تحریر حسن مجتبی
صبح جب ہم اسکول پہنچے توہمارے ہندو ٹیچر نے ہمیں بتایا کہ آج کلاس نہیں ہوگی۔ کل سے وہ ہمارے ٹیچر بھی نہیں رہيں گے۔ اب انہیں یہ ملک چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے۔ اب ہمارا ایک نیا ملک ہے پاکستان اور وہ ہندوستان چلے جائيں گے۔ پھر تھوڑی دیر میں اسمبلی کی
گھنٹی بجی مگر کلاسیں نہیں ہوئيں اسکی جگہ مٹھائی تقسیم ہوئی اور ہم مٹھائی ملنے اور سب سے بڑی بات کہ چھٹی ہوجانے پرخوش خوش اپنے گھروں کو واپس لوٹے،‘ یہ بات سندھی ناٹک نویس اور صاحب طرز ادیب ممتاز مرزا نے اپنے بچپن کی یادداشت کے طور پر لکھی تھی۔
یہ نعمت با برکات لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ تھی یا ’بقول شخصے‘ سن انیس سو تیس کے عشرے میں ایک شام لندن کے ایک گمنام پب میں اسکاچ وھسکی پر تین کم معروف شخصیات کی اس ملاقات کا نتیجہ جو اس بات پر غور کرنےکےلیے اکھٹے ہوئے تھے کہ برصغیر میں مسلمانوں کےلیے ایک علیحدہ اور آزاد مملکت کا قیام کیسے عمل میں لایا جائے۔
’ آزادی گھوڑے پر چڑہ کر آئے یا گدھے پر اس کا خواب دیکھنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔‘ یہ بات پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں صرف ہاتھ کی دس انگلیوں پر گنے جاسکنے والے باضمیر ججوں میں سے ایک جسٹس محمد رستم خان االمعروف ایم آر کیانی نے انگریزوں کی حکومت میں اپنے سیشن جج ہونے کے دنوں میں انکی عدالت میں انکے سامنے لائے جانے والے ایک مقدمے کے فیصلے میں لکھی تھی۔
اس مقدمے میں گرفتار ایک نوجوان پر الزام تھا کہ اسے یہ کہتے سنا گیا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ آزادی گھوڑے پر چڑھ کر آرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جسٹس کیانی نے اس نوجوان کو باعزت بری کردیا تھا۔
جج محمد رستم خان کیانی نے اس نوجوان کو مقدمے سے بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا: “آزادی گھوڑے پر چڑھ کر آئے کہ گدھے پر خواب دیکھنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔”
فیض صاحب کا اسی ’صبح آزادی‘ پر ماتم بجا بیس لاکھ لوگ قتل ہوئے ، کوئی اس سے دگنے تگنے لوگوں کو جبرن نقل مکانی سے گزرجانا پڑا اور پچہتر ہزار عورتیں عصمت دری کا شکار ہوئيں۔ یہ درد نہرو اور جناح نہیں لیکن امرتا پریتم ہی سمجھ سکتی تھی۔
اج آکھاں وارث شاہ نوں
کتھوں قبراں وچوں بول
اک روئی سی دھی پنجاب دی
تو لِکھ لِکھ مارے وین
اج لکھاں دھیاں روندیاں
تینوں وارث شاہ نوں کھین
لیکن وہ جو کہتے ہیں نہ کہ سانپ گزرجانے کے بعد اب زمین پر اسکے چھوڑی جانے والی لکیروں کو کیا پیٹنا-راتوں رات نقشہ تبدیل ہوگیا۔ کایا پلٹ گئی۔ بقول شاعر، دیسی پردیسی اور پردیسی دیسی ہوگئے۔
لوگ راستوں پر نہیں ریلوں میں بھٹک گئے۔ گاندھی کوگوروں نے ریل کے ڈبے میں چڑھنے نہیں دیا۔ ہاں برا کیا بہت ہی برا کیا۔
بے امان، بے سمت و منزل لوگوں کے ٹرینوں پر سوار قافلے۔ پائے دانوں پر خون اور لاشوں سے اٹی ہوئي ریلیں، ممبئی میں بموں سے اڑتی ہوئی ریلیں، گجرات میں جلتی ہوئی ریلیں۔
’ہے رام!نتھو رام گوڈسے یہاں اہنسا کو ہر روز و شب گولی مار رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند مسلمان جنونی‘۔
ایسا لگتا ہے کہ برصغر اب بھی خوشونت سنگھ کا ناول ہے “اے ٹرین ٹو پاکستان”
وہ لوگ جو ان ٹرینوں پر اپنی مرضی سے نہیں بیٹھے محبت اور مجبوری میں بیٹھے۔ تاریخ کے جبر نے انہیں زبردستی بٹھوایا۔ یہ لوگ تاریخ کے قیدی تھے۔ حکومتوں کی کٹھورتا کے قیدی تھے
اپنی اپنی آزادیاں سب کو مبارک۔

