واشنگٹن ڈی سی
تازہ ترین رپورٹ
سخت سرحدی پالیسیوں سے انسانی اسمگلنگ کے مشتبہ مالی لین دین میں62فیصد کمی
محکمہ خزانہ کےFinCENکی نئی رپورٹ کے مطابق جنوبی سرحد پر غیر قانونی داخلوں میں کمی نے کارٹلز سے منسلک اسمگلنگ نیٹ ورکس کی آمدنی پر بھی براہِ راست ضرب لگائی ہے۔
|
62%
کمی 2025 |
FinCEN کا تجزیہ — 2023 سے2025کے دوران امریکی مالیاتی اداروں نے تقریباً5ارب ڈالر کے مشتبہ انسانی اسمگلنگ سے منسلک لین دین کی نشاندہی کی، جن میں سب سے نمایاں کمی رواں برس ریکارڈ کی گئی۔ |
واشنگٹن ڈی سی — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت سرحدی پالیسیوں کے نتیجے میں انسانی اسمگلنگ کے کاروبار سے وابستہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے منافع میں نمایاں کمی آئی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، انسانی اسمگلنگ سے مشتبہ مالی لین دین میں2025کے دوران غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ خزانہ کے مالیاتی جرائم کے نفاذ کے نیٹ ورک(FinCEN)کے تجزیے کے مطابق،2023سے2025کے دوران امریکی مالیاتی اداروں نے تقریباً5ارب ڈالر کی ایسی لین دین کی نشاندہی کی جو مشتبہ انسانی اسمگلنگ سے منسلک تھیں۔ رپورٹ کا اہم نکتہ یہ ہے کہ2025میں ایسے مشتبہ لین دین میں2024کے مقابلے میں62فیصد کمی آئی۔
FinCEN کی ڈائریکٹر اینڈریا گیکی کے مطابق، انسانی اسمگلنگ کے بہت سے نیٹ ورکس بڑے بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں، خصوصاً میکسیکو میں موجود منشیات کے کارٹلز، کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مالیاتی اداروں کی جانب سے مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
انسانی اسمگلنگ سے متعلق مالی سرگرمیوں میں کمی کو امریکہ کی جنوبی سرحد پر غیر قانونی ہجرت میں آنے والی بڑی کمی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت پالیسیوں، پناہ کے قوانین میں تبدیلی، کیچ اینڈ ریلیز کے خاتمے اور تیز تر ملک بدری کے اقدامات کے بعد سرحد پر تارکینِ وطن کی آمد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
|
15 ماہ سے بغیر رہائی کے مسلسل نفاذ جاری |
94% بائیڈن دور کی اوسط سے کم سرحدی گرفتاریاں |
$5B مشتبہ لین دین کی مجموعی مالیت، 2023–2025 |
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق، جنوبی سرحد پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو رہا کیے بغیر مسلسل15ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جنوب مغربی سرحد پر گرفتاریاں بائیڈن انتظامیہ کے دور کی ماہانہ اوسط کے مقابلے میں تقریباً94فیصد کم رہی ہیں اور2023کے اواخر میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے بھی کہیں نیچے ہیں۔
FinCEN کے اعداد و شمار کے مطابق، مشتبہ مالی لین دین کی بڑی تعداد رقم منتقل کرنے والے کاروباروں کے ذریعے ہوئی، جبکہ بینکوں نے بھی جنوبی سرحد کے قریب غیر معمولی نقد لین دین اور نقل مکانی کے معروف راستوں پر ہونے والی مشکوک رقوم کی منتقلی کی بڑی تعداد رپورٹ کی۔ کئی معاملات میں لین دین میں شامل افراد یا فریقین کے درمیان کوئی قابلِ تصدیق تعلق بھی سامنے نہیں آیا۔
مؤثر سرحدی نگرانی صرف غیر قانونی داخلوں کو کم نہیں کرتی، بلکہ انسانی اسمگلنگ کے ذریعے کارٹلز کو حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدنی کو بھی محدود کر سکتی ہے۔
— ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اور سرحدی سلامتی کے حامیوں کا مؤقف
یہ پہلو اس مسئلے کو محض امیگریشن پالیسی سے آگے لے جاتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کمزور اور بے بس افراد سے بھاری رقوم وصول کرنے کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لیے بھی مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی آمدنی پر ضرب لگانا جرائم کے پورے ڈھانچے کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہے۔
تاہم، ان اعداد و شمار کا جائزہ لیتے وقت یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مالیاتی اداروں کی جانب سے رپورٹ کیے جانے والے مشتبہ لین دین براہِ راست مجرمانہ سرگرمی ثابت نہیں کرتے۔ یہ رپورٹس ممکنہ مالی جرائم کی نشاندہی کرتی ہیں جن کی مزید تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود مجموعی رجحان ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے:جب سرحدی نگرانی سخت ہو، غیر قانونی داخلوں کے امکانات محدود ہوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسانی اسمگلنگ کے مالی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنائیں تو ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے لیے کاروبار کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حامی اسے اپنی ’’امریکہ فرسٹ‘‘ سرحدی پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک سرحد کو محفوظ بنانا صرف غیر قانونی امیگریشن کم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ان کارٹلز اور جرائم پیشہ تنظیموں کے مالی مفادات کو نقصان پہنچانے کا بھی مؤثر ذریعہ ہے جو انسانی مجبوریوں کو اربوں ڈالر کے کاروبار میں تبدیل کر چکے ہیں۔

