امریکی وزیر خارجہ روبیو کی کینیڈین ہم منصب انیتا آنند سے ملاقات، براعظمی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ملاقات کی، جس میں مغربی نصف کرۂ ارض میں مشترکہ سلامتی، اقتصادی اور علاقائی ترجیحات پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ روبیو نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان تعاون کے اہم شعبوں کی توثیق کی۔ ان میں ہیٹی میں قائم ’’اسٹینڈنگ گروپ آف پارٹنرز‘‘ کے ساتھ کینیڈا کی مسلسل شراکت داری، وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے بعد ہنگامی امداد، آرکٹک خطے کی سلامتی، آن لائن فراڈ اور اسکیم سینٹرز کے خلاف مشترکہ اقدامات اور کیوبا میں فوری، نمایاں اور ناقابل واپسی اصلاحات کی ضرورت شامل ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک امریکا اور کینیڈا کے درمیان مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور پورے براعظم میں باہمی تعاون کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روبیو نے ان معاملات پر پالیسی میں ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔
کینیڈین وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند خصوصی طور پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچی تھیں۔ کینیڈا کے محکمہ عالمی امور کے مطابق ملاقات میں براعظمی سلامتی اور دیگر عالمی ترجیحات پر گفتگو ہونا تھی۔
یہ ملاقات امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور اقتصادی امور پر وسیع تر رابطوں کے پس منظر میں ہوئی، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے اعلامیے میں بنیادی توجہ سلامتی اور علاقائی ترجیحات پر مرکوز رہی۔
ہیٹی، وینزویلا اور آرکٹک پر تعاون
دونوں جانب سے ہیٹی کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، حالیہ زلزلوں کے بعد وینزویلا کی مدد اور آرکٹک خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی تعاون کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
آن لائن اسکیم آپریشنز کے خلاف بات چیت نے سرحد پار سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے پر دونوں ممالک کی توجہ کو ظاہر کیا۔ دوسری جانب کیوبا میں اصلاحات کا مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کیوبا کی حکومت پر سیاسی دباؤ برقرار ہے۔
انیتا آنند کا مؤقف
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کرکے مشترکہ سلامتی کی ترجیحات کو آگے بڑھانے اور اہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی اہمیت کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی۔
آنند نے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان اسکیم سینٹرز سمیت سرحد پار دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں کے خلاف تعاون انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کینیڈا کی آرکٹک خارجہ پالیسی اور براعظمی سلامتی اور نیٹو کے اجتماعی دفاع کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کو بھی اجاگر کیا۔
انیتا آنند کے مطابق دونوں ممالک نے ہیٹی میں سلامتی اور انسانی بحران سے نمٹنے اور ملک میں استحکام بحال کرنے کے لیے ہیٹی کی قیادت میں جاری کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی اجازت سے قائم گینگ سپریشن فورس کے ذریعے اقدامات بھی شامل ہیں۔
کینیڈین وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ تجارت کے شعبے میں تعمیری انداز میں رابطے جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گا۔
اقوام متحدہ میں دوبارہ ملاقات کا امکان
دونوں وزرائے خارجہ نے آئندہ بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ انیتا آنند کے مطابق دونوں رہنما جلد دوبارہ بات کریں گے، جس میں ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ملاقات بھی شامل ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان یہ ملاقات مغربی نصف کرۂ ارض کو درپیش سلامتی، اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز پر دونوں اتحادی ممالک کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ہیٹی کے بحران، آرکٹک کی سلامتی، سرحد پار سائبر جرائم، تجارت اور براعظمی دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آئندہ بھی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا اہم حصہ رہنے کا امکان ہے۔

