"`
9/11 کے25سال بعد بھی بیشتر امریکی عبداللہ عزام سے ناواقف
اسامہ بن لادن کا اہم فکری استاد، افغان جہاد کا منتظم اور القاعدہ کی تشکیل کی کہانی کا ایک کم معروف کردار
واشنگٹن: 11 ستمبر2001کے دہشت گرد حملوں کو ایک چوتھائی صدی گزر چکی ہے۔ ان حملوں میں تقریباً3ہزار افراد ہلاک ہوئے، اور آج بھی اسامہ بن لادن کا نام امریکی اجتماعی حافظے میں نمایاں طور پر موجود ہے۔ تاہم، اس شخص کا نام بہت کم امریکی جانتے ہیں جس نے بن لادن کی فکری اور تنظیمی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
عبداللہ عزام فلسطینی اسلام پسند رہنما تھے جن کا تعلق جنین سے تھا۔ وہ اسامہ بن لادن کے اہم ترین فکری سرپرستوں میں شمار ہوتے ہیں۔1980کی دہائی میں دونوں نے مل کر مکتب الخدمات (Services Bureau) قائم کیا، جو سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں شامل ہونے والے عرب جنگجوؤں کی بھرتی، مالی معاونت اور مدد کے لیے ایک اہم نیٹ ورک بن گیا۔
عبداللہ عزام کا کردار
عزام نے افغان جنگ کے تناظر میں غیر ملکی، بالخصوص عرب جنگجوؤں کو متحرک کرنے اور ان کے لیے وسائل جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سرگرمیوں نے ایسے انسانی اور مالیاتی راستے بنانے میں مدد دی جو بعد کے برسوں میں شدت پسند تنظیموں کے لیے اہم ثابت ہوئے۔
1989 میں عبداللہ عزام کو قتل کر دیا گیا، لیکن ان کے نظریات اور ان کے بنائے ہوئے نیٹ ورک ان کی موت کے بعد بھی موجود رہے۔ یہی فکری اور لاجسٹک ورثہ اس تحریک کی بنیاد کا ایک حصہ بنا جس نے بالآخر11ستمبر2001کے حملوں کو جنم دیا۔
القاعدہ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم کڑی
مؤرخین اور انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ القاعدہ کی ابتدا اور ارتقا کو سمجھنے کے لیے صرف اسامہ بن لادن جیسے معروف ناموں پر توجہ کافی نہیں۔ اس داستان میں وہ نظریہ ساز، بھرتی کرنے والے اور تنظیم ساز بھی اہم ہیں جنہوں نے اس تحریک کے لیے ابتدائی ڈھانچہ تیار کیا۔
عبداللہ عزام اسی پس منظر میں ایک اہم مگر عام عوام کے لیے کم معروف کردار ہیں۔ ان کا کردار اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ9/11جیسے بڑے دہشت گرد حملے کسی ایک شخص یا ایک لمحے کی پیداوار نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے برسوں پر محیط نظریاتی، انسانی اور تنظیمی عمل موجود تھا۔
سانحے سے پہلے کی کہانی بھی اہم ہے
9/11 کے25برس بعد بھی اس واقعے کی یادداشت میں اسامہ بن لادن سب سے نمایاں نام ہیں، جبکہ ان کے اردگرد موجود فکری اور تنظیمی حلقوں کے بارے میں عمومی آگاہی نسبتاً کم ہے۔ عبداللہ عزام کی کہانی اسی خلا کی ایک مثال ہے۔
اس پس منظر کو سمجھنا دہشت گردی کی تاریخ کو کسی بھی طرح جواز فراہم کرنا نہیں، بلکہ یہ جاننے کی کوشش ہے کہ انتہاپسند تحریکیں کس طرح نظریات، بھرتی، مالی وسائل اور تنظیمی ڈھانچوں کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں اور کس طرح ایک نسل کے بنائے ہوئے نیٹ ورک بعد کی نسلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
