"`
9/11 کی25ویں برسی:امریکا نے اپنے مقتولوں کو یاد کیا
ملک بھر میں یادگاری تقریبات، خاموشی کے لمحات اور متاثرین کے ناموں کی خواندگی؛ نیویارک اور پینٹاگون میں اہم شخصیات کی شرکت
نیویارک: امریکا بھر میں جمعہ کے روز11ستمبر2001کے القاعدہ کے دہشت گرد حملوں کی25ویں برسی منائی گئی۔ ملک کے مختلف حصوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اس دن کو یاد کیا گیا جب دہشت گردوں نے چار مسافر طیاروں کو اغوا کرکے تقریباً3ہزار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
9/11 کی برسی کے موقع پر مختلف شہروں میں دعائیہ اجتماعات، شمعیں روشن کرنے کی تقریبات، خاموشی کے لمحات اور متاثرین کے ناموں کی سالانہ خواندگی سمیت یادگاری مراسم منعقد ہوئے۔ یہ دن امریکا کے تقریباً نصف بالغ شہریوں کے نزدیک ان کی زندگی کا سب سے تاریخی واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔
نیویارک میں متاثرین کے نام پڑھے گئے
لوئر مین ہٹن میں قائم 9/11 میموریل پر حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام ایک بار پھر پڑھ کر سنائے گئے۔ تقریب کا ماحول انتہائی سنجیدہ اور سوگوار تھا۔
اس موقع پر سات مرتبہ خاموشی اختیار کی گئی۔ رواں برس ایک خصوصی خاموشی ان امدادی کارکنوں، ریسکیو اہلکاروں، زندہ بچ جانے والوں اور ان مقامی رہائشیوں کی یاد میں بھی اختیار کی گئی جو بعد ازاں9/11سے متعلق بیماریوں کے باعث انتقال کر گئے۔
سابق صدور اور اہم رہنماؤں کی شرکت
سابق امریکی صدور بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور جو بائیڈن نے نیویارک کی تقریب میں شرکت کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی نیویارک میں موجود تھے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون میں ہونے والی یادگاری تقریب میں شرکت کی۔
ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے پینٹاگون میں ہلاک ہونے والے184افراد کے نام ایک ایک کرکے پڑھے جاتے سنے۔ ہر نام کے درمیان گھنٹی بجائی گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اس وقت جتنی طاقت رکھتا ہے، اس سے پہلے کبھی اتنی مضبوط حالت میں نہیں تھا۔
سعودی عرب کے مبینہ کردار پر سوالات
عام طور پر سیاست سے پاک رہنے والی تقریب میں سعودی عرب کے مبینہ کردار پر بھی سخت الفاظ سامنے آئے۔9/11کے متاثرہ ٹام اسٹرادا کی بیوہ ٹیری اسٹرادا نے متاثرین کے نام پڑھنے کے بعد سعودی عرب پر بھی سوالات اٹھائے۔
اسٹرادا نے سوال اٹھایا کہ25برس گزرنے کے باوجود سعودی عرب کے مبینہ کردار پر انصاف کیوں نہیں ہوا۔
مسلم امریکیوں کے لیے بھی ایک حساس موقع
9/11 کے بعد امریکا میں مسلم امریکیوں کو بھی تعصب اور امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ نیویارک کے پہلے مسلم میئر زہران ممدانی سے بعض حلقوں کی جانب سے تقریب میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاہم وہ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے تقریب میں شریک ہوئے۔
ممدانی کی ترجمان اینا بہر نے کہا کہ11ستمبر کے دہشت گرد حملوں کی25ویں برسی سیاست دانوں کے بارے میں نہیں بلکہ متاثرین اور قومی یادداشت کے بارے میں ہے۔
’’کبھی نہ بھولیں‘‘ — مگر کتنے لوگ یاد رکھتے ہیں؟
سوگوار یادگاری تقریبات کے باوجود امریکا میں9/11کی اجتماعی یادداشت ایک نئی نسل میں منتقل ہو رہی ہے۔ آج ایسے لاکھوں امریکی موجود ہیں جو2001میں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔
ایک حالیہ Ipsos سروے کے مطابق تقریباً ہر دس امریکی بالغ افراد میں سے صرف ایک نے کہا کہ وہ25ویں برسی کے موقع پر کسی خصوصی انداز میں یادگاری سرگرمی میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سروے کے مطابق جن لوگوں نے9/11کی برسی منانے کا ارادہ ظاہر کیا، ان میں تقریباً70فیصد نے خاموشی اختیار کرنے اور56فیصد نے امریکی پرچم آویزاں کرنے کا کہا۔ تقریباً20فیصد نے کسی یادگار پر جانے یا رضاکارانہ خدمت انجام دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔
’’میرے لیے یہ ایک صدمہ خیز دن ہے‘‘
51 سالہ کیون نوئل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہیں2001کی وہ صبح آج بھی یاد ہے جب وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب اپنے کام پر جا رہے تھے اور حملوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھا۔
ان کے مطابق9/11ان کے لیے ایک ایسا صدمہ خیز دن ہے جس کا ذکر آتے ہی وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔
یہ امریکا کی اجتماعی یادداشت، قومی اتحاد، دہشت گردی اور انسانی نقصان کی ایک زندہ علامت ہے۔

