امریکہ ایران سے معاہدے کے لیے اب بھی تیار، مگر خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی:وائٹ ہاؤس
واشنگٹن — وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں کے باوجود امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ ایک سفارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، جبکہ تہران بھی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری کو اولین ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر ایران نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی تو امریکہ اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ بیک وقت سفارتی مذاکرات اور عسکری دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ایران کو اپنے وعدوں کی پاسداری پر آمادہ کیا جا سکے۔
ایران میں قیادت کے اندر اختلافات
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق ایران کی قیادت کے اندر پالیسی کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، تاہم ایرانی قیادت کے بعض حلقے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے خواہاں ہیں۔
مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام
کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی فضائی حملے ایران کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی خلاف ورزی کے بعد کیے گئے۔
ان کے مطابق ایران کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں امریکی فوج نے ایرانی اہداف پر”تباہ کن”حملے کیے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران نے کس شق کی خلاف ورزی کی یا مفاہمتی یادداشت کی نوعیت کیا تھی۔
آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ اس وقت آبنائے ہرمز پر مکمل نگرانی اور محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم یہ اہم آبی گزرگاہ ان تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے جو ایرانی بندرگاہوں کا رخ نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس تزویراتی راستے پر امریکی اقدامات کا مقصد خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ کھلا
کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ ایران پر عسکری اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سفارتی مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ ایران کے اندر امریکی حملے اور خطے میں امریکی مفادات پر ہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کی پالیسی یہ ہے کہ اگر ایران اپنے وعدوں کی پاسداری کرے تو سفارتی حل کو ترجیح دی جائے، لیکن کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں امریکہ سخت ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔

