• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » سیکھنے کی کہانی
کراس پوسٹ

سیکھنے کی کہانی

تحریر: یاسر جواد
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 22, 2026Updated:اگست 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

NY URDU • کراس پوسٹ

سیکھنے کی کہانی

یاسر جواد

’’تہذیب کی کہانی‘‘ ایک متواتر اضطراب میں مبتلا رکھتی ہے⁦:⁩یہ اضطراب کہ اگلی جلد میں کیا اور کس طرح پیش کیا جائے گا۔

مجھے معلوم ہے کہ پڑھنے والے بار بار پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگلی جلد کب آئے گی۔ اور کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ چھے خریدی ہیں لیکن ابھی تیسری یا دوسری ہی پڑھ رہے ہیں۔ یہ بالکل نارمل بات ہے اور اِس اضطراب میں مَیں بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں۔

جب پہلی جلد پر کام کر رہا تھا تو یہودیہ اور مصر وغیرہ کے بارے میں صفحات ترجمہ کرتے ہوئے مجھے یہ کھلبلی تھی کہ چین اور جاپان والے صفحات کب آئیں گے، کیونکہ اِن دونوں تہذیبوں کے متعلق ہماری معلومات صرف کنفیوشس اور شنتومت تک ہی محدود ہیں۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کی داستانِ تخلیق کیا ہے، وہاں تہذیب کی ترقی کا پہیہ کیسے آگے چلا اور پیچھے ہٹا، اُن لوگوں کا ادب اور موسیقی کیا ہے، وغیرہ۔

’’ہم انسان کو سوچنے کے عمل کی تربیت لیتے اور اُس سوچ کو ریکارڈ میں آتے دیکھتے ہیں۔ جو اقوام ریکارڈ نہ رکھ سکیں، وہ عظیم ہوتے ہوئے بھی ماند پڑ گئیں۔‘‘

لیکن پہلی جلد مکمل ہونے سے پہلے ہی یونان کو گہرائی میں جاننے کی بے چینی ہونے لگی جہاں فیثاغورث اور بقراط، سولون اور پیریکلیز، یوری پیڈیز اور ارسطو، سقراط اور ڈیماکریٹس، افلاطون اور سکندر ہمارے منتظر ہیں اور ایک گھومتے ہوئے کیمرے کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں۔

انسانی عدمِ اطمینان اور بغاوت، مجبوری اور اطاعت کا کھیل کھل کر کھیلا جاتا ہے۔ وہاں دیوتا اور داستانیں تخلیق ہوتی اور ہماری سوچ کے سانچوں کے لیے چند بنیادی عناصر فراہم کرتی ہیں۔ ہم انسان کو سوچنے کے عمل کی تربیت لیتے اور اُس سوچ کو ریکارڈ میں آتے دیکھتے ہیں۔ جو اقوام ریکارڈ نہ رکھ سکیں، وہ عظیم ہوتے ہوئے بھی ماند پڑ گئیں۔

تہذیب کے سفر کی اگلی منزلیں

تیسری جلد سے ایک ایسا دور شروع ہوتا ہے جس کے متعلق ہم بہت خال خال معلومات رکھتے ہیں۔ ہمیں سیزر کا نام پتا ہے، ہمیں مصر کے زوال کی محض کہانیاں معلوم ہیں، لیکن رومن تہذیب کے عروج و زوال کے محرکات سے تقریباً نابلد ہیں۔

ہم اِس جلد میں دیکھتے ہیں کہ کیسے مسیحیت ایک بے شکل مذہب تھا، اور شمشیر کی طاقت اور رومن سلطنت کا سہارا میسر آنے پر ہی اِس کو صورت اور طاقت ملی۔ جو دیوتا اور دیویاں یونان سے ورثے میں ملے تھے، اُنھوں نے رومن لباس اور نام اختیار کیے۔ فارس کی عشتار اگر یونان میں ایفرودیتی بنی تھی تو روم میں وِینس بن گئی۔ تب انتظار رہنے لگا کہ آپ چوتھی جلد میں کب اِسے ڈایانا اور کنواری اور لیڈا بنتے دیکھیں گے۔

یوں سمجھ لیں کہ خیالات اور نظریات کی طرح دیوی دیوتا بھی نام، لباس اور خصوصیات بدل بدل کر ہمارے سامنے کھیل پیش کرتے ہیں جو ہماری ہی امنگوں کا ترجمان ہے۔ سرد علاقوں کے دیوتا کھالیں پہنتے ہیں، پہاڑی علاقوں کے دیوی دیوتا اونچی چوٹیوں پر براجمان ہیں، سمندری ساحلوں پر بسنے والی اقوام اور قبیلوں کے معبود ہوائیں چلاتے اور روکتے ہیں۔

ہماری طرح ان کے درمیان بھی محبتیں، ناراضیاں، حسد، کینہ، انتقام اور شہوت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ انسانی عورت سے جنم لینے والے بچے کو چوری چھپے ہیرا دیوی کا دودھ پینے پر لگا دیا جاتا ہے اور نیند سے بیدار ہونے پر اس اجنبی بچے کو پیچھے ہٹاتی ہے تو دودھ کے چھینٹے ملکی وے کہکشاں کو نام دیتے ہیں۔

ہمیں اپنے سوچنے کے نظام اور زبان و اصطلاحات بننے کے عمل سے شناسائی ہوتی ہے۔ ہمارے مہینوں اور دنوں کے نام ترتیب پاتے ہیں۔

تاریک دور، اسلام اور یورپ

چوتھی جلد ضخیم ترین ہونے کے علاوہ اپنی جگہ ایک انوکھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ یورپ میں تاریک دور کا آغاز تھا جو تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اِس دوران عرب میں تمدن اور دولت، فتوحات اور تسخیر کا مرکز بنا، اسلام نے گرتی ہوئی بازنطینی سلطنت میں اپنی شاخیں پھیلائیں۔

اِس کے علاوہ الاستاذ یعنی ارسطو سے یورپ کو متعارف کروایا۔ امویوں اور عباسیوں کے ’’اسلامی‘‘ دور میں ایک نئی شگفتگی آئی اور ابن سینا، الرازی، الکندی اور ابن رشد کے ذریعے یورپی اقوام نے دوبارہ افلاطون اور ارسطو کو اپنایا۔

مسلم فقہا، علما اور شارحین اور سائنس دان علم کی شمع اٹلی اور روم، میلان اور جینوآ، جرمنی اور فرانس کے سپرد کر کے ایک زوال آمادہ تہذیب کی قید میں سو گئے۔

تصوف کے نظام، عقل اور الہام کا مجادلہ، علوم اور یونیورسٹیاں، جنگیں اور نفرتیں اِس تاریخ دور کا خاصہ تھیں جن سے نکلنے کے لیے یورپ کے انسانوں کو تین چار سو سال تک انتظار کرنا اور لڑنا تھا۔

انسان ابھی تک گندے پانی اور تعصب کی نکاسی کے نظام بنانے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ جاگیرداری نے تجارت کی راہ روکی، اور جغرافیہ دانوں کی کاوشوں کی نتیجے میں تجارت نے نئے بحری راستے تلاش کر کے جاگیرداری نظام کو مات دینے کا عمل شروع کیا۔

اصلاح، دریافتیں اور جدید دنیا

بحری راستوں اور نئی اقوام کی دریافت، جاگیرداری نظام کے تضادات، مذہبی طبقے کی لُوٹ مار، پوپس کی مطلق العنانیت، نئی یا مختلف سوچ کو بدعت قرار دے کر آگ میں جلانے یا پھانسی دینے والی احتسابی عدالتیں عہدِ اصلاح کا محرک بنیں۔

امریکہ سے آنے والی چاندی اور سونے کی بدولت جدت کو فروغ ملا اور شاہی باورچی خانے کے پکوان تک بدل کر رہ گئے۔ لیکن چھری اور کانٹے کے استعمال میں ابھی دو صدیاں باقی تھیں، جبکہ لیٹرین کا نظام بنانے میں چار صدیوں تک مزید انتظار کرنا تھا۔ البتہ ایسا آرٹ تخلیق ہوا کہ پھر کبھی اس کی ہمسری نہ کی جا سکی۔

پھر ہم ساتویں جلد میں پہنچتے اور دیکھتے ہیں کہ سولھویں اور سترھویں صدی میں اصلاح اور سماجی بے چینی کے باعث توہمات اور مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر جدید دور کی ابتدا ہوئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی غلامی بھی آئی⁦:⁩گوری قوموں کے ہاتھوں کالی اقوام کی غلامی۔

ساتویں جلد پر کام جاری ہے اور میں آٹھویں جلد کھول کھول کر دیکھ رہا ہوں۔ مجھے وولٹیئر اور نپولین، لاک اور کانٹ، ہوبز اور دیگر کا شدت سے انتظار ہے، کیونکہ اُن صفحات میں ہم دیکھیں گے کہ غلامی کی بدولت امیر ہونے والی تہذیبوں نے کیسے اپنی دولت کو آرٹ اور ادب، فنِ تعمیر اور پینٹنگ میں عزت بخشی۔

بقول وِل ڈیورانٹ، دولت آرٹ اور علم کی سرپرستی کے ذریعے ہی عزت اور لافانیت پاتی ہے۔

’’ہم اس انتظار میں یکساں ہیں‘‘

اِس انتظار میں ہم یکساں ہیں۔ میں خود کو اضطراب اور بے چینی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ کیونکہ مجھے تہذیب کے اِس سفر کے ریکارڈ کو آپ کے لیے قابلِ فہم بنانا اور زبان کے ذریعے ’’اپنانا‘‘ بھی ہے۔

ہم ایک بین الاقوامی اور ہمہ گیر میراث میں حصہ دار ہیں، بشرطیکہ اپنی مہیب اور ڈراؤنی تنگ نظری اور تعصب سے کچھ قدم باہر نکل کر دیکھ سکیں۔

پروجیکٹ کو اگر حکومت کی طرف سے کچھ جلدوں کا آرڈر مل جائے تو مستقبل کچھ مستحکم ہو جائے گا۔ ورنہ اپنی اور دوستوں کی مدد سے تو چل ہی رہے ہیں۔

سرکاری افسران باہم ساز باز کر کے ’’عشق خطبے میں پڑھایا جائے‘‘ کئی ڈویژنوں کی لائبریریوں میں بھجوا چکے ہیں۔ ہمارا خطبہ الگ سہی، لیکن متحرک ذہنوں کے لیے زیادہ ضروری ہے۔

یاسر جواد

یاسر جواد
یہ مضمون یاسر جواد کی
ویب سائٹ
سے کراس پوسٹ کیا جارہا ہے۔

ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔
قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
یاسر جواد
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleکیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟ پہلی قسط
Next Article ریڈکلف ایوارڈ
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.