سُہیلہ : “ تقدسِ حرف کا جولاہا”
دل کی دنیا کوئی عام بستی نہیں ہے اور جذبات سے نبرد آزما ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انسانی احساسات اتنے نازک، پیچیدہ اور گنجلک ہوتے ہیں کہ ان کے طوفان میں مثبت سمت برقرار رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
لیکن جب میں نذیر قیصر صاحب کی شاعری اور ان کی شخصیت کو دیکھتا ہوں، تو یوں لگتا ہے جیسے وہ کائنات کے کوئی الٰہی سفیر ہوں، جنہیں محبت اور امن کا پیغام پھیلانے کے لیے چنا گیا ہو۔
جذبات کی تلخی کو مثبت توانائی میں بدل دینا نذیر قیصر کا وہ خاص وصف ہے جو کسی اور میں نظر نہیں آتا۔ وہ صرف شاعری نہیں کرتے، وہ تو مقدس اور سحر انگیز لفظوں کے تانے بانے سے محبت، امن اور دھیمے رومانس کی ریشمی چادر بُنتے ہیں۔
ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ عشق کی مٹی اور گارے سے بنا ہوا ’’عاشقوں کا ایک ایسا گھر‘‘ ہے جہاں ہر تھکا ہارا مسافر پناہ پا سکتا ہے۔
نذیر قیصر صاحب کی گفتگو میں جو گہرا گیان، حکمت اور خلوص ہے، اسے سنتے ہوئے ہمیشہ یوں لگا جیسے ہم کسی یونیورسٹی کے ایسے کمرۂ جماعت میں بیٹھے ہوں جہاں کا واحد موضوع ہی ’’عشق، زندگی اور زندگی کو محبت کے ساتھ جینا‘‘ ہے۔
ہمارے دور میں نذیر قیصر صاحب کی موجودگی محض شاعری نہیں، ایک زندہ معجزہ ہے۔ ان کا کلام انسان کو مٹی سے اٹھا کر افلاک تک جوڑ دیتا ہے۔
وہ انسانی وجود کو کائنات کے وجود سے الگ نہیں دیکھتے۔ انہوں نے کبھی زندگی کی پاکیزہ توانائی کو لایعنی بحثوں یا مایوس کن باتوں میں ضائع نہیں کیا۔ وہ ہمارے دور کے ایک ایسے زندہ درخشندہ ستارے ہیں جو تاریخ میں زندگی کی مثبت موجودگی کے بیج بو رہے ہیں۔
مجھے یاد نہیں کہ میری کتنی ہی بار تبدیلیاں ہوئیں، کتنے شہر بدلے، مگر ایک سایہ تھا جو ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔ وہ مہربان انسان، قیصر صاحب، اپنے اہلِ خانہ سمیت، میرے ہر نئے آستانے پر پہنچ جاتے۔ ہم شام ڈھلے بیٹھتے۔ ان کے کلام کی دھیمی آنچ سے کمرے کا ہر گوشہ معطر ہو جاتا۔
ان کی موجودگی میں بیٹھنا ایسے تھا جیسے انسان کسی عبادت گاہ میں سراپا نیاز ہو گیا۔
دنیا میں اتنی نرم خوئی، اتنی عاجزی میں نے کسی اور چہرے پر نہیں دیکھی۔ وہ محبت جو انسان کو انسان سے اور خدا سے ملا دے، ان کے وجود کا پتہ دیتی ہے۔
قدیم دانشوروں کی طرح جنہوں نے کائناتی لوگوس(کلمۂ حق)کو مقدس تحریروں میں پرویا، نذیر قیصر زندگی کے عارضی اور خام رنگوں کو سمیٹتے ہیں اور—محبت کی پُرخلوص کیمیا گری کے ذریعے—انہیں ایک ایسے آسمانی مَن و سلویٰ میں تبدیل کر دیتے ہیں جو آج کے انسان کی روح کو سیراب کرتا ہے۔

