میڈی کیئر فراڈ کیس میں امریکی حکام کو پاکستانی شہریوں کی تلاش
پاکستان میں قائم کال سینٹر ’’ہیلو انٹرنیشنل مارکیٹنگ سلوشنز‘‘ کے ذریعے مبینہ طور پر703ملین ڈالر کے جعلی دعوے جمع کرانے کا الزام
امریکی صحت کے حکام نے پاکستان سے چلنے والے ایک کال سینٹر سے منسلک بڑے پیمانے کے مبینہ طبی فراڈ میں ملوث متعدد پاکستانی شہریوں کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔
امریکی صحت کے حکام نے پاکستان میں قائم ایک کال سینٹر Hello International Marketing Solutions (HIMS) کے نام سے چلنے والے بڑے پیمانے کے مبینہ ہیلتھ کیئر فراڈ کیس میں کئی پاکستانی شہریوں کو مفرور قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے انسپکٹر جنرل کے دفتر (HHS-OIG) اور شمالی ضلع الینوائے کے وفاقی استغاثہ کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر میڈی کیئر اور میڈی کیئر ایڈوانٹیج منصوبوں کو تقریباً 703 ملین ڈالر مالیت کے جھوٹے اور جعلی دعوے جمع کرانے کا سبب بنایا۔
418.6 ملین ڈالر کی ادائیگی
امریکی حکام کے مطابق ان جعلی دعووں میں سے تقریباً418.6ملین ڈالر کی ادائیگیاں میڈی کیئر اور متعلقہ منصوبوں کی جانب سے کی گئیں۔
فراڈ کا طریقۂ کار کیا تھا؟
مبینہ فراڈ کا مرکز پائیدار طبی آلات (Durable Medical Equipment)، بغیر نسخے کے دستیاب کووڈ-19ٹیسٹ کٹس اور جینیاتی ٹیسٹ تھے۔ استغاثہ کے مطابق ان میں سے بہت سی اشیا اور ٹیسٹ میڈی کیئر کے مستحق افراد نے نہ تو طلب کیے تھے، نہ انہیں ان کی ضرورت تھی اور نہ ہی انہیں وہ اشیا یا خدمات کبھی موصول ہوئیں۔
امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق پاکستان میں قائم کال سینٹر نے میڈی کیئر کے مستحق افراد کے شناختی نمبرز چوری، دھوکا دہی، ہیکنگ اور مختلف ویب سائٹس سے ڈیٹا اسکریپ کرنے کے ذریعے حاصل کیے۔
اس کے بعد مستحق افراد سے رابطہ کرکے مبینہ طور پر جعلی دعووں کے لیے ضروری رضامندی حاصل کی جاتی تھی، جبکہ بعض معاملات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے رضامندی کو جعلی طور پر تیار کیا گیا۔
امریکی حکام کو مطلوب اہم افراد
1۔ فضا فرید (Fizza Farid)
بنیادی ملزمان میں واحد خاتون، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اپریل2025کے اواخر میں امریکا سے پاکستان فرار ہوگئیں۔
2۔ فیضان سلیم (Faizan Saleem)
3۔ شیریار عارف (Shearyar Arif)
4۔ رکن الدین ’’رک‘‘ چارولیا (Ruknuddin “Rick” Charolia)
پاکستان یا متحدہ عرب امارات میں موجودگی کا شبہ
امریکی حکام کا خیال ہے کہ مطلوب افراد ممکنہ طور پر پاکستان یا متحدہ عرب امارات میں موجود ہوسکتے ہیں۔ حکام نے عوام سے ان افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مطلوب افراد کے نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔
امریکی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں ملزمان کے ٹھکانے یا موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل ہوں تو وہ متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
یہ کیس امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے2025میں کیے گئے وسیع تر ’’نیشنل ہیلتھ کیئر فراڈ ٹیک ڈاؤن‘‘ کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت ملک بھر میں طبی شعبے سے متعلق بڑے پیمانے کی دھوکا دہی کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔
70 ملین یا703ملین ڈالر؟
اس کیس کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فراڈ میں پانچ پاکستانی شہری ملوث تھے اور مجموعی رقم تقریباً 70 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 200 ارب پاکستانی روپے تھی۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ فردِ جرم، الزامی دستاویزات اورHHS-OIGکے بیانات ایک کہیں زیادہ بڑے مبینہ فراڈ کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔ ان سرکاری دستاویزات کے مطابق جعلی طور پر جمع کرائے گئے دعووں کی مجموعی مالیت تقریباً 703 ملین ڈالر تھی۔
یوں اس معاملے میں پاکستانی میڈیا کی بعض رپورٹس اور امریکی سرکاری دستاویزات میں درج رقم کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ سرکاری امریکی ریکارڈ کے مطابق معاملہ محض چند کروڑ ڈالر تک محدود نہیں بلکہ تقریباً703ملین ڈالر کے دعووں کے ایک وسیع نیٹ ورک سے متعلق ہے۔
معاملے کی اہمیت
یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر منظم طبی فراڈ میں ڈیجیٹل ذرائع، کال سینٹرز، چوری شدہ شناختی معلومات اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید طریقوں کا استعمال کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں ممکنہ موجودگی رکھنے والے افراد کی تلاش اس کیس کو امریکا سے باہر بھی ایک اہم قانونی اور سفارتی معاملہ بناتی ہے۔
