پاکستان، اسرائیل اور قومی مفاد

کئی دہائیوں سے پاکستان کا اسرائیل کے بارے میں مؤقف اس کی خارجہ پالیسی کے ان چند مستقل پہلوؤں میں شمار ہوتا رہا ہے جن میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے کو فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے تناظر میں دیکھا ہے۔ یہ مؤقف تاریخ، جذبات اور اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔
تاہم خارجہ پالیسی صرف تاریخی مؤقف کو برقرار رکھنے کا نام نہیں۔ یہ بدلتی ہوئی دنیا میں قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
آج پاکستان کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ آیا اسے فلسطین سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی حقوق کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی رابطہ لازماً ایک دوسرے کی ضد ہیں؟
تاریخ اس کے برعکس مثالیں پیش کرتی ہے۔
بھارت کی مثال کیا بتاتی ہے؟
اس حوالے سے بھارت کی مثال نہایت قابلِ غور ہے۔ مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو یہودی برادریوں کے دکھ اور مشکلات، خصوصاً یورپ میں صدیوں تک جاری رہنے والے ظلم و ستم کے بعد پیدا ہونے والے المیے، کے بارے میں گہری ہمدردی رکھتے تھے۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے برطانوی مینڈیٹ کے دور کے حالات میں فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی مخالفت کی۔
ان کے خیالات نوآبادیاتی نظام کے خلاف اصولوں اور فلسطین کی عرب آبادی کے مستقبل کے بارے میں خدشات سے تشکیل پاتے تھے۔ کئی برس تک آزاد بھارت نے عرب حامی پالیسی اختیار کیے رکھی اور اسرائیل سے فاصلہ برقرار رکھا۔
لیکن قومیں وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتی ہیں۔
1950 میں بھارت نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کیا، جبکہ1992میں دونوں ممالک نے مکمل سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔ اس پیش رفت کا اہم پہلو یہ تھا کہ بھارت نے اس عمل کے دوران فلسطینی کاز کو ترک نہیں کیا۔ نئی دہلی نے فلسطینی قیادت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے اور مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھی۔
دوسرے لفظوں میں، بھارت نے یہ ظاہر کیا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطہ اور فلسطینی حقوق کی حمایت لازماً ایک دوسرے سے متصادم نہیں۔
پاکستان کا مختلف راستہ
پاکستان نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔1948سے اب تک پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اپنی پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کو فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل سے جوڑا ہے۔
یہ مؤقف پاکستان میں خاصا احترام رکھتا ہے اور اس قوم کے ساتھ حقیقی ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے جس نے کئی دہائیوں سے تنازع، بے یقینی اور انسانی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔
لیکن دنیا جب تبدیل ہو رہی ہو تو خارجہ پالیسی کو بھی وقت کے ساتھ نئے حقائق کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔
2026 کا مشرق وسطیٰ1948، 1967 یا حتیٰ کہ2000کا مشرق وسطیٰ نہیں ہے۔ تزویراتی صف بندیاں نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہیں۔ ابراہیمی معاہدوں نے علاقائی سفارت کاری میں ایک نیا باب کھولا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کیے، جبکہ فلسطینی عوام کی خواہشات اور حقوق کی حمایت بھی جاری رکھنے کا اظہار کیا۔
یہاں تک کہ وہ ممالک جو کبھی اسرائیل کے خلاف انتہائی سخت بیانیہ رکھتے تھے، اب معاشی، تکنیکی اور سلامتی کے مفادات سے متاثر ہو کر زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ رویے اختیار کر رہے ہیں۔
پاکستان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تنازع نہیں
ایک اہم نکتہ جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، یہ ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان کوئی براہِ راست علاقائی تنازع موجود نہیں۔ دونوں ممالک کی کوئی مشترکہ سرحد نہیں۔ دونوں کے درمیان کبھی جنگ نہیں ہوئی اور نہ ہی ایک دوسرے کے علاقے پر کوئی باہمی دعویٰ ہے۔
اس کے برعکس پاکستان ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتا ہے جن کے ساتھ وہ جنگیں لڑ چکا ہے اور جن کے ساتھ آج بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
سفارتی رابطہ کسی دوسرے ملک کی ہر پالیسی کی توثیق نہیں ہوتا۔ یہ محض ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ممالک ایک دوسرے سے بات کرتے، اپنے مفادات آگے بڑھاتے، اختلافات کو منظم کرتے اور ممکنہ مواقع تلاش کرتے ہیں۔
ممالک صرف دوستوں کے ساتھ سفارت خانے قائم نہیں کرتے۔ کئی مرتبہ سفارتی تعلقات اس لیے قائم کیے جاتے ہیں کیونکہ رابطہ خود ایک ضرورت بن جاتا ہے۔
معیشت، پانی، زراعت اور ٹیکنالوجی
پاکستان کو آج ایسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے جن کے لیے روایتی سوچ سے آگے بڑھ کر نئے خیالات کی ضرورت ہے۔ معاشی ترقی، غذائی تحفظ، پانی کا انتظام، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور سرمایہ کاری کا حصول قومی ترجیحات میں شامل ہیں۔
اسرائیل نے زراعت، آبپاشی، پانی کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، طبی جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر اپنی مہارت منوائی ہے۔
سفارتی تعلقات قائم ہونے سے یہ فوائد خود بخود پاکستان کی دسترس میں نہیں آ جائیں گے، اور نہ ہی یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون آسان یا فوری ہوگا۔ تاہم مکمل طور پر رسمی رابطے سے باہر رہنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ممکنہ مواقع تلاش کرنے کے راستے پہلے ہی محدود کر دیے جائیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے کسان، ٹیکنالوجی میں شراکت داری کے خواہاں کاروباری افراد اور تحقیق کے لیے بین الاقوامی تعاون تلاش کرنے والی جامعات ایسے عالمی ماحول میں کام کر رہی ہیں جہاں علم اور جدت کی اہمیت جغرافیے جتنی ہی بڑھ چکی ہے۔
ایک وسیع تر تزویراتی پہلو
اس معاملے کا ایک وسیع تر تزویراتی پہلو بھی ہے۔
بھارت نے اسرائیل کے ساتھ دفاع، زراعت، انٹیلی جنس تعاون اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں ایک قریبی اور کثیرالجہتی تعلق قائم کیا ہے۔ پاکستان کو بھارت کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن وہ انہیں نظر انداز بھی نہیں کر سکتا۔
کسی اہم علاقائی تعلق کو فاصلے سے سمجھنے اور براہِ راست سفارتی رابطے کے ذریعے سمجھنے میں فرق ہوتا ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب فلسطین سے دستبرداری نہیں
شاید اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سب سے مضبوط اعتراض یہ ہے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ پاکستان فلسطینی عوام کو چھوڑ رہا ہے۔ اس خدشے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ فلسطینی عوام کے لیے پاکستانی عوام کی ہمدردی گہری ہے اور اس میں حقیقی انسانی جذبہ شامل ہے۔
لیکن کسی ملک کو تسلیم کرنا اور کسی قوم کو ترک کرنا ایک ہی بات نہیں۔
ایک ملک بیک وقت:
- فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کر سکتا ہے۔
- فلسطینی عوام کے حقوق کی وکالت کر سکتا ہے۔
- مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
- اور ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم رکھ سکتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک ایسا ہی کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ دونوں فریقوں کے ساتھ رابطہ رکھنے سے امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے، بجائے اس کے کہ صرف ایک فریق سے بات کی جائے۔
پاکستان کی سفارتی لچک
پاکستان نے کئی مواقع پر مسلم دنیا اور اس سے باہر ایک وسیع تر سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ایسے ممالک کے ساتھ کامیابی سے تعلقات برقرار رکھے ہیں جو ایک دوسرے سے بھی شدید اختلافات رکھتے ہیں، جن میں امریکا، چین، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران شامل ہیں۔
یہ سفارتی لچک اکثر پاکستان کے مفادات کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔
یہی منطق ممکنہ طور پر اسرائیل کے معاملے پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔
مسئلے کو محض ’’اسرائیل بمقابلہ فلسطین‘‘ کے سادہ فریم ورک میں دیکھنے کے بجائے پاکستان یہ غور کر سکتا ہے کہ آیا وہ فلسطینی حقوق کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے اپنی سفارتی رسائی بھی وسیع کر سکتا ہے۔
اس طرزِ فکر کے لیے اصولوں سے دستبرداری ضروری نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہوگی کہ انہی اصولوں کو سفارتی ذرائع کے وسیع تر مجموعے کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔
کسی بھی تبدیلی سے پہلے قومی مکالمہ ضروری ہے
اگر کبھی پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو اسے بتدریج، شفاف اور ایک سنجیدہ عوامی بحث کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ خارجہ پالیسی کے فیصلے عوامی فہم اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر مسلط نہیں کیے جانے چاہییں۔
پارلیمان، جامعات، تھنک ٹینکس، مذہبی علما، صحافی اور سول سوسائٹی سب کو اس بحث کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحث کو ہی ناقابلِ قبول سمجھنے کے رویے سے گریز کیا جائے۔
سوال اسرائیل نواز یا اسرائیل مخالف بننے کا نہیں
پاکستان ماضی میں بھی علاقائی حالات بدلنے کے ساتھ اپنی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیتا رہا ہے۔ اس معاملے کو بھی اسی فکری اعتماد کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
حتمی مقصد نہ اسرائیل نواز بننا ہونا چاہیے اور نہ اسرائیل مخالف۔ نہ ہی فلسطین کے لیے حمایت کمزور کرنا مقصود ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنی اقدار سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات کو آگے بڑھائے۔
ایک پراعتماد قوم مکالمے سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔ وہ پیچیدہ حقائق کا سامنا کرنے، پرانے مفروضوں کا ازسرِنو جائزہ لینے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی تاریخی حمایت اس کی سفارتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن فلسطینی حقوق کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی رابطہ لازماً ایک دوسرے کی ضد نہیں۔
اصل چیلنج یہ طے کرنا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اسرائیل سے مکمل سفارتی دوری برقرار رکھنا اب بھی پاکستان کے قومی مفادات کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔

