• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » اوشا وانس کا عبدال السید کو کرارا جواب
امریکہ

اوشا وانس کا عبدال السید کو کرارا جواب

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 27, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

اوشا وانس کا مشی گن ڈیموکریٹ عبدال السید کو جواب؛ ناقدین نے بیان کو نسل پرستانہ قرار دے دیا

نائب صدر جے ڈی وانس کی اہلیہ نے عبدال السید کے سوشل میڈیا بیان پر ردعمل دیتے ہوئے معاملے کو تحمل سے لیا

واشنگٹن،⁦25⁩تا⁦27⁩اگست 2026 — سیکنڈ لیڈی اوشا وانس نے مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدال السید کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے گئے طنزیہ تبصرے کا جواب دے دیا، جسے ناقدین نے بڑے پیمانے پر ایک نسلی اشارے کے طور پر لیا۔

سیکنڈ لیڈی اوشا وانس نے مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ کے امیدوار عبدال السید کی جانب سے سوشل میڈیا پر
کیے گئے ایک طنزیہ وار کا جواب دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق عبدال السید کے تبصرے کا مفہوم یہ تھا کہ نائب صدر
جے ڈی وانس کے مرحوم دادا، جنہیں وہ محبت سے ’’پاپا‘‘ کہتے تھے، شاید اوشا وانس کی
بھارتی نسل کی وجہ سے انہیں قبول نہ کرتے۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب نائب صدر جے ڈی وانس نے اوہائیو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران عبدال السید کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
وانس نے عبدال السید کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شریعت پر تنقید کو سفید فام بالادستی سے جوڑنے والا مؤقف
ان کے دادا کے لیے ناقابلِ تصور ہوتا۔

’’میں وقت میں واپس جاکر اپنے پاپا کو بتانا چاہوں گا کہ ایک شخص جو محنت کش لوگوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،
نہ صرف یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں شریعت کا قانون ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر آپ اس پر تنقید کریں تو آپ
سفید فام بالادست ہیں۔ میرے دوستو، یہ میرے پاپا کی ڈیموکریٹک پارٹی نہیں ہے۔‘‘

اس کے جواب میں عبدال السید، جو مسلمان مصری تارکینِ وطن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بیٹے ہیں اور مشی گن کی کھلی
سینیٹ نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کا مقابلہ کر رہے ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم⁦X⁩پر لکھا:

“So do we think JD is taking Usha with him back in time to meet Papaw, or no…”

اس جملے کو ریپبلکن قانون سازوں سمیت ناقدین نے نسل پرستانہ اشارہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ ان کے مطابق اس تبصرے
سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جے ڈی وانس کے سفید فام وسط مغربی امریکی دادا دادی شاید اوشا وانس کو ان کے بھارتی نژاد ہونے کی
وجہ سے قبول نہ کرتے۔

اوشا وانس بھارتی نژاد امریکی ہیں اور ان کے والدین آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے تیلگو برہمن تارکینِ وطن تھے۔
عبدال السید کی انتخابی مہم نے فوری طور پر یہ وضاحت نہیں کی کہ اس تبصرے کا اصل مقصد کیا تھا۔

اوشا وانس کا پُرسکون جواب

فاکس نیوز کے پروگرام Fox & Friends میں اوشا وانس نے عبدال السید کے تبصرے پر غصے یا تلخی کے بجائے
تحمل سے جواب دیا۔

Fox & Friends کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں، جو⁦25⁩اور⁦26⁩اگست کے آس پاس نشر ہوا، اوشا وانس نے
عبدال السید کے تبصرے کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا۔

’’مجھے تسلیم کرنا ہوگا کہ میں اس پر کچھ ہنس پڑی۔ کیونکہ ہاں، میں جے ڈی کے ماماؤ اور پاپا سے کبھی نہیں ملی۔
لیکن میں ان کے پالے ہوئے بچوں کو جانتی بھی ہوں اور ان سے محبت بھی کرتی ہوں — ان کی والدہ، ان کی خالہ اور چچا کو۔
انہوں نے میرے ساتھ کبھی بھی بے پناہ محبت کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ان کی خالہ میرے لیے دوسری ماں کی طرح ہیں۔
مجھے یہی سوچنا ہوگا کہ اگر انہوں نے ایسے بچوں کی پرورش کی تھی تو وہ خود بھی محبت کرنے والے لوگ ہوتے، اور مجھے
واقعی، واقعی، واقعی ان سے ملنا بہت اچھا لگتا۔‘‘

اوشا وانس اور جے ڈی وانس کی خاندانی زندگی

اوشا وانس نے زور دیا کہ انہوں نے ہمیشہ جے ڈی وانس کے اوہائیو سے تعلق رکھنے والے خاندان کی جانب سے خود کو خوش آمدید
کہا ہوا محسوس کیا ہے۔ اوشا اور جے ڈی وانس کی ملاقات ییل لا اسکول میں ہوئی تھی اور دونوں نے
2014ء میں شادی کی۔

جے ڈی وانس نے اپنی⁦2016⁩ء کی یادداشت Hillbilly Elegy میں پہلے بھی لکھا تھا کہ ان کے بڑے افسوس میں سے ایک
یہ ہے کہ ان کے دادا دادی اپنی اہلیہ سے ملاقات نہ کرسکے۔

عبدال السید کے لیے سیاسی نقصان؟

اس واقعے نے مشی گن کی سینیٹ دوڑ میں سیاسی حملوں کو مزید تیز کردیا ہے۔ ریپبلکن حلقوں نے عبدال السید پر ذاتی اور
نسلی نوعیت کی بیان بازی کا الزام عائد کیا ہے اور ساتھ ہی جے ڈی وانس کے خاندان کی اپالاچین جڑوں اور محنت کش طبقے
سے وابستہ اقدار کو بھی نمایاں کیا ہے۔

ترقی پسند امیدوار اور سابق صحتِ عامہ کے عہدیدار عبدال السید اس سے قبل بھی اپنے مختلف بیانات کے باعث تنقید کا سامنا
کرچکے ہیں۔ شریعت، امیگریشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی پالیسی جیسے موضوعات پر ان کے سابقہ مؤقف پہلے ہی
ریپبلکن مخالفین کے لیے سیاسی حملے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

اوشا وانس کے اس ردعمل نے معاملے کو ایک مختلف رخ دے دیا ہے۔ جہاں عبدال السید کا تبصرہ جے ڈی وانس کے خاندانی ماضی
اور اوشا وانس کی بھارتی شناخت کو باہم جوڑنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا، وہیں سیکنڈ لیڈی نے اسے غصے کے بجائے
خاندانی محبت اور اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں جواب دیا۔

مشی گن سینیٹ کے انتخابی مقابلے کے مزید شدت اختیار کرنے کے ساتھ Fox & Friends کا مکمل انٹرویو
اوشا وانس کے نقطۂ نظر کو مزید واضح کرتا ہے۔ دوسری جانب عبدال السید کا تبصرہ ان کے مخالفین کو یہ موقع فراہم کر رہا ہے
کہ وہ ان کی سیاسی بیان بازی کو ذاتی، نسلی اور اشتعال انگیز نوعیت کی قرار دے کر ووٹرز کے سامنے پیش کریں۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleبرطانوی مسلمانوں میں شدت پسندی کا خاتمہ کیسے ہو؟
Next Article ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی میں یہودی تعلیم کی بحالی
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
امریکہ

امریکی وسط مدتی انتخابات

نومبر 3, 2026
امریکہ

مشی گان سے سینیٹ امیدوار مائیکل جوزف راجرز کی حمایت

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.