میں سب سے پہلے انسان ہوں
9/11 کی ایک یاد، ایمان، نقصان اور اس سچائی کے نام جسے ہمیں کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے
: 11 ستمبر2001سے ایک ہفتہ قبل میں اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک میں تھی۔ ایک صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے میرے عزیز شوہر میری بیٹی رایا اور مجھے چھوڑ کر جڑواں ٹاورز کے آبزرویشن ڈیک پر جانے کے لیے روانہ ہوئے، تاکہ رش بڑھنے سے پہلے وہاں پہنچ سکیں۔
قسمت نے ان کی جان بچا لی۔
ہماری نیویارک آمد کے ایک ہفتے بعد میں گھر پر بیٹھی حیرت اور خوف کے عالم میں ٹیلی وژن پر دیکھ رہی تھی کہ پہلے طیارے کے ٹکرانے کے بعد دوسرا طیارہ بھی ٹاور سے جا ٹکرایا۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ منظرunfoldہوتے دیکھا اور اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرا خاندان ایک ناقابلِ تصور سانحے میں اپنا سب کچھ کھونے سے کس قدر قریب آ گیا تھا۔ اگر یہی واقعہ ایک ہفتہ پہلے، اسی دن اور تقریباً اسی وقت پیش آتا تو ممکن تھا کہ میرے شوہر بھی ان لوگوں میں شامل ہوتے جو کبھی واپس نہ آ سکے۔
میں اس شخص کو کھو سکتی تھی جس سے میں محبت کرتی تھی۔
یہ احساس اس دن سے آج تک میرے ساتھ ہے۔
بہت سے خاندان اتنے خوش قسمت نہیں تھے
اس دن بے شمار خاندان اجڑ گئے۔ لوگوں نے اپنے والدین، شریکِ حیات، بچوں، بہن بھائیوں اور دوستوں کو کھو دیا۔ ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں اور ان کا دکھ ٹاورز کے گرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔
میرا دل ہر اس شخص کے ساتھ ہے جس نے اپنا کوئی عزیز کھویا، اور ان تمام لوگوں کے ساتھ بھی جو اس سانحے اور اس کے بعد آنے والے برسوں کی تکلیف سے گزرے۔
میں سب سے پہلے انسان ہوں
اس دن نے میرے لیے ایمان، شناخت اور انسانیت کے مفہوم کو بدل دیا۔ مذہب سے میری شناخت متعین ہونے سے پہلے میں ایک انسان ہوں۔
اور ایک انسان کی حیثیت سے میں نفرت کے مقابلے میں رحم، تقسیم کے مقابلے میں سمجھ بوجھ، اور تشدد کے مقابلے میں امن کا انتخاب کرتی ہوں۔
ایک ایسی سچائی جسے دوبارہ لکھا جا رہا ہے
اس تباہ کن سانحے کی25ویں برسی کے موقع پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کی تاریخ کو کس طرح نرم، مسخ اور دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مفادات کے نیچے سچائی دبتی جا رہی ہے، اور موجودہ میئر نے بھی سیاسی فائدے کے لیے عوامی بیانیے کو نئی شکل دینے میں کردار ادا کیا ہے۔
ہمیں ان سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جن سے ہم نے بہت عرصے تک گریز کیا ہے:ہم مستقبل کی نسلوں کو یہ اخلاقی جرأت سکھانے میں کہاں ناکام ہوئے کہ وہ برائی کو پہچان سکیں، سچ کا دفاع کریں، احتساب کا مطالبہ کریں اور انتہاپسندی کی حقیقی انسانی قیمت کو سمجھیں؟
ہم نے اپنی قوم کی تاریخ کے سب سے مہلک دہشت گرد حملے کو سوالیہ نشان بننے، کم تر دکھائے جانے اور دوبارہ لکھے جانے کی اجازت کیسے دی؟
ہم کبھی نہیں بھولیں گے
آج میں ہر اس معصوم زندگی کو یاد کرتی ہوں جو چھین لی گئی۔ میں ان خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوں جنہیں ناقابلِ تصور غم کے ساتھ زندگی گزارنا پڑی اور ان عزیزوں کو بھی جو آج تک اس درد کو اپنے اندر اٹھائے ہوئے ہیں۔
میں ان ہیروز کو سلام پیش کرتی ہوں جو خطرے کی طرف دوڑے، دوسروں کو بچانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیا اور اپنی جانیں دے دیں۔
ان کی کہانیاں مٹائی نہیں جانی چاہییں۔ ان کے دکھ کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی قربانی کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہم بہادروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ہم سچ بولتے ہیں۔
اور چاہے کتنے ہی برس گزر جائیں — ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

