لگے۔ تب ہم ’’دنیا میں کسی بھی،‘‘ ’’تاریخ میں کبھی بھی،‘‘ اور ’’کسی بھی معاشرے میں‘‘ جیسی جنرلائزیشنز استعمال کرنا کم کر دیں گے۔ ہمارے ہاں جو برائیاں اور نقائص ہیں وہ مصنوعی طریقے سے اور کوشش کر کے پیدا کردہ ہیں۔ دنیا، تاریخ اور تمام معاشروں میں بہت کچھ بُرا اور منفی ہوتا رہا ہے، اب بھی ہوتا ہے۔ بس ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے وہ سب کچھ اچھی طرح سے اپنے اوپر اور ارد گرد لاگو کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ہم ایسا شغلاً کرتے ہیں نہ کہ درست مان کر۔
یقیناً وہاں بھی اردوندھتی رائے اور نیہا بورا جیسے بہت سے لوگ موجود ہیں اور چند مثالوں کی بنیاد پر پورے ہندوستانی معاشرے کے متعلق رائے نہیں دی جا سکتی۔ لیکن جب وزیر اعظم تلک لگاتا اور مندروں میں لیٹ کر پوجا کرتا ہے تو بیماری وبا بن جاتی ہے اور عدمِ برداشت کو ہوا ملتی ہے جو سب انسانوں کی جڑوں میں سمائی ہوئی ہے۔ تب خواہشات کو ضمیر سمجھ لیا جاتا ہے اور معاشی مفادات، حسد، دھونس اور تفاخر بھی ساتھ مل کر ایسی نفرتوں سے آشنا کرتے ہیں جس کی آگ میں یورپ تین چار سو سال تک جلتا رہا، اور اب ہماری باری ہے۔
اگر جمہوریت کا تسلسل جہالت کو دُور کر سکتا ہے تو پھر ہندوستان کی ایسی حالت کیوں ہے؟ شاید سرمایہ داری نظام جمہوریت سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ اگر ہم جہالت کے زہرِ ہلاہل میں ڈوبے رہنے کے چسکے میں پڑ جائیں تو جمہوریت کا پانی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
یہ مضمون یاسر جواد کی ویب سائٹ سے کراس پوسٹ کیا جارہا ہے۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

