مشرقِ وسطیٰ|یرغمالیوں کی واپسی کی پہلی سالگرہ
اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کا ایک سال، اسٹیو وٹکوف کا سفارت کاری اور امن کو خراجِ تحسین
امریکی خصوصی ایلچی نے یرغمالیوں کی رہائی، ان کے خاندانوں کی ہمت اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ13اکتوبر کو اس واقعے کو ایک سال مکمل ہوگیا جب آخری20زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو738روزہ اسیری کے بعد بالآخر ان کے اہلِ خانہ سے ملا دیا گیا۔
وٹکوف نے اپنے بیان میں کہا کہ ان خاندانوں کو اپنے پیاروں سے دوبارہ ملتے دیکھنا ان کی زندگی کے بامعنی ترین لمحات میں سے ایک تھا، جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے اس یادگاری موقع پر ان تمام یرغمالیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو اپنے گھروں کو واپس لوٹے، اور ان افراد کو بھی یاد کیا جو المناک طور پر اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔
خاندانوں کی ہمت اور استقامت کو خراجِ تحسین
خصوصی ایلچی نے یرغمالیوں کے خاندانوں کی غیر معمولی ہمت اور ثابت قدمی کو بھی سراہا۔ ان کے پیغام کے مطابق، اس دن کی یاد محض ان لوگوں کی واپسی کا ذکر نہیں بلکہ ان خاندانوں کے دکھ، قربانیوں اور طویل انتظار کو یاد رکھنے کا موقع بھی ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کی رہائی کی امید برقرار رکھی۔
“ان کی واپسی سفارت کاری، ثابت قدمی اور ہماری مشترکہ انسانیت کی طاقت کا ثبوت تھی۔”
ٹرمپ، روبیو اور علاقائی شراکت داروں کا شکریہ
وٹکوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متزلزل قیادت اور عزم پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی مستقل حمایت اور جیرڈ کشنر کے ساتھ اس کوشش کے دوران ہونے والی اہم شراکت داری کو بھی سراہا۔
انہوں نے اسرائیل، قطر، مصر اور ترکیہ کے شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے یرغمالیوں کو گھر واپس لانے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ ان کے مطابق، اس عمل میں مختلف فریقوں کی سفارتی کوششیں اہم رہیں۔
پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم
وٹکوف نے کہا کہ یرغمالیوں کی واپسی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سفارت کاری، استقامت اور مشترکہ انسانی اقدار مشکل ترین حالات میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یرغمالیوں کے مصائب اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے اور دیرپا امن کے حصول کے لیے کام جاری رہنا چاہیے۔
ان کا پیغام اس یادگاری دن کو انسانی دکھ، خاندانوں کی ثابت قدمی اور سفارتی کوششوں کی اہمیت کے ساتھ جوڑتا ہے، جبکہ خطے میں پائیدار امن کی ضرورت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
اسٹیو وٹکوف، خصوصی ایلچی برائے امن مشنز — @SEPeaceMissions
یہ خبر فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
