
پاکستان کی قومی سلامتی پر گفتگو ہو اور ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر نہ آئے، یہ تقریباً ناممکن ہے۔ پاکستان میں جوہری صلاحیت کو محض ایک ہتھیار نہیں بلکہ ریاست کی بقا، قومی خود مختاری اور بھارت کے مقابل عسکری توازن کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
اس تصور کے پیچھے ٹھوس عسکری منطق موجود ہے۔
بھارت آبادی، معیشت، دفاعی بجٹ اور مجموعی روایتی فوجی وسائل میں پاکستان سے کہیں بڑا ملک ہے۔ پاکستان کے لیے جوہری صلاحیت نے اس عدم توازن کا ایک ایسا جواب فراہم کیا جس نے مکمل پیمانے کی جنگ کے نتائج کو دونوں ممالک کے لیے ناقابلِ تصور حد تک خطرناک بنا دیا۔
لیکن قومی سلامتی کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار کیوں ہیں۔
زیادہ اہم سوال یہ ہے:
یہ ہتھیار پاکستان کو کس خطرے سے محفوظ رکھتے ہیں، اور کن خطرات سے نہیں؟
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ جوہری ہتھیار کسی ریاست کے لیے انتہائی طاقتور بازدار قوت ہوسکتے ہیں، لیکن وہ قومی سلامتی کا مکمل متبادل نہیں۔
پاکستان کی جوہری سوچ کہاں سے پیدا ہوئی؟
پاکستان کے جوہری پروگرام کو جنوبی ایشیا کی تاریخ، بالخصوص بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات، سے الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں۔
1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس جنگ نے واضح کردیا تھا کہ روایتی فوجی طاقت میں عدم توازن ریاست کی سلامتی کے لیے کس قدر سنگین نتائج پیدا کرسکتا ہے۔
پھر 1974 میں بھارت نے اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا۔
پاکستان کے لیے یہ محض ایک سائنسی کامیابی کی خبر نہیں تھی۔ اس نے جنوبی ایشیا کی دفاعی مساوات تبدیل کردی۔
پاکستانی قیادت کے سامنے ایک بنیادی سوال تھا:
اگر بھارت روایتی فوجی برتری کے ساتھ جوہری صلاحیت بھی حاصل کرلیتا ہے تو پاکستان مستقبل میں طاقت کا توازن کیسے برقرار رکھے گا؟
جواب بالآخر پاکستان کے اپنے جوہری پروگرام کی صورت میں سامنے آیا۔
مئی 1998 میں بھارت نے پوکھران میں مزید جوہری تجربات کیے۔ چند ہفتوں کے اندر پاکستان نے چاغی میں اپنے جوہری تجربات کرکے خود کو اعلانیہ جوہری طاقت ثابت کردیا۔
اس لمحے سے جنوبی ایشیا میں جنگ کی نوعیت بنیادی طور پر بدل گئی۔
اب بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی بھی بڑی جنگ کے پیچھے ایک خاموش لیکن انتہائی خطرناک سوال موجود تھا:
یہ جنگ کہاں رک جائے گی؟
ایٹمی ہتھیار کا اصل مقصد اسے چلانا نہیں
جوہری حکمتِ عملی کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ اس ہتھیار کی سب سے بڑی کامیابی اسی وقت ہوتی ہے جب اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔
یہی جوہری بازدارندگی کا بنیادی تصور ہے۔
بازدارندگی کا مقصد دشمن کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر وہ کسی مخصوص حد سے آگے گیا تو اسے ایسی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی قیمت وہ برداشت نہیں کرسکتا۔
یعنی جنگ اس لیے نہیں روک رہا کہ تم مجھ پر حملہ نہیں کرسکتے، بلکہ اس لیے کہ حملے کے بعد تم بھی محفوظ نہیں رہو گے۔
پاکستان کے معاملے میں یہی جوہری ہتھیاروں کی بنیادی عسکری اہمیت ہے۔
بھارت روایتی فوجی طاقت میں پاکستان سے بڑا ہے، لیکن جوہری ماحول میں صرف ٹینکوں، طیاروں، توپوں اور فوجیوں کی تعداد فیصلہ کن نہیں رہتی۔
اگر ایک مکمل جنگ بالآخر جوہری تصادم تک پہنچ سکتی ہے تو روایتی فوجی برتری کی سیاسی اور عسکری افادیت محدود ہوجاتی ہے۔
اس لحاظ سے پاکستان کی جوہری صلاحیت نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔
کیا جوہری ہتھیاروں نے جنگ ختم کردی؟
نہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں جوہری بازدارندگی کے بارے میں عام تصور حقیقت سے ٹکراتا ہے۔
1998 کے بعد دونوں ممالک جوہری طاقتیں تھے، لیکن صرف ایک سال بعد 1999 میں کارگل کی جنگ ہوئی۔
2001 اور 2002 میں دونوں ممالک نے سرحدوں پر بڑی تعداد میں فوجیں جمع کردیں۔
2008 کے ممبئی حملوں کے بعد شدید بحران پیدا ہوا۔
2019 میں پلوامہ حملے، بھارتی بالاکوٹ کارروائی اور اس کے بعد پاکستانی فضائی جواب نے دونوں ممالک کو براہِ راست فوجی تصادم کے انتہائی قریب پہنچادیا۔
مئی 2025 میں ایک مرتبہ پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی روز تک شدید فوجی کارروائیاں ہوئیں، جن میں میزائل، ڈرون اور فضائی طاقت استعمال ہوئی۔ بالآخر جنگ بندی ہوئی، لیکن بحران نے ثابت کیا کہ جوہری ہتھیار محدود فوجی تصادم کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے۔
اور شاید جنوبی ایشیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ اسی دروازے کے اندر موجود ہے۔
جوہری چھتری کے نیچے جنگ
بھارت اور پاکستان دونوں جانتے ہیں کہ مکمل جنگ تباہ کن ہوسکتی ہے۔
لیکن اسی یقین سے ایک دوسرا اور زیادہ پیچیدہ سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا جوہری جنگ کے خطرے کے باوجود محدود فوجی کارروائی ممکن ہے؟
یہ مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جنوبی ایشیائی عسکری حکمتِ عملی کے مرکز میں ہے۔
بھارت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو وہ ایسا فوجی جواب کیسے دے جو مؤثر بھی ہو لیکن پاکستان کو جوہری ردعمل پر مجبور نہ کرے۔
پاکستان کے لیے مسئلہ اس کے برعکس ہے۔ وہ بھارت کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ کسی بڑی روایتی فوجی پیش قدمی کی بھی ایک حد ہے، اور اس حد سے آگے بڑھنے کے نتائج ناقابلِ قبول ہوسکتے ہیں۔
یوں دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرخ لکیر کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔
لیکن جنگ میں سرخ لکیریں نقشے پر کھینچی ہوئی واضح لکیریں نہیں ہوتیں۔
یہیں سے خطرہ شروع ہوتا ہے۔
اصل خطرہ شاید ارادہ نہیں، غلط اندازہ ہے
جوہری جنگ کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ کسی ملک کا سربراہ ایک دن فیصلہ کرتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جائیں۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
ایک محدود حملہ ہوتا ہے۔ دوسرا ملک جواب دیتا ہے۔ پہلے فریق کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بازدارندگی کمزور ہورہی ہے، اس لیے وہ زیادہ سخت کارروائی کرتا ہے۔ دوسرا فریق اسے بڑی جنگ کی تیاری سمجھ لیتا ہے۔
طیارے فضا میں آجاتے ہیں۔ میزائل دستوں کو تیار کردیا جاتا ہے۔ فضائی دفاع متحرک ہوجاتا ہے۔ انٹیلی جنس ادارے تیزی سے بدلتی ہوئی معلومات سیاسی قیادت تک پہنچاتے ہیں۔
اور اسی دوران ایک غلط اطلاع، ریڈار کی غلط تشریح، مواصلاتی خرابی یا دشمن کے ارادے کے بارے میں غلط اندازہ پورے بحران کی سمت بدل سکتا ہے۔
جوہری ماحول میں سب سے خطرناک چیز ہمیشہ دشمن کی طاقت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ آپ دشمن کے اگلے قدم کو غلط سمجھ لیں۔
ایٹمی طاقت اور دہشت گردی، دو مختلف مسائل
یہاں پاکستان کی قومی سلامتی کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔
پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کسی دشمن ریاست کے بڑے فوجی حملے کے خلاف بازدار قوت فراہم کرسکتے ہیں۔ لیکن یہی ہتھیار کسی خودکش حملہ آور کو نہیں روک سکتے۔
وہ تحریک طالبان پاکستان کے کسی حملے کا جواب نہیں۔ وہ بلوچستان کی شورش کا سیاسی یا عسکری حل نہیں۔ وہ سرحد پار مسلح دراندازی کو خود بخود نہیں روک سکتے۔
وہ سائبر حملے کے خلاف حفاظتی دیوار نہیں۔ اور نہ ہی وہ داخلی سیاسی یا معاشی عدم استحکام کا علاج ہیں۔
اگر ایک ریاست بیرونی حملے کے خلاف محفوظ ہے لیکن اندرونی طور پر مسلسل دہشت گردی، شورش، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے تو کیا اسے مکمل طور پر محفوظ ریاست کہا جاسکتا ہے؟
جواب واضح نہیں۔
داخلی سلامتی کے لیے مختلف ہتھیار درکار ہیں
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مسلح گروہوں کی کارروائیاں پاکستان کے لیے ایک مختلف نوعیت کا سلامتی چیلنج ہیں۔
ان خطرات کے خلاف جوہری ہتھیار بے معنی ہیں۔
یہاں ضرورت بہتر انسانی اور فنی انٹیلی جنس، مؤثر پولیس، جدید سرحدی نگرانی، تربیت یافتہ انسدادِ دہشت گردی دستوں، مقامی آبادی کے اعتماد، بہتر حکمرانی اور ایک قابلِ عمل سیاسی حکمتِ عملی کی ہوتی ہے۔
ہر خطرے کا جواب ایک ہی ہتھیار نہیں ہوسکتا۔
جوہری ہتھیار ریاست کے وجود کو لاحق انتہائی بڑے بیرونی خطرے کے خلاف آخری بازدار قوت ہیں۔ داخلی سلامتی ایک بالکل مختلف میدان ہے۔
جنگ اب صرف ٹینک اور لڑاکا طیارے نہیں
اکیسویں صدی میں جنگ کی تعریف تیزی سے بدل رہی ہے۔ ڈرون، مصنوعی ذہانت، مصنوعی سیاروں سے نگرانی، انتہائی درست میزائل، برقی جنگ، سائبر حملے اور بغیر پائلٹ جنگی نظام اب جدید میدانِ جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔
یوکرین کی جنگ نے خاص طور پر ایک حیران کن حقیقت دنیا کے سامنے رکھی ہے:
کبھی چند ہزار ڈالر کا ڈرون کئی ملین ڈالر کے فوجی نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا اس تبدیلی سے الگ نہیں رہ سکتا۔
بھارت اور پاکستان دونوں ڈرون، میزائل، نگرانی، فضائی دفاع اور برقی جنگ کی صلاحیتوں پر کام کررہے ہیں۔
اس لیے جوہری ہتھیار رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ روایتی فوج کو جدید بنانے کی ضرورت ختم ہوگئی۔ بلکہ بعض اعتبار سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
کیونکہ اگر مکمل جنگ جوہری خطرے کی وجہ سے محدود ہوجاتی ہے تو مستقبل کے بیشتر فوجی تصادم اسی جوہری حد سے نیچے لڑے جاسکتے ہیں۔
اور وہاں فیصلہ ایٹمی بم نہیں بلکہ بہتر انٹیلی جنس، ڈرون، میزائل، فضائی طاقت، برقی جنگ اور تربیت کرسکتی ہے۔
قومی سلامتی کا واحد پیمانہ
پاکستان کی جوہری صلاحیت کو نہ تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے قومی سلامتی کا واحد پیمانہ سمجھا جاسکتا ہے۔ جوہری ہتھیار بنیادی طور پر ریاستوں کے درمیان انتہائی بڑے اور وجودی نوعیت کے خطرات کے خلاف بازدار قوت فراہم کرتے ہیں۔
لیکن قومی سلامتی اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔ داخلی استحکام، معیشت، سائبر سکیورٹی، سرحدی نگرانی، انسدادِ دہشت گردی، جدید روایتی فوجی صلاحیت، سفارت کاری اور ادارہ جاتی مضبوطی بھی اسی مساوات کا حصہ ہیں۔
ایٹمی ہتھیار پاکستان کو بعض بڑے خطرات سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن وہ پاکستان کو ہر خطرے سے محفوظ نہیں بناتے۔
اصل قومی سلامتی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب جوہری بازدارندگی کے ساتھ روایتی دفاع، داخلی سلامتی، معاشی استحکام اور مؤثر سفارت کاری بھی ایک دوسرے کو تقویت دیں۔
(جاری ہے)
مصنف کا تعارف
منصور لغاری امریکی فوج کے سابق اسپیشلسٹ، دفاعی و عسکری تجزیہ کار، انسانی حقوق کے کارکن اور گلوبل یوتھ یونٹی پروجیکٹ کے بانی ہیں۔ وہ بین الاقوامی سلامتی، دہشت گردی و انتہا پسندی، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جدید جنگی حکمتِ عملی پر لکھتے ہیں۔
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کرلیں۔

