9/11 اُس رات ختم نہیں ہوا
25 برس بعد ایک عینی شاہد کی یادیں، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور یہ سوال کہ ہم یاد کیسے رکھتے ہیں
رابرٹ میگنس لکھتے ہیں: پچیس برس قبل میں آسٹریا میں ایک کانفرنس سے واپس آیا تھا۔ یورپ کے چند دوستوں نے مجھے ایک پریشان کن انتباہ دیا تھا کہ امریکا کو دہشت گردی کے خطرے کا سامنا غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔
ان کی تشویش میرے ذہن میں رہی۔ کئی برس سے میں اسلام پسند دہشت گرد تنظیموں اور ان سے لاحق خطرات، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کے تناظر میں، لکھتا اور عوامی سطح پر گفتگو کرتا آ رہا تھا۔ میں ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکا تھا کہ شاید یہ صرف وقت کی بات ہے کہ امریکا خود کسی بڑے حملے کا نشانہ بن جائے۔
لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ وقت ستمبر کی ایک خوبصورت منگل کی صبح آ پہنچے گا۔
وہ صبح جب امریکا پر حملہ ہوا
11 ستمبر2001کو صبح9بجے میں واشنگٹن ڈی سی میں فیملی ریسرچ کونسل کے میڈیا سینٹر میں پالیسی اسٹاف کا اجلاس کر رہا تھا۔ میں کونسل میں پالیسی کا نائب صدر تھا اور قومی سلامتی و خارجہ امور پر ایک معروف میڈیا آواز بن چکا تھا۔
اجلاس شروع ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اس وقت کے ایف آر سی نائب صدر ڈگ ورک اندر آئے اور ایک چونکا دینے والی خبر سنائی:ایک مسافر طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک ٹاور سے ٹکرا گیا ہے۔
ہم میں سے کسی کو اس خبر کی اصل نوعیت کا اندازہ نہیں تھا۔ چند منٹ بعد مجھے دور کہیں ایک دھماکے کی آواز سنائی دی۔ جلد ہی واشنگٹن سائرنوں کی آواز سے گونجنے لگا۔ پھر خبر آئی کہ پینٹاگون کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
میں نے اپنا اسٹاف رخصت کیا اور اوپر چلا گیا، جہاں ٹیلی وژن اس سانحے کی اصل وسعت دکھا رہا تھا۔ ہم نے طیاروں کو ٹاورز سے ٹکراتے دیکھا اور چند میل دور پینٹاگون سے اٹھتا دھواں بھی دیکھا۔ واشنگٹن کے دفاتر نے اپنے ملازمین کو گھروں کو جانے کی اجازت دے دی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اغوا کیے گئے چار طیارے ہی پورا حملہ تھے یا کسی اس سے بھی بڑے حملے کی ابتدائی کڑیاں۔ آج ہمیں تاریخ معلوم ہے، مگر اُس صبح ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا۔
ایک ہی دن میں31میڈیا انٹرویوز
میں اپنے دفتر میں موجود رہا۔ چونکہ میں کئی برس سے دہشت گردی پر لکھتا اور بولتا رہا تھا، اس لیے مختلف میڈیا اداروں نے مجھ سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک کے بعد دوسرا انٹرویو ہوتا رہا۔
شام تک میں31میڈیا انٹرویوز کر چکا تھا، جن میں فاکس نیوز پر رات گئے تک تین پروگرام بھی شامل تھے۔
رات سے پہلے گھر جانے کے لیے نکلا تو جو منظر دیکھا وہ آج بھی ذہن میں نقش ہے۔ شام ساڑھے پانچ بجے انٹر اسٹیٹ395، جو عام دنوں میں رش سے بھری ہوتی تھی، تقریباً خالی تھی۔ پینٹاگون کے قریب سے گزرتے ہوئے عمارت ابھی تک جل رہی تھی۔
میرے لیے9/11اُس رات ختم نہیں ہوا
2002 میں فیملی ریسرچ کونسل میں نو برس گزارنے کے بعد میں دوبارہ پینٹاگون میں محکمۂ فوج کے ساتھ کل وقتی کام پر واپس آیا۔ وہاں میں نے اپنی آنکھوں سے اس تنازع کے ابتدائی برس دیکھے جو بعد میں جہادی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط جنگ میں تبدیل ہو گیا۔
بعد کے کام نے مجھے جنگی علاقوں تک پہنچایا اور اس ستمبر کی صبح سے پیدا ہونے والے قومی سلامتی کے متعدد نتائج کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔
9/11 کی جسمانی یادگاریں بھی ہمیشہ قریب رہیں۔ میں نے پینٹاگون میموریل چیپل کا دورہ کیا، جو اس مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں امریکن ایئرلائنز کی پرواز77عمارت سے ٹکرائی تھی۔ میں اکثر پینٹاگون میموریل کے احاطے میں بھی جاتا رہا، جہاں اس صبح پینٹاگون اور پرواز77میں ہلاک ہونے والے184افراد کی یاد محفوظ ہے۔
میں نے پنسلوانیا کے شینکس وِل کے قریب فلائٹ93کے جائے حادثہ کا بھی دورہ کیا اور وہاں گفتگو کی، جہاں طیارے کے مسافروں اور عملے نے ہائی جیکروں کے خلاف مزاحمت کی اور طیارہ اپنے ممکنہ ہدف تک پہنچنے کے بجائے ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔
میں دو مرتبہ گوانتانامو بے بھی گیا، جہاں القاعدہ کے خلاف امریکا کی جدوجہد کے قانونی اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔9/11سے متعلق فوجی کمیشن کی کارروائیاں ایک چوتھائی صدی بعد بھی جاری ہیں۔
ممدانی اور9/11کی یادگاری تقریب کا تنازع
اسی تاریخ اور تجربے کے پس منظر میں نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی9/11کی25ویں برسی کی تقریبات میں شرکت سے متعلق حالیہ تنازع کو بھی احتیاط اور توازن کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
ممدانی کے سٹی ہال میں چیف کونسل رمزی قاسم ہیں، جو سٹی ہال میں شامل ہونے سے پہلے9/11کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران زیر حراست افراد کی قانونی نمائندگی کرتے رہے، جن میں احمد الدربی بھی شامل تھا۔
الدر بی نے2014میں فرانسیسی آئل ٹینکر لیمبرگ پر القاعدہ کے حملے سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔ وہ فلائٹ77کے ایک ہائی جیکر خالد المہدار کا بہنوئی بھی تھا۔
قاسم کے مطابق11ستمبر2001کو وہ نیویارک میں قانون کا طالب علم تھا۔ اس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں موجود دوستوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی، خون عطیہ کیا اور ریڈ کراس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر ان لوگوں کی مدد کی جو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔
دوسری جانب ممدانی نے11ستمبر کو نیویارک سٹی میں سرکاری طور پر ’’یومِ یاد اور خدمت‘‘ قرار دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے شہر کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی مضبوط بنانے اور11ستمبر کو ہلاک ہونے والوں اور بعد میں حملوں سے متعلق بیماریوں کے باعث جان گنوانے والوں کی یاد میں شہر گیر خاموشی اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
اصل سوال:یاد رکھنے کا مطلب کیا ہے؟
یہ تمام حقائق ریکارڈ کا حصہ ہونے چاہییں۔ لیکن9/11کی25ویں برسی ایک زیادہ گہرا سوال بھی سامنے لاتی ہے: ہم یاد کیسے رکھتے ہیں؟
جن لوگوں نے11ستمبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ان کے لیے یاد ایک مجرد تصور نہیں۔
مجھے ڈگ ورک کا ہمارے اجلاس میں داخل ہونا یاد ہے۔
مجھے دور کی دھماکے کی آواز اور سائرن یاد ہیں۔
مجھے یہ خوف یاد ہے کہ شاید مزید حملے ہونے والے ہیں۔
مجھے واشنگٹن کے خالی ہوتے ہوئے دفاتر اور31انٹرویوز یاد ہیں۔
مجھے تقریباً خالیI-395یاد ہے۔
اور مجھے جلتا ہوا پینٹاگون یاد ہے۔
پھر وہ برس آئے جو اس کے بعد گزرے — پینٹاگون چیپل، یادگاریں، شینکس وِل، گوانتانامو، جنگی علاقے، جان دینے والے امریکی، زخمی فوجی اور دہشت گردی کے خلاف وہ جنگ جو اس ستمبر کی صبح کسی کے اندازے سے کہیں زیادہ طویل ثابت ہوئی۔
یادگار تقریب سے زیادہ اہم وہ لوگ ہیں جنہیں یاد کیا جا رہا ہے
کسی یادگاری تقریب میں کون شریک ہوتا ہے، اس پر ہونے والی بحث کو کبھی بھی ان لوگوں پر غالب نہیں آنا چاہیے جن کی یاد میں تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔
11 ستمبر سب سے پہلے ان تقریباً3ہزار بے گناہ انسانوں کا ہے جنہیں قتل کیا گیا؛ ان کے خاندانوں کا ہے؛ ان ابتدائی امدادی کارکنوں کا ہے جو خطرے کی طرف دوڑے؛ اور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے بعد میں اس ملک کے دفاع میں قربانیاں دیں۔
عوامی عہدہ رکھنے والے افراد پر یادگاری مقامات میں داخل ہوتے وقت ایک خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ایسے مقامات پر قدم رکھتے ہیں جو قربانی اور غم سے مقدس ہو چکے ہیں۔ ان کی سیاست کچھ بھی ہو، انہیں وہاں عاجزی اور احترام کے ساتھ جانا چاہیے۔
کچھ امریکیوں کے لیے9/11اب تاریخ بن چکا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ اب بھی ایک یاد ہے۔
اور تاریخ اور یاد میں فرق ہوتا ہے۔

