خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اُس پالیسی کو جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ پالیسی سابق حکومت کے مؤقف کا تسلسل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے تحت امریکی طیارے بحر ہند میں واقع ڈیگو گارسیا فوجی اڈے اور انگلینڈ میں رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے کو استعمال کرتے رہیں گے، تاکہ وہ ایسی کارروائیاں انجام دے سکیں جن کا مقصد، لندن کے مطابق، ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کرنا اور ان مقامات کو نشانہ بنانا ہے جہاں سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق سابق برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے17جولائی کو حکومتی ہنگامی کمیٹی”کوبرا”کے اجلاس کی سربراہی کی، جس میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانوی پالیسی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد20جولائی کو حکومت سنبھالنے والے اینڈی برنہم کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا، اور انہوں نے بھی پالیسی کے تسلسل کی منظوری دے دی۔
سابقہ پالیسی کا تسلسل
یہ فیصلہ برطانیہ کے سابق مؤقف کا تسلسل ہے، جس کے تحت لندن کی جانب سے دفاعی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے دونوں فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی حکومت واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین ایسی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی جن کا مقصد ایرانی شہری بنیادی ڈھانچے یا توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل جاری ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم سے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ٹرمپ نے اس بات چیت کو”بہت اچھی”قرار دیا اور واشنگٹن اور لندن کے درمیان مضبوط تعلقات کی تصدیق کی۔

