تین افغان خواتین کو2021کے لینٹوس انسانی حقوق ایوارڈز
جج فوزیہ امینی، رویا محبوب اور خالدہ پاپل کی قانونی جدوجہد، ٹیکنالوجی، تعلیم اور کھیلوں کے ذریعے افغان خواتین کے حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف
لینٹوس فاؤنڈیشن نے2021کے لینٹوس انسانی حقوق ایوارڈز کے لیے افغانستان کی تین نمایاں خواتین، جج فوزیہ امینی، ٹیکنالوجی کی کاروباری شخصیت رویا محبوب اور سابق فٹ بال کھلاڑی خالدہ پاپل، کو مشترکہ طور پر منتخب کیا۔ ان تینوں نے اپنے اپنے شعبوں میں افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیم کے فروغ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کام کیا۔
فاؤنڈیشن کی پریس ریلیز کے مطابق، ان خواتین کی خدمات مختلف شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں:عدلیہ اور قانون سازی، ٹیکنالوجی اور کاروبار، اور کھیلوں کے ذریعے سماجی تبدیلی۔ ان کی جدوجہد کا ایک مشترکہ پہلو یہ رہا کہ افغان خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے، تعلیم حاصل کرنے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع میسر آئیں۔
جج فوزیہ امینی:قانون کے ذریعے خواتین کے حقوق کا تحفظ
جج فوزیہ امینی نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک افغان حکومت میں مختلف اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ وہ وزارتِ امورِ خواتین کے قانونی شعبے کی سربراہ بھی رہیں۔ بعد ازاں انہوں نے افغانستان کی سپریم کورٹ میں سینئر جج اور خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق عدالت کی سربراہ کے طور پر کام کیا۔
اس منصب پر انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد سے متعلق سیکڑوں مقدمات نمٹائے۔ ان کی ذمہ داریوں میں خواتین کے تحفظ اور قانونی انصاف تک ان کی رسائی بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات شامل تھے۔
جج امینی خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے قانون، عائلی قانون اور خطرے سے دوچار خواتین کے لیے تحفظ مراکز سے متعلق ضوابط کی تیاری میں بھی شریک رہیں۔ انہوں نے وزارتِ انصاف کے ساتھ مل کر قوانین کا صنفی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا تاکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے خواتین کے حقوق سے متعلق قانونی امور پر صلاحیت سازی کی سیکڑوں تربیتی نشستیں بھی منعقد کیں۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کے کنونشن کے خلاف تشدد، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور خواتین و بچوں کے تحفظ سے متعلق دیگر اہم بین الاقوامی معاہدوں میں افغانستان کی شمولیت کے عمل میں بھی کردار ادا کیا۔
2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد جج امینی کو اپنی جان کے حوالے سے متعدد دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے باعث انہیں روپوش ہونا پڑا۔ انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن کی مدد سے وہ تقریباً100خواتین ججوں کے ساتھ افغانستان سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
برطانیہ پہنچنے کے بعد بھی ان کی توجہ افغانستان میں رہ جانے والی خواتین ججوں کے تحفظ اور ان کے انخلا کے لیے آواز اٹھانے پر مرکوز رہی۔ ان کی جدوجہد اس بات کی مثال ہے کہ قانونی اداروں میں خواتین کی نمائندگی اور انصاف کے نظام میں ان کی شرکت کیوں اہم ہے۔
رویا محبوب:ٹیکنالوجی اور تعلیم کے ذریعے افغان لڑکیوں کو بااختیار بنانا
رویا محبوب افغانستان کی پہلی خاتون ٹیکنالوجی چیف ایگزیکٹو افسر کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ تاہم ان کا کام کاروبار تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی میں اپنی مہارت اور کامیابی کو افغان خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، معاشی خودمختاری اور سماجی بااختیاری کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے غیر منافع بخش ادارہ ڈیجیٹل سٹیزن فنڈ (Digital Citizen Fund) قائم کیا، جس کا مقصد افغان خواتین کی ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی میں اضافہ کرنا ہے۔ اسی کوشش کے تحت انہوں نے افغان گرلز روبوٹکس ٹیم کے قیام میں بھی معاون کردار ادا کیا اور اس کی حمایت جاری رکھی۔
محبوب نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سے منسلک کلاس رومز قائم کرنے کے لیے کام کیا۔ انہوں نے ایک آن لائن پلیٹ فارم بھی شروع کیا جس کا مقصد افغان خواتین اور صحافیوں کی آواز کو مضبوط بنانا تھا۔
وہ مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ تعلیم ایسے پُرامن اور منصفانہ معاشروں کی تعمیر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے جو انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوں۔ ان کی خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا اور انہیں2013میں ٹائم میگزین کی100بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
طالبان کے2021کے اقتدار سنبھالنے کے بعد رویا محبوب نے افغان گرلز روبوٹکس ٹیم کی ارکان کو افغانستان سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اقدام ان لڑکیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا جنہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے کام کیا تھا۔
خالدہ پاپل:فٹ بال کے میدان سے خواتین کے حقوق کی عالمی جدوجہد تک
خالدہ پاپل نے2007میں افغانستان کی قومی خواتین فٹ بال ٹیم کے قیام میں مدد دے کر کھیلوں میں خواتین کی شرکت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ وہ ٹیم کی کپتان رہیں اور بعد میں افغانستان فٹ بال فیڈریشن میں ملازمت حاصل کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
جب افغانستان میں ان کے لیے رہنا غیر محفوظ ہو گیا تو انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ اس کے باوجود انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ڈنمارک میں قائم گرل پاور آرگنائزیشن (Girl Power Organisation) کی بنیاد رکھی۔
یہ تنظیم کھیلوں کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے پر کام کرتی ہے، بالخصوص پناہ گزین اور مہاجر لڑکیوں کے لیے۔ پاپل نے کھیلوں کو صرف مقابلے کا ذریعہ نہیں بلکہ اعتماد، خودمختاری، شمولیت اور سماجی تعلق مضبوط بنانے کے وسیلے کے طور پر بھی پیش کیا۔
افغانستان میں طالبان کی واپسی کے دوران انہوں نے سینئر اور جونیئر قومی خواتین فٹ بال ٹیموں کی درجنوں کھلاڑیوں کو ملک سے نکلنے اور نئی جگہوں پر آباد ہونے میں مدد دینے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ انہوں نے ان کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کی نئی ممالک میں منتقلی کے بعد بھی معاونت جاری رکھی۔
فٹ بال کے میدان میں دفاعی کھلاڑی رہنے والی خالدہ پاپل اب دنیا بھر میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی حامی کے طور پر سرگرم ہیں۔ ان کا کام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیلوں کے ذریعے بھی خواتین کے لیے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ان کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچایا جا سکتا ہے۔
لینٹوس فاؤنڈیشن کا مؤقف
لینٹوس فاؤنڈیشن کی صدر ڈاکٹر کیٹرینا لینٹوس سویٹ کے مطابق، افغان خواتین کی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے شعبوں میں خدمات اس قدر وسیع اور قابلِ ذکر ہیں کہ ان میں سے صرف تین خواتین کا انتخاب کرنا ایک مشکل کام تھا۔
انہوں نے کہا کہ جج فوزیہ امینی، رویا محبوب اور خالدہ پاپل انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں اور یہ دکھاتی ہیں کہ افغان خواتین نے مختلف شعبوں میں کس طرح اثر ڈالا ہے۔
ڈاکٹر لینٹوس سویٹ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ تینوں خواتین یہ انعام اپنی ان ساتھی افغان خواتین کی نمائندہ حیثیت سے قبول کریں گی جنہیں طالبان کی سخت گیر حکمرانی میں دوبارہ زندگی گزارنے کے خدشات کا سامنا ہے۔
افغان خواتین کے مستقبل کے لیے ان خدمات کی اہمیت
ان تینوں خواتین کی کہانیاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن ان کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ مشترک ہے:خواتین کو اپنے حقوق کے استعمال، تعلیم کے حصول اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنا۔
جج فوزیہ امینی نے قانون اور عدلیہ کے ذریعے خواتین کے تحفظ کے لیے کام کیا؛ رویا محبوب نے ٹیکنالوجی اور تعلیم کو بااختیاری کا ذریعہ بنایا؛ جبکہ خالدہ پاپل نے کھیلوں کے میدان میں خواتین کی شرکت اور ان کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔
طالبان کی واپسی کے بعد خواتین کے تحفظ، تعلیم اور عوامی زندگی میں ان کی شرکت کے مسائل نے نئی اہمیت اختیار کی۔ ان خواتین کی سرگرمیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسانی حقوق کے لیے کوششیں صرف ایک شعبے تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ قانون، تعلیم، کاروبار، کھیل اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آگے بڑھائی جا سکتی ہیں۔
ویڈیو: 2021 لینٹوس انسانی حقوق انعام
انعام اور اس کے وصول کنندگان سے متعلق ویڈیو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
ماخذ: لینٹوس فاؤنڈیشن کی2021کے انسانی حقوق انعام سے متعلق پریس ریلیز۔
اصل اعلامیہ: Lantos Foundation — 2021 Prize
ویڈیو: YouTube پر ویڈیو دیکھیں
