• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی میں یہودی تعلیم کی بحالی
خصوصی رپورٹ

ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی میں یہودی تعلیم کی بحالی

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 27, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

جرمنی میں ہولوکاسٹ کے بعد پہلی بار یہودی مذہبی نصابی کتب اسکولوں میں متعارف کرانے کا فیصلہ

برلن⁦/⁩فرینکفرٹ، اگست 2026 — جرمن تعلیمی نظام میں ایک تاریخی پیش رفت، یہودی مذہبی تعلیم کو باضابطہ نصاب کا حصہ بنانے کے لیے جامع نصابی کتب کا نیا سلسلہ متعارف کرایا جائے گا۔

برلن⁦/⁩فرینکفرٹ، اگست 2026 — جرمنی کے اسکولوں میں ہولوکاسٹ کے بعد پہلی مرتبہ یہودی مذہبی تعلیم کے لیے سرکاری نصاب سے ہم آہنگ باضابطہ درسی کتب متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اسے جرمنی میں یہودی مذہبی تعلیم کی بحالی اور اسے باقاعدہ تعلیمی ڈھانچے میں شامل کرنے کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آٹھ جلدوں پر مشتمل جرمن زبان کا یہ سلسلہ ’’دعات ہادوروت‘‘ (Da’at Hadorot) کے نام سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مفہوم ’’نسلوں کا علم‘‘ ہے۔ یہ منصوبہ جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل نے معروف تعلیمی اشاعتی ادارے Ernst Klett Verlag کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ یہ کتابیں تقریباً⁦10⁩سے⁦16⁩سال عمر کے طلبہ کے لیے مرتب کی گئی ہیں اور انہیں یہودی اور غیر یہودی دونوں طلبہ استعمال کرسکیں گے۔

نئے سلسلے کی پہلی جلد تورات پر مرکوز ہے، جو نئے تعلیمی سال کے آغاز پر جرمن اسکولوں میں دستیاب ہوگی۔

تورات سے یہودی تاریخ تک مختلف موضوعات شامل

اس سلسلے کی پہلی جلد تورات کے موضوع پر ہے۔ بعد کی جلدیں تقریباً ہر سال ایک کے حساب سے شائع کی جائیں گی۔ ان میں تناخ⁦(⁩عبرانی بائبل⁦)⁩، عبادت و دعا، اخلاقیات، ہلاخہ⁦(⁩یہودی قانون⁦)⁩، مذہبی تہوار، یہودی زندگی کے مختلف مراحل اور یہودی تاریخ جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔

جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر یوزف شوستر نے اس منصوبے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ایسی جامع درسی کتب کا سلسلہ تیار کیا جا رہا ہے جو سرکاری نصاب سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے معاون تدریسی مواد بھی فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے یہودی مذہبی تعلیم کو جرمن اسکولوں میں عیسائی مذہبی مضامین کے مساوی تعلیمی حیثیت دینے کی جانب اہم پیش رفت ہوگی۔

جدید اور تعاملی تعلیمی مواد

نئی نصابی کتب میں جدید تعلیمی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ کتابوں میں کیو آر کوڈز سمیت مختلف انٹرایکٹو خصوصیات شامل ہوں گی، جبکہ عبرانی اصطلاحات کے ساتھ ان کے تراجم اور تلفظ بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کے لیے مواد کو سمجھنا آسان ہو۔

یہ سلسلہ ایک ایسے عملی خلا کو بھی پُر کرے گا جس کا سامنا جرمنی میں یہودی مذہبی تعلیم دینے والے اساتذہ کو طویل عرصے سے تھا۔ اس سے قبل انہیں ایک منظم اور نصاب سے ہم آہنگ مکمل سیریز کے بجائے مختلف اور منتشر تعلیمی مواد پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

نازی دور میں یہودی تعلیم کا خاتمہ

جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے سے قبل یہودیوں کے لیے منظم مذہبی تعلیم کا باقاعدہ نظام موجود تھا۔ یہودی طلبہ کو رسمی مذہبی تعلیم دی جاتی تھی اور بڑے شہروں میں یہودیوں کے لیے مخصوص اسکول بھی قائم تھے۔

تاہم نازی حکومت نے⁦1938⁩ء میں یہودی بچوں کو جرمن اسکولوں سے خارج کردیا۔ اس کے بعد یہودی اسکول بھی بند کیے گئے اور⁦1942⁩ء تک یہودی مذہبی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ اس طرح نازی دور میں یہودی تعلیمی اور مذہبی اداروں کا منظم نظام تقریباً ختم ہوگیا۔

نئی نصابی کتب کی اشاعت ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی میں یہودی مذہبی تعلیم کی بحالی، ادارہ جاتی استحکام اور نئی نسل تک یہودی علمی و مذہبی روایت منتقل کرنے کی ایک نمایاں کوشش ہے۔

یہودی زندگی اور تاریخ کے بارے میں آگاہی کی وسیع کوشش

یہ اقدام جرمنی میں یہودی زندگی، تاریخ اور ثقافت کے بارے میں تعلیمی آگاہی بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ جرمنی میں یہودی مخالف تعصب اور سام دشمنی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں تعلیمی اداروں میں یہودی تاریخ اور مذہبی و ثقافتی روایت کو زیادہ جامع اور درست انداز میں پیش کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

یہ منصوبہ جرمنی کی یہودیوں کی مرکزی کونسل اور ملک کے وزرائے تعلیم کے درمیان ماضی میں ہونے والے مشترکہ اعلانات کی بنیاد پر بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد اسکولوں میں یہودیت کو محض تاریخی تناظر میں نہیں بلکہ ایک زندہ مذہبی، ثقافتی اور سماجی روایت کے طور پر زیادہ جامع انداز میں متعارف کرانا ہے۔

ہولوکاسٹ کے بعد ایک اہم تعلیمی سنگ میل

جرمن اسکولوں میں یہودی مذہبی تعلیم کے لیے اس جامع نصابی سلسلے کا آغاز محض نئی درسی کتابوں کی اشاعت نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی خلا کو پُر کرنے کی کوشش بھی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے یہودی طلبہ کو اپنی مذہبی اور ثقافتی روایت سے منظم انداز میں جڑنے کا موقع ملے گا، جبکہ غیر یہودی طلبہ بھی یہودیت، یہودی تاریخ اور ثقافت کو براہِ راست تعلیمی نصاب کے ذریعے سمجھ سکیں گے۔

جرمنی میں ہولوکاسٹ کی تاریخ کے بعد یہ پیش رفت اس امر کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام مذہبی تنوع، تاریخی شعور اور باہمی تفہیم کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔

برلن⁦/⁩فرینکفرٹ | اگست 2026

موضوع: جرمنی، یہودی مذہبی تعلیم، ہولوکاسٹ، یہودی تاریخ، تعلیمی نصاب، سام دشمنی

برلن تعلیمی نصاب تناخ تورات جرمن اسکول جرمن تعلیم جرمنی دعات ہادوروت سام دشمنی فرینکفرٹ ہولوکاسٹ یہودی تاریخ یہودی ثقافت یہودی مذہبی تعلیم یہودیت
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاوشا وانس کا عبدال السید کو کرارا جواب
Next Article سُہیلہ : “ تقدسِ حرف کا جولاہا”
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.