وائٹ ہاؤس کی وضاحت
آبنائے ہرمز پر قبضے کا اعلان”مذاق”تھا:وائٹ ہاؤس کی صفائی سامنے آ گئی
تہران میں غم و غصے کے بعد امریکی عہدیدار کا بیان:صدر ٹرمپ نے مشیروں سے کوئی اجلاس نہیں کیا تھا، نیویارک میں تقریر کے دوران محض مذاق کر رہے تھے
🌐 بین الاقوامی خبریں
📍 واشنگٹن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تہران میں غم و غصہ پیدا ہونے کے بعد کہ وہ”ایران کی شکست کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی قرار دینے کا اعلان کریں گے”، وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ دراصل مذاق کر رہے تھے۔
عہدیدار نے بتایا کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکہ کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دینے کے اعلان کے حوالے سے ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ کوئی اجلاس نہیں کیا۔
ٹرمپ کے سخت بیانات کا پس منظر
ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے انتخابی اجتماعات، بلکہ بعض اوقات باضابطہ ملاقاتوں میں بھی سخت بیانات دیتے رہے ہیں، جن میں گرین لینڈ، کینیڈا، کیوبا اور وینزویلا پر کنٹرول سے لے کر بعض علاقوں اور ممالک کے نام تبدیل کرنے تک کے بیانات شامل ہیں۔
موجودہ امریکی صدر کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ اکثر اپنے حامیوں یا عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران مذاق کرتے ہیں۔
⏳ اہم ڈیڈ لائن قریب
تاہم گزشتہ شب ہرمز کے بارے میں ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کافی عرصے سے سخت لفظی جنگ جاری ہے، کسی حل تک پہنچنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور17اگست کی مقررہ تاریخ قریب آ رہی ہے۔
یہ وہ مدت ہے جو گزشتہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں مقرر کی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت زیرِ التوا معاملات پر مذاکرات اور کسی اتفاقِ رائے تک پہنچنے کے لیے60دن کی مہلت دی گئی تھی۔

