واشنگٹن،16جولائی — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف کامیاب عالمی اقدامات کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ میں جہادی دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم اب دنیا کو ایک نئے چیلنج، یعنی انتہا پسند بائیں بازو کی منظم سیاسی تشدد پسند تحریکوں، کا سامنا ہے۔
واشنگٹن میں دہشت گردی سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ داعش کے عروج کے دور میں امریکہ اور مغربی ممالک کو شدید دہشت گردی کا سامنا تھا، لیکن انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر حکمت عملی کے باعث امریکہ میں جہادی حملوں میں تقریباً دو تہائی کمی آئی، جبکہ2015سے2024کے درمیان یورپ میں جہادی دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً97فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
کانفرنس میں60سے زائد ممالک کے وزراء، سکیورٹی حکام اور انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے شرکت کی۔
روبیو نے کہا کہ اگرچہ جہادی دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن اب مغربی ممالک کو ایک نئی اور منظم انتہا پسند بائیں بازو کی تحریک سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے اس خطرے کو میڈیا، جامعات اور پالیسی ساز حلقوں میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک امیگریشن نظام میں موجود کمزوریاں دور نہیں کی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمزور امیگریشن نظام کے ذریعے خطرناک عناصر ملک میں داخل ہوتے رہیں گے تو دہشت گردی کا خطرہ بھی برقرار رہے گا۔
تاریخی پس منظر
اپنے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ نے سرد جنگ کے دور کی متعدد بائیں بازو کی مسلح تنظیموں کا حوالہ دیا، جن میں پیرو کی شائننگ پاتھ، کولمبیا کی فارک(FARC)اور ای ایل این(ELN)، یوراگوئے کی ٹوپاماروس، اٹلی کی ریڈ بریگیڈز، جرمنی کی ریڈ آرمی فیکشن اور یونان کی17نومبر تنظیم شامل ہیں۔
انہوں نے امریکہ میں ماضی کی تنظیموں ویدر انڈرگراؤنڈ، بلیک لبریشن آرمی اور سمبیونیز لبریشن آرمی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام گروہ ایک ہی انتہا پسند نظریاتی دھارے سے وابستہ تھے۔
روبیو نے ایف بی آئی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ1971اور1972کے دوران صرف ڈیڑھ سال میں امریکہ میں تقریباً2,500بم دھماکے ہوئے، جبکہ ان کے مطابق1970سے1980کے درمیان مغربی ممالک میں ہونے والے93فیصد دہشت گرد حملوں کے پیچھے انتہا پسند بائیں بازو کے عناصر تھے۔
حالیہ واقعات کا حوالہ
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں یونان، جرمنی، فرانس اور امریکہ میں پیش آنے والے متعدد حالیہ پرتشدد واقعات کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک وسیع اور منظم رجحان کا حصہ ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتہا پسند بائیں بازو کے مختلف گروہ سرحدوں سے ماورا ایک دوسرے کے ساتھ رابطے، مالی معاونت، پروپیگنڈا اور لاجسٹک تعاون کر رہے ہیں۔ روبیو نے ایران اور کیوبا پر بھی الزام لگایا کہ وہ مغربی ممالک میں سرگرم بعض بائیں بازو کے شدت پسند نیٹ ورکس کی حمایت کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات
مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں نیشنل سکیورٹی پریذیڈنشل میمورنڈم-7 (NSPM-7) کے تحت اینٹیفا سے منسلک نیٹ ورکس کی تحقیقات اور ان کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ:گزشتہ نومبر چار انتہا پسند بائیں بازو کی تنظیموں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں (Foreign Terrorist Organizations) قرار دیا گیا، جبکہ مزید تنظیموں کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کی تیاری جاری ہے۔
ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت ان نیٹ ورکس کی مالی معاونت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک کے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ انسداد دہشت گردی ورکشاپس کا آغاز کیا گیا ہے، جن میں آئندہ جرمنی کے اشتراک سے ایک اور ورکشاپ منعقد ہوگی۔
خطاب کے اختتام پر روبیو نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے اس نئے خطرے کے خلاف انٹیلی جنس کے تبادلے، مشترکہ قانون نافذ کرنے کی حکمت عملی اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا،”ہمیں اس خطرے کی مکمل نشاندہی کرنی ہوگی، اس کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا ہوگا اور اپنی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو نئے حالات کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا۔”

