نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک وسیع تر عسکری محاذ آرائی کے انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے اندر متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز اردن میں امریکی فوجیوں کے زیر استعمال فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد جاری تنازع میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد16ہو گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن کو نشانہ بنانے کا یہ چوتھا واقعہ ہے، جو خطے میں امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے اہم اتحادی ملک کے طور پر اردن کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ادھر امریکی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے ایران کے ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام اور پاسداران انقلاب کے ان عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں اردن میں امریکی فوج پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں حملے کیے۔ کویتی حکام نے بتایا کہ حملوں میں تیل کی تنصیبات، بجلی گھروں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق مملکت کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی فضائی حملوں کو ناکام بنا کر متعدد اہداف تباہ کر دیے۔
نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت واشنگٹن کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، تاہم حالیہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہی ہے کہ وہ اس جنگ کو کس طرح آگے بڑھائیں، جس کا آغاز انہوں نے تقریباً ساڑھے چار ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ابتدا میں اس عسکری مہم کو مختصر اور فیصلہ کن قرار دیا تھا، لیکن جنگ کئی ماہ تک جاری رہنے سے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کا ہدف بھی تاحال حاصل نہیں ہو سکا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی نئی سفارتی پیش رفت کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں، جس پر تہران نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ پر جون2026میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے وعدوں کا پابند نہیں رہا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ کے دستخط کو بھی بے وقعت قرار دیا۔
ایرانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق27جون2026سے جاری امریکی حملوں میں اب تک کم از کم50افراد ہلاک اور500سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاز رانی معطل ہو چکی ہے اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔

