اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے ایک انتخابی تشہیری بل بورڈ کے ذریعے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کو ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای، لبنانی حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اور ترکیہ صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ایک ہی تصویر میں پیش کیا ہے۔
یہ بل بورڈ تل ابیب کے وسط میں نصب کیا گیا، جس پر نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ کا انتخابی نشان موجود تھا۔
آئندہ انتخابات اکتوبر میں متوقع ہیں اور یہ7اکتوبر2023کے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے۔ نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ جولائی میں اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی تحلیل کے بعد بھی ان کی اتحادی حکومت اقتدار میں برقرار رہے۔
نیتن یاہو نے گزشتہ اتوار کو اس تشہیری بل بورڈ کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی شیئر کی۔ اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں ممدانی کے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دینے والے بیانات شامل تھے۔
نیتن یاہو نے ممدانی پر ’’نفرت پھیلانے‘‘ اور نیویارک میں مختلف مذہبی گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے کا الزام عائد کیاtha۔
نیتن یاہو نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ امریکہ میں اسرائیل کی روایتی دو جماعتی سیاسی حمایت کو ممدانی کے ساتھ اتحاد رکھنے والے ترقی پسند ڈیموکریٹس سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
یہ انتخابی مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب اسرائیل میں حالیہ کئی عوامی جائزوں کے مطابق نیتن یاہو اور ان کے حکومتی اتحاد کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔موجودہ کنیسٹ میں لیکوڈ کے پاس32نشستیں ہیں، جبکہ حالیہ سروے اسے صرف21سے24نشستیں ملنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود نیتن یاہو خود کو ایک ایسے مضبوط رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس نے ان کے بقول ایران، غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کو قابو کیا۔

